ٹیگ کے محفوظات: درمیان

بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
نہ باز آئے یہ لُو اور نہ تن سے جاں نکلے
بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے
ہمیں بہار کے ہونٹوں کی نرمیوں کے امیں
ہمیں وہ برگ کہ پیغمبرِ خزاں نکلے
جہاں گلاب سخن کے سجائے تھے ہم نے
شرر بھی کچھ اُنہی حرفوں کے درمیان نکلے
زخستگی لبِ اظہار کا تو ذکر ہی کیا
کشش سے جیسے قلم کی بھی اب دھواں نکلے
ہمارا حال جبیں سے ہی جاننا اچھا
زباں سے کیا کوئی اب کلمۂ گراں نکلے
حضورِ یار ہیں وہ جاں سپار ہم ماجدؔ
ہو حکمِ قتل بھی اپنا تو منہ سے ہاں نکلے
ماجد صدیقی

پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 196
ہم کو سودا تھا سر کے مان میں تھے
پاؤں پھسلا تو آسمان میں تھے
ہے ندامت لہو نہ رویا دل
زخم دل کے کسی چٹان میں تھے
میرے کتنے ہی نام اور ہم نام
میرے اور میرے درمیان میں تھے
میرا خود پر سے اِعتماد اُٹھا
کتنے وعدے مری اُٹھان میں تھے
تھے عجب دھیان کے در و دیوار
گرتے گرتے بھی اپنے دھیان میں تھے
واہ! اُن بستیوں کے سنّاٹے
سب قصیدے ہماری شان میں تھے
آسمانوں میں گر پڑے یعنی
ہم زمیں کی طرف اُڑان میں تھے
جون ایلیا

زلفوں کی درہمی سے برہم جہان مارا

دیوان دوم غزل 717
اس کام جان و دل نے عالم کا جان مارا
زلفوں کی درہمی سے برہم جہان مارا
بلبل کا آتشیں دم دل کو لگا ہمارے
ایسا کنھوں نے جیسے چھاتی میں بان مارا
خوں کچھ نہ تھا ہمارا مرکوز خاطر اس کو
للہ اک ہمیں بھی یوں درمیان مارا
سرچشمہ حسن کا وہ آیا نظر نہ مجھ کو
اس راہزن نے غافل کیا کاروان مارا
صبر و حواس و دانش سب عشق کے زبوں ہیں
میں کاوش مژہ سے عالم کو چھان مارا
کیا خون کا مزہ ہے اے عشق تجھ کو ظالم
ایک ایک دم میں تونے سو سو جوان مارا
ہم عاجزوں پر آکر یوں کوہ غم گرا ہے
جیسے زمیں کے اوپر اک آسمان مارا
کب جی بچے ہے یارو خوش رو و مو بتاں سے
گر صبح بچ گیا تو پھر شام آن مارا
کہتے نہ تھے کہ صاحب اتنا کڑھا نہ کریے
اس غم نے میر تم کو جی سے ندان مارا
میر تقی میر

وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے

دیوان اول غزل 609
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
داغ فراق و حسرت وصل آرزوے دید
کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں
نکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر
کیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم
اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
آنے کا اس چمن میں سبب بے کلی ہوئی
جوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں
القصہ خوش گذرتی ہے اس بدگمان سے
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد
میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
داغوں سے ہے چمن جگر میر دہر میں
ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
میر تقی میر

ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا

دیوان اول غزل 111
خط منھ پہ آئے جاناں خوبی پہ جان دے گا
ناچار عاشقوں کو رخصت کے پان دے گا
سارے رئیس اعضا ہیں معرض تلف میں
یہ عشق بے محابا کس کو امان دے گا
پاے پر آبلہ سے میں گم شدہ گیا ہوں
ہر خار بادیے کا میرا نشان دے گا
داغ اور سینے میں کچھ بگڑی ہے عشق دیکھیں
دل کو جگر کو کس کو اب درمیان دے گا
نالہ ہمارا ہر شب گذرے ہے آسماں سے
فریاد پر ہماری کس دن تو کان دے گا
مت رغم سے ہمارے پیارے حنا لگائو
پابوس پر تمھارے سر سو جوان دے گا
ہوجو نشانہ اس کا اے بوالہوس سمجھ کر
تیروں کے مارے سارے سینے کو چھان دے گا
اس برہمن پسر کے قشقے پہ مرتے ہیں ہم
ٹک دے گا رو تو گویا جی ہم کو دان دے گا
گھر چشم کا ڈبو مت دل کے گئے پہ رو رو
کیا میر ہاتھ سے تو یہ بھی مکان دے گا
میر تقی میر

مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 77
اسیرِ حافظہ ہو، آج کے جہان میں آؤ
مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ
پئے ثبات، تغیّر پکارتے ہوئے گزرے
چھتیں شکستہ ہیں نکلو، نئے مکان میں آؤ
زمیں کا وقت سے جھگڑا ہے خود نپٹتے رہیں گے
کہا ہے کس نے کہ تم ان کے درمیان میں آؤ
یہ آٹھ پہر کی دنیا تمہیں بتاؤں کہ کیا ہے!
نکل کے جسم سے کچھ دیر اپنی جان میں آؤ
تمہیں تمہاری الف دید میں میں دیکھنا چاہوں
نظر بچا کے زمانے سے میرے دھیان میں آؤ
آفتاب اقبال شمیم

تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 82
میں چلا تھا سوچ کے اور کچھ کہ کچھ اور دھیان میں آگیا
تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا
نہ وہ خواب ہیں نہ سراب ہیں نہ وہ داغ ہیں نہ چراغ ہیں
یہ میں کس گلی میں پہنچ گیا، یہ میں کس مکان میں آگیا
یہ لگن تھی خاک اُڑائیے، کبھی بارشوں میں نہائیے
وہ ہوا چلی وہ گھٹا اُٹھی تو میں سائبان میں آگیا
نہ سخن حکایت حال تھا، نہ شکایتوں کا خیال تھا
کوئی خار دشت ملال تھا جو مری زبان میں آگیا
عرفان صدیقی

بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 521
فراق بیچتے کیسے، پلان کیا کرتے
بدن کے شہر میں دل کی دکان کیا کرتے
ہمیں خبر ہی نہ تھی رات کے اترنے کی
سو اپنے کمرے کا ہم بلب آن کیا کرتے
نکل رہی تھی قیامت کی دھوپ ایٹم سے
یہ کنکریٹ بھرے سائبان کیا کرتے
تھلوں کی ریت پہ ٹھہرے ہوئے سفینے پر
ہوا تو تھی ہی نہیں بادبان کیا کرتے
بدن کا روح سے تھا اختلاف لیکن ہم
خیال و واقعہ کے درمیان کیا کرتے
فلک نژاد تھے اور لوٹ کے بھی جانا تھا
زمیں کے کس طرح ہوتے، مکان کیا کرتے
نمازاوڑھ کے رکھتے تھے، حج پہنتے تھے
ترے ملنگ تھے ہم ،دو جہان کیا کرتے
دکانِ دین فروشی پہ بِک رہا تھا تُو
تجھے خریدتے کیسے ، گمان کیا کرتے
نہ ہوتی صبحِ محمدثبوتِ حق کیلئے
تو یہ چراغوں بھرے آسمان کیا کرتے
پھر اس کے بعد بلندی سے کیا ہمیں منصور
مقامِ عرش سے کوئی اڑان کیا کرتے
منصور آفاق