ٹیگ کے محفوظات: دربان

پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
پل بھر میں دھُنک جاتے ہیں ابدان کئی
بٹتا دیکھ کے ریزوں میں مجبوروں کو
تھپکی دینے آ پہنچے ذی شان کئی
شاہ کا در تو بند نہ ہو پل بھر کو بھی
راہ میں پڑتے ہیں لیکن دربان کئی
طوفاں میں بھی گھِر جانے پر، غفلت کے
مرنے والوں پر آئے بہتان کئی
دل پر جبر کرو تو آنکھ سے خون بہے
گم سم رہنے میں بھی ہیں بحران کئی
ہم نے خود دیکھا ہاتھوں زورآور کے
قبرستان بنے ماجد دالان کئی
ماجد صدیقی

احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 44
گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے
احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے
نشتر سے کم نہیں ہے کچھ چھیڑ آرزو کی
عاشق مزاج کیوں کر ارمان کر کے بھولے
وعدہ کیا پھر اُس پر تم نے قسم بھی کھائی
کیا بھول ہے انساں پیمان کر کے بھولے
وعدے کی شب رہا ہے کیا انتظار مجھ کو
آنے کا وہ یہاں تک سامان کر کے بھولے
اپنے کئے پہ نازاں ہو آدمی نہ ہر گز
طاعت ہو یا اطاعت انسان کر کے بھولے
خود ہی مجھے بلایا پھر بات بھی نہ پوچھی
وہ انجمن میں اپنی مہمان کر کے بھولے
یہ بھول بھی ہماری ہے یادگار دیکھو
دل دے کے مفت اپنا نقصان کر کے بھولے
تم سے وفا جو کی ہے ہم سے خطا ہوئی ہے
ایسا قصور کیوں کر انسان کر کے بھولے
آخر تو آدمی تھے نسیان کیوں نہ ہوتا
میری شناخت شب کو دربان کر کے بھولے
اب یاد ہے اُسی کی فریاد ہے اُسی کی
سارے جہاں کو جس کا ہم دھیان کر کے بھولے
اب عشق کا صحیفہ یوں دل سے مٹ گیا ہے
جس طرح یاد کوئی قرآن کر کے بھولے
اے داغ اپنا احساں رکھے گا یاد قاتل
وہ اور میری مشکل آسان کر کے بھولے
داغ دہلوی

جان حیران ہو گئی ہو گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 148
جب تری جان ہو گئی ہو گی
جان حیران ہو گئی ہو گی
شب تھا میری نگاہ کا بوجھ اس پر
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی
اس کی خاطر ہوا میں خار بہت
وہ میری آن ہو گئی ہو گی
ہو کے دشوار زندگی اپنی
اتنی آسان ہو گئی ہو گی
بے گلہ ہوں میں اب بہت دن سے
وہ پریشان ہو گئی ہو گی
اک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی
اس کے کوچے میں آئی تھی شیریں
اس کی دربان ہو گئی ہو گی
کمسنی میں بہت شریر تھی وہ
اب تو شیطان ہو گئی ہو گی
جون ایلیا

صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ

دیوان دوم غزل 788
آگ سا تو جو ہوا اے گل تر آن کے بیچ
صبح کی بائو نے کیا پھونک دیا کان کے بیچ
ہم نہ کہتے تھے کہیں زلف کہیں رخ نہ دکھا
اک خلاف آیا نہ ہندو و مسلمان کے بیچ
باوجود ملکیت نہ ملک میں پایا
وہ تقدس کہ جو ہے حضرت انسان کے بیچ
پاسباں سے ترے کیا دور جو ہو ساز رقیب
ہے نہ اک طرح کی نسبت سگ و دربان کے بیچ
جیسی عزت مری دیواں میں امیروں کے ہوئی
ویسی ہی ان کی بھی ہو گی مرے دیوان کے بیچ
ساتھ ہے اس سر عریاں کے یہ وحشت کرنا
پگڑی الجھی ہے مری اب تو بیابان کے بیچ
وے پھری پلکیں اگر کھب گئیں جی میں تو وہیں
رخنے پڑ جائیں گے واعظ ترے ایمان کے بیچ
کیا کہوں خوبی خط دیکھ ہوئی بند آواز
سرمہ گویا کہ دیا ان نے مجھے پان کے بیچ
گھر میں آئینے کے کب تک تمھیں نازاں دیکھوں
کبھو تو آئو مرے دیدئہ حیران کے بیچ
میرزائی کا کب اے میر چلا عشق میں کام
کچھ تعب کھینچنے کو تاب تو ہو جان کے بیچ
میر تقی میر

سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں

دیوان اول غزل 369
عشق کرنے کو جگر چاہیے آسان نہیں
سب کو دعویٰ ہے ولے ایک میں یہ جان نہیں
غارت دیں میں نگہ خصمی ایماں میں ادا
تجھ کو کافر نہ کہے جو وہ مسلمان نہیں
سرسری ملیے بتوں سے جو نہ ہوتاب جفا
عشق کا ذائقہ کچھ داخل ایمان نہیں
ایک بے درد تجھے پاس نہیں عاشق کا
ورنہ عالم میں کسے خاطرمہمان نہیں
کیونکے غم سرزدہ ہر لحظہ نہ آوے دل میں
گھر ہے درویش کا یاں در نہیں دربان نہیں
ہم نشیں آہ نہ تکلیف شکیبائی کر
عشق میں صبر و تحمل ہو یہ امکان نہیں
کس طرح منزل مقصود پہ پہنچیں گے میر
سفر دور ہے اور ہم کنے سامان نہیں
میر تقی میر

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

دیوان اول غزل 108
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میں
دو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا
ہیں اس خراب دل سے مشہور شہرخوباں
اس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا
مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنا
یوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا
ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائے
ان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا
ہم وے ہیں سن رکھو تم مرجائیں رک کے یک جا
کیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا
ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکے
کہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا
کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہد
دیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا
خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گا
یعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا
ماہیت دوعالم کھاتی پھرے ہے غوطے
یک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا
نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاں
غافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا
کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدس
روح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے
گھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھ
کس منھ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا
بنجر زمین دل کی ہے میر ملک اپنی
پر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا
میر تقی میر