ٹیگ کے محفوظات: درباریوں

زندگی دشواریوں میں محو ہے

موت کی تیاریوں میں محو ہے
زندگی دشواریوں میں محو ہے
بچنا بیلوں کا بہت مشکل ہے اب
لومڑی مکاریوں میں محو ہے
کیا بنے گا میرے پاکستان کا
ہر کوئی غداریوں میں محو ہے
بےغرض بےکار بیٹھا ہے یہاں
خود نما خودداریوں میں محو ہے
قصر ڈھایا جا چکا لیکن ابھی
بارشہ درباریوں میں محو ہے
مر گیا تو کیا ہوا مرنا ہی تھا!
کون آہ و زاریوں میں محو ہے؟؟
سُن! زمیں کرب و بلا بننے لگی
اور تو دلداریوں میں محو ہے!!
یا خدا ! چشمِ نفس کو کیا ہوا؟
کھڑکیوں الماریوں میں محو ہے
چھوڑ دے پیچھا فلک کا ، وہ اگر
عورتوں بےچاریوں میں محو ہے،
افتخار فلک

کرتا ہوں زندگی ولے نا چاریوں کے ساتھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
کچھ مصلحت بھی جوڑ کے خود داریوں کے ساتھ
کرتا ہوں زندگی ولے نا چاریوں کے ساتھ
خوشحال ہو گئے ہیں مگر خود کو بیچ کر
آسانیاں بھی جھیلئے دشواریوں کے ساتھ
لگتی نہیں تھیں ایڑیاں جس کی زمین پر
بیٹھا ہوا ہے فرش کی ہمواریوں کے ساتھ
سونے دیا نہ جاگنے والے کے خبط نے
یہ رات بھی کٹی بڑی بیزاریوں کے ساتھ
تنہائیوں کا کنج معطر ہے اس لئے
چلتی ہے میری سانس مری یاریوں کے ساتھ
دورِ بعید شاہ پرستی کا فرد ہوں
پھر کیا ہو واسطہ مرا درباریوں کے ساتھ
آفتاب اقبال شمیم