ٹیگ کے محفوظات: درتر

کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک

دیوان اول غزل 259
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک
کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا
خزف سے لے کے دیکھا درتر تک
جسے شب آگ سا دیکھا سلگتے
اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
ترا منھ چاند سا دیکھا ہے شاید
کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک
جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر
گیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک
ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک
پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک
کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار
ولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق
کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
یہی دردجدائی ہے جو اس شب
تو آتا ہے جگر مژگان تر تک
دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں
اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک
کہاں پھر شور شیون جب گیا میر
یہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک
میر تقی میر