ٹیگ کے محفوظات: دربدر

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب

کرتے نہ ہم جو اہلِ وطن اپنا گھر خراب
ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب
اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے
اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب
اک بار جو اتر گیا پٹٹری سے دوستو
دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب
منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے
اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب
ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک
ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب
اے دل مجھے پتہ ہے کہ لایا ہے تو کہاں
چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب
اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش
پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب
اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے
کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوئے کمالِ ہنر خراب
اِس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بِلا سبب
صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب
لگتا ہے اِن کو زنگ کسی اور رنگ کا
کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب
اک قدر داں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک
ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب
خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے
آئی ہے آج پھر کوئی گھرسے خبر خراب
باصر کاظمی

زندگانی ہی درد سر ہے اب

دیوان چہارم غزل 1355
درد سر کا پہر پہر ہے اب
زندگانی ہی درد سر ہے اب
وہ دماغ ضعیف بھی نہ رہا
بے دماغی ہی بیشتر ہے اب
کیا ہمیں ہم تو ہو چلے ٹھنڈے
گرم گو یار کی خبر ہے اب
کیا کہیں حال خاطر آشفتہ
دل خدا جانیے کدھر ہے اب
عزلتی میر جوں صبا اس بن
خاک بر سر ہے دربدر ہے اب
میر تقی میر

یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 67
اک مسلسل رتجگا سورج کے گھر نازل ہوا
یعنی ہجراں کا بدن مثلِ سحر نازل ہوا
زندگی میری رہی مثبت رویوں کی امیں
میری آنکھوں پر مرا حسن نظر نازل ہوا
اس پہ اترا بات کو خوشبو بنا دینے کا فن
مجھ پہ اس کو نظم کرنے کا ہنر نازل ہوا
کوئی رانجھے کی خبر دیتی نہیں تھی لالٹین
خالی بیلا رات بھر بس ہیر پر نازل ہوا
اس محبت میں تعلق کی طوالت کا نہ پوچھ
اک گلی میں سینکڑوں دن کا سفر نازل ہوا
وقت کی اسٹیج پر بے شکل ہو جانے کا خوف
مختلف شکلیں بدل کر عمر بھر نازل ہوا
جاتی کیوں ہے ہر گلی منصور قبرستان تک
یہ خیالِ زخم خوردہ دربدر نازل ہوا
منصور آفاق