ٹیگ کے محفوظات: دانہ

تباہی پر مری راضی زمانہ ہو گیا ہے

یہ سمجھو ختم اب سارا فسانہ ہو گیا ہے
تباہی پر مری راضی زمانہ ہو گیا ہے
یہ سادہ لَوح و ناداں لوگ تیری انجمن کے
بہت خوش ہیں ، چَلو! کوئی ٹھِکانہ ہو گیا ہے
وہ حفظِ ما تَقَدُّم میں کرے گا قتل سب کو
اُسے حاصل نیا اب یہ بَہانہ ہو گیا ہے
جنابِ دل! کسی اب اَور ہی کوچے کو چَلئے
یہاں پر ختم اپنا آب و دانہ ہو گیا ہے
نہ جانے کیوں کبھی بَنتی نہیں حُسن و خِرَد میں
وہاں جو بھی گیا جا کر دِوانہ ہو گیا ہے
پریشاں بھی بہت ہے اَور کچھ اُلجھی ہُوئی بھی
تنازُع کوئی بَینِ زلف و شانہ ہو گیا ہے
ذرا ٹھیَرو! مسیحا کا پیام آیا ہے، ضامنؔ!
ہُوئی تاخیر لیکن اب روانہ ہو گیا ہے
ضامن جعفری

ایک چھوٹی سی کہانی جو فسانہ ہو گیا

یاد بھی تُم کو نَہ ہو شاید زمانہ ہو گیا
ایک چھوٹی سی کہانی جو فسانہ ہو گیا
تھے حَسیں لیکن نہ تھا تُم کو ہنوز احساسِ حُسن
جو قدم اُٹّھا ادائے کافرانہ ہو گیا
چارَہ گَر! کُچھ تھا مِزاجِ حُسن ہی بَدلا ہُوا
میرا حَرفِ آرزُو تَو بَس بَہانہ ہو گیا
باغباں کا حُکم ہے سو کُوچ کر اے مُرغِ دِل
اِس چمن میں ختم تیرا آب و دانَہ ہو گیا
کون سی نیکی خُدا جانے تِرے کام آگئی
ہو مبارک اُن سے ضامنؔ دوستانہ ہو گیا
ضامن جعفری

تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ

نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم کہیَں تَو کس سے کہیَں فسانہ
تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ
بسی تَو بستی ہمارے دل کی چلو بالآخر اِسی بَہانے
مِلا نہ کون و مکاں میں رنج و غم و اَلَم کو کوئی ٹھکانہ
قسم ہے تجھ کو بھی اے ستمگر شریکِ بزمِ طرب ہو آ کر
زمانہ خوشیاں منا رہا ہے جلا رہا ہُوں میں آشیانہ
جہاں کی نیرنگیوں سے شکوہ ہو کیا کہ تم خود بدل گئے ہو
نظر اُٹھاؤ اِدھر تَو دیکھو بنا رہے ہو عبَث بہانہ
ہر اِک طبیعت ہوئی ہے مضطر ہر اِک کو بھُولا ہے روزِ محشر
بہت پریشاں ہیں آج وہ بھی حضورِ حق ہے مرا فسانہ
سکونِ دل آج بھی ہے غارت ملے نہیں گو کہ مدّتوں سے
قدم قدم پر ہے بے قراری کو یادِ ماضی کا تازیانہ
وہ کس رعونت سے کہہ رہے ہیں اگر نہ ہَوں ہم کسی کے ضامنؔ
تو وہ سمجھ لے کہ اُٹھ گیا اِس جہان سے اُس کا آب و دانہ
ضامن جعفری

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 82
دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اے خدا درد دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
اب تو اپنا بھی اس گلی میں‌فراز
آنا جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں
احمد فراز

کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

دیوان اول غزل 125
تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا
چشم بن اشک ہوئی یا نہ ہوئی یکساں ہے
خاک میں جب وہ ملا موتی کا دانہ ہی گیا
بر مجنوں میں خردمند کوئی جا نہ سکا
عاقبت سر کو قدم کر یہ دوانہ ہی گیا
ہم اسیروں کو بھلا کیا جو بہار آئی نسیم
عمر گذری کہ وہ گلزار کا جانا ہی گیا
جی گیا میر کا اس لیت و لعل میں لیکن
نہ گیا ظلم ہی تیرا نہ بہانہ ہی گیا
میر تقی میر

دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 275
ہاں اے دلِ دیوانہ حریفانہ اٹھا لے
دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے
خاک اڑتی ہے سینے میں بہت رقص نہ فرما
صحرا سے مری جان پری خانہ اٹھا لے
تم کیا شررِ عشق لیے پھرتے ہو صاحب
اس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اٹھا لے
یار اتنے سے گھر کے لیے یہ خانہ بدوشی
سر پر ہی اٹھانا ہے تو دُنیا نہ اٹھا لے
پھر بار فقیروں کا اٹھانا مرے داتا
پہلے تو یہ کشکولِ فقیرانہ اٹھا لے
جو رنج میں اس دل پہ اٹھایا ہوں اسے چھوڑ
تو صرف مرا نعرۂ مستانہ اٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اٹھانا
ہر شخص ترا عشوۂ ترکانہ اٹھا لے
لو صبح ہوئی موجِ سحر خیز ادھر آئے
اور آکے چراغِ شبِ افسانہ اٹھا لے
ہم لفظ سے مضمون اٹھا لاتے ہیں جیسے
مٹی سے کوئی گوہرِ یک دانہ اٹھا لے
عرفان صدیقی

فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 88
زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا
فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا
میں بھر لایا ہوں مشکیزہ دکھوں سے
کنویں کی تہہ میں صحرا گر پڑا تھا
سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن
ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا
مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر
کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا
کھلی تھی اک ذرا بس چونچ اس کی
کہیں چاول کا دانہ گر پڑا تھا
مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں
اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا
مری سچائی میں دہشت بڑی تھی
کہیں چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا
بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے
ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا
مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں
نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا
اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں
بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا
نظر منصور گولی بن گئی تھی
ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا
منصور آفاق