ٹیگ کے محفوظات: درد

عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 96
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی !
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا
یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد

دیوان پنجم غزل 1601
اس سے نہ الفت ہو مجھ کو تو ہووے نہ میرا چہرہ زرد
ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد
ملنے میں خنکی ہی کرتا وہ کاشکے پہلے چاہ کے دن
گرمی نہ ہوتی آپس میں تو کھنچتی نہ ہر دم آہ سرد
برسوں میں اقلیم جنوں سے دو دیوانے نکلے تھے
میر آوارئہ شہر ہوا ہے قیس ہوا ہے بیاباں گرد
میر تقی میر

دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا

دیوان پنجم غزل 1553
پھرتے پھرتے اس کے لیے میں آخر دشت نورد ہوا
دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا
جیتے جی میت کے رنگوں لوگ مجھے اب پاتے ہیں
جوش بہار عشق میں یعنی سرتا پا میں زرد ہوا
گرم مزاج رہا نہیں اپنا ویسے اس کے ہجراں میں
ہوتے ہوتے افسردہ دیکھوگے اک دن سرد ہوا
میر نہ اپنے درد دل کو مجھ سے کہا کر روز وشب
صبح جو گوش دل سے سنا تھا دل میں میرے درد ہوا
میر تقی میر

آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے

دیوان دوم غزل 1033
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے
مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں مناسبت
میں شہر بند ہوں وہ بیاباں نورد ہے
کیا جانیے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ
چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے
واصل بحق ہوئے نہ جو ہم جان سے گئے
غیرت ہو کچھ مزاج میں جس کے وہ مرد ہے
ممکن نہیں کہ وصف علیؓ کوئی کر سکے
تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے
ٹھہرے نہ چرخ نیلی پہ انجم کی چشم شوخ
اس قصر میں لگا جو ہے کیا لاجورد ہے
کس سے جدا ہوئے ہیں کہ ایسے ہیں دردمند
منھ میر جی کا آج نہایت ہی زرد ہے
میر تقی میر

یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد

دیوان اول غزل 197
کیا ہے یہ جو گاہے آجاتی ہے آندھی کوئی زرد
یا بگولا جو کوئی سر کھینچے ہے صحرا نورد
شوق میں یہ محمل لیلیٰ کے ہو کر بے قرار
اک نہاد وادی مجنوں سے اٹھ چلتی ہے گرد
وجہ دم سردی نہیں میں جانتا رونے کے بعد
مینھ برسا ہے کہیں شاید ہوا آتی ہے سرد
مار رکھا باطن پیر مغاں نے شیخ کو
مل گیا اس پیر زن کو غیب سے ایک پیرمرد
ایک شب پہلو کیا تھا گرم ان نے تیرے ساتھ
رات کو رہتا ہے اکثر میر کے پہلو میں درد
میر تقی میر

اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا

دیوان اول غزل 126
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ
کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں
واں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا
دل بھی مرا جریدئہ عالم میں فرد تھا
تھا پشتہ ریگ بادیہ اک وقت کارواں
یہ گردباد کوئی بیاباں نورد تھا
گذری مدام اس کی جوانان مست میں
پیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
عاشق ہیں ہم تو میر کے بھی ضبط عشق کے
دل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
میر تقی میر

درد

سرسراہٹ ہے

نہ آہٹ ہے

نہ ہلچل ،

نہ چبھن

درد چپ چاپ

کسی دھیمی ندی کے جیسے

سانس لیتی ہوئی

گانٹھوں میں

اُتر آیا ہے

کتنے برسوں کی

ریاضت سے

ہنر مندی سے

ایسے بکھرے ہوئے

ریشوں کو سمیٹا ہے مگر

اور ہر بار

ہر اِک بار

بہت جتنوں سے

جسم کو جان سے

جوڑا ہے مگر

گانٹھ در گانٹھ

کہیں سانس کی کٹتی ڈوری

کب سے تھامے ہوئے

بیٹھے ہیں مگر

آج نہیں …

یا کہیں درد تھمے

اور سکوں مل جائے

یا کوئی گانٹھ کھلے

اور قرار آ جائے …

گلناز کوثر

ناراض ہو گئے مرے ہمدرد بے سبب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 136
کچھ موتیے کے پھول ہوئے زرد بے سبب
ناراض ہو گئے مرے ہمدرد بے سبب
ویسے ہی محوِ آئینہ داری تھی میری آنکھ
پھیلی ہے میرے چاروں طرف گرد بے سبب
کرتا رہا ہے میرا تعاقب تمام دن
شہرِ شبِ سیہ کا کوئی فرد بے سبب
یہ سچ ہے اس سے کوئی تعلق نہیں مرا
پھرتا ہے شہر جاں میں کوئی درد بے سبب
شامِ وصال آئی تھی آ کر گزر گئی
جاگا ہے مجھ میں سویا ہوا مرد بے سبب
گرتی رہی ہے برف مگر بس خیال میں
منصور میرا کمرہ ہوا سرد بے سبب
منصور آفاق