ٹیگ کے محفوظات: داستاں

اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
بس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہے
گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے
غبارہ پھٹ کے رہ جانے کا قّصہ
ہماری داستاں ہونے لگا ہے
وُہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے
لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے
رُکا تھا لفظ جو ہونٹوں پہ آ کر
وُہ اَب زخمِ زباں ہونے لگا ہے
نظر میں جو بھی منظر ہے سکوں کا
بکھرتا آشیاں ہونے لگا ہے
جو تھا منسوب کل تک گیدڑوں سے
اَب اندازِ شہاں ہونے لگا ہے
نظر میں تھا جو چنگاری سا ماجدؔ
وُہ گل اَب گلستاں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
تنے گی اُس کے ابرو کی کماں آہستہ آہستہ
دکھائے گا وہ اندازِ شہاں آہستہ آہستہ
جو کونپل سبز تھی دو چارہے اَب زردیوں سے بھی
مرتب ہو رہی ہے داستاں آہستہ آہستہ
لہو میں چھوڑنے پر آ گیا اَب تو شرارے سے
بدل کر خوف میں اک اک گماں آہستہ آہستہ
سجا رہتا تھا ہر دم آئنوں میں آنسوؤں کے جو
کنول وُہ بھی ہُوا اَب بے نشاں آہستہ آہستہ
اکھڑنا تھا زمیں سے اپنے قدموں کا کہ سر سے بھی
سرکنے لگ پڑا ہے آسماں آہستہ آہستہ
بکھر کر رہ گئیں بادِمخالفت کے تھپیڑوں سے
تمنّاؤں کی ساریاں تتلیاں آہستہ آہستہ
سخنور ہم بھی ماجدؔ رات بھر میں تو نہیں ٹھہرے
ملی ہے دل کے جذبوں کو زباں آہستہ آہستہ
ماجد صدیقی

پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ
ہاتھوں میں میرے، صفحۂ سادہ پہ کر نظر
اظہارِ غم کو ترسی ہوئی انگلیاں بھی دیکھ
تو اور سراپا بس میں ہمارے ہو! ہائے ہائے!!
ہم پر یہ ایک تہمتِ اہلِ جہاں بھی دیکھ
تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل
اِس بحر میں تموّجِ گردِ خزاں بھی دیکھ
سہمی ہوئی حیات کو یُوں مختصر نہ جان
لمحے میں جھانک اور اسے بیکراں بھی دیکھ
ردّی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کُو بکُو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ماجدؔ ہے جس کا شور سماعت میں اَب تلک
اُس سیلِ تند و تیز کے چھوڑے نشاں بھی دیکھ
ماجد صدیقی

جہاں پہ تُو بھی نہیں تھا وہاں بھی زندہ رہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 99
بہت خجل ہیں کہ ہم رائگاں بھی زندہ رہے
جہاں پہ تُو بھی نہیں تھا وہاں بھی زندہ رہے
عجیب شرط ہے اس بے یقیں مزاج کی بھی
کہ تُو بھی پاس ہو تیرا گماں بھی زندہ رہے
تجھے یہ ضد ہے مگر اس طرح نہیں ہوتا
کہ تُو بھی زندہ رہے داستاں بھی زندہ رہے
وہ کون لوگ تھے جن کا وجود جسم سے تھا
یہ کون ہیں جو پسِ جسم و جاں بھی زندہ رہے
جو یہ نہ ہو تو سخن کا کوئی جواز نہیں
ضمیر زندہ رہے تو زباں بھی زندہ رہے
یہ کائنات فقط منفعت کا نام نہیں
یہاں پہ کوئی برائے زیاں بھی زندہ رہے
عدم میں جو بھی نہیں تھا وہ سب وجود میں تھا
یہ ہم ہی تھے جو کہیں درمیاں بھی زندہ رہے
عرفان ستار

میں کہ ٹھہرا گدائے دیارِ سخن مجھ کو یہ ذمّہ داری کہاں سونپ دی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 57
مری کم مائیگی کو ترے ذوق نے دولتِ حرفِ تازہ بیاں سونپ دی
میں کہ ٹھہرا گدائے دیارِ سخن مجھ کو یہ ذمّہ داری کہاں سونپ دی
قاصدِ شہرِ دل نے مرے خیمۂ خواب میں آ کے مجھ سے کہا جاگ جا
بادشاہِ جنوں نے تجھے آج سے لشکرِ اہلِ غم کی کماں سونپ دی
میرا ذوقِ سفر یوں بھی منزل سے بڑھ کر کسی ہمرہی کا طلب گار تھا
اس لیے وصل کے موڑ پر ہجر کو اُس نے رہوارِ دل کی عناں سونپ دی
تشنگی کو مرے شوق کی لہر نے کس سرابِ نظر کے حوالے کیا
کیسے بنجر یقیں کو مرے خواب نے اپنی سر سبز فصلِ گماں سونپ دی
احتیاطِ نظر اور وضعِ خرد کے تقاضوں کی تفصیل رہنے ہی دے
یہ مجھے بھی خبر ہے کہ میں نے تجھے اپنی وارفتگی رائگاں سونپ دی
اپنے ذوقِ نظر سے تری چشمِ حیراں کو تازہ بہ تازہ مناظر دیے
تیرے پہلو میں دھڑکن جگانے کی خاطر ترے جسم کو اپنی جاں سونپ دی
رازداری کی مہلت زیادہ نہ ملنے پہ احباب سب مجھ سے ناراض ہیں
قصہ گو مجھ سے خوش ہیں کہ میں اُنہیں ایک پُر ماجرا داستاں سونپ دی
میری وحشت پسندی کو آرائشِ زلف و رخسار و ابرو کی فرصت کہاں
تُو نے کس بے دلی سے یہ امید کی یہ کسے خدمتِ مہ وشاں سونپ دی
دل پہ جب گُل رُخوں اور عشوہ طرازوں کی یلغار کا زور بڑھنے لگا
میں نے گھبرا کے آخر تری یاد کو اپنی خلوت گہِ بے اماں سونپ دی
کار گاہِ زمانہ میں جی کو لگانے سے آخر خسارہ ہی مقدور تھا
یہ بھی اچھا ہوا میں نے یہ زندگی تیرے غم کو برائے زیاں سونپ دی
اُس نے ذوقِ تماشا دیا عشق کو خوشبوئوں کو صبا کے حوالے کیا
مجھ رفاقت طلب کو نگہبانیٔ دشتِ وحشت کراں تا کراں سونپ دی
مجھ میں میرے سوا کوئی تھا جو ہوس کے تقاضے نبھانے پہ مائل بھی تھا
میں نے بھی تنگ آ کر اُسی شخص کو ناز برداریٔ دلبراں سونپ دی
ایک امکان کیا گنگنایا مرے چند اشعار میں حرفِ اظہار میں
میں یہ سمجھا خدائے سخن نے مجھے مسندِ بزمِ آئندگاں سونپ دی
عرفان ستار

تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 56
رزق کی جستجو میں کسے تھی خبر، تُو بھی ہو جائے گا رائگاں یا اخی
تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی
جب نہ تھا یہ بیابانِ دیوار و در، جب نہ تھی یہ سیاہی بھری رہگزر
کیسے کرتے تھے ہم گفتگو رات بھر، کیسے سنتا تھا یہ آسماں یا اخی
جب یہ خواہش کا انبوہِ وحشت نہ تھا، شہر اتنا تہی دستِ فرصت نہ تھا
کتنے آباد رہتے تھے اہلِ ہنر، ہر نظر تھی یہاں مہرباں یا اخی
یہ گروہِ اسیرانِ کذب و ریا، بندگانِ درم بندگانِ انا
ہم فقط اہلِ دل یہ فقط اہلِ زر، عمر کیسے کٹے گی یہاں یا اخی
خود کلامی کا یہ سلسلہ ختم کر، گوش و آواز کا فاصلہ ختم کر
اک خموشی ہے پھیلی ہوئی سر بہ سر، کچھ سخن چاہیے درمیاں یا اخی
جسم کی خواہشوں سے نکل کر چلیں، زاویہ جستجو کا بدل کا چلیں
ڈھونڈنے آگہی کی کوئی رہگزر، روح کے واسطے سائباں یا اخی
ہاں کہاتھا یہ ہم نے بچھڑتے ہوئے، لوٹ آئیں گے ہم عمر ڈھلتے ہوئے
ہم نے سوچا بھی تھا واپسی کا مگر، پھر یہ سوچا کہ تُو اب کہاں یا اخی
خود شناسی کے لمحے بہم کب ہوئے، ہم جو تھے درحقیقت وہ ہم کب ہوئے
تیرا احسان ہو تُو بتا دے اگر، کچھ ہمیں بھی ہمارا نشاں یا اخی
قصۂ رنج و حسرت نہیں مختصر، تجھ کو کیا کیا بتائے گی یہ چشمِ تر
آتش غم میں جلتے ہیں قلب و جگر، آنکھ تک آ رہا ہے دھواں یا اخی
عمر کے باب میں اب رعایت کہاں، سمت تبدیل کرنے کی مہلت کہاں
دیکھ بادِ فنا کھٹکھٹاتی ہے در، ختم ہونے کو ہے داستاں یا اخی
ہو چکا سب جو ہونا تھا سود و زیاں، اب جو سوچیں تو کیا رہ گیا ہے یہاں
اور کچھ فاصلے کا یہ رختِ سفر، اور کچھ روز کی نقدِ جاں یا اخی
تُو ہمیں دیکھ آ کر سرِ انجمن، یوں سمجھ لے کہ ہیں جانِ بزمِ سخن
ایک تو روداد دلچسپ ہے اس قدر، اور اس پر ہمارا بیاں یا اخی
عرفان ستار

کہیں ہو نہ جاؤں میں رائگاں، مری آدھی عمر گزر گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 54
یونہی بے یقیں یونہی بے نشاں، مری آدھی عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جاؤں میں رائگاں، مری آدھی عمر گزر گئی
کبھی سائباں نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
کبھی بے مکاں کبھی لا مکاں، مری آدھی عمر گزر گئی
ترے وصل کی جو نوید ہے، وہ قریب ہے کہ بعید ہے
مجھے کچھ خبر تو ہو جانِ جاں، مری آدھی عمر گزر گئی
کبھی مجھ کو فکرِ معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
کوئی گُر بتا مرے نکتہ داں، مری آدھی عمر گزر گئی
کبھی ذکرِ حرمتِ حرف میں، کبھی فکرِ آمد و صرف میں
یونہی رزق و عشق کے درمیاں، مری آدھی عمر گزر گئی
کوئی طعنہ زن مری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
پئے دل نوازیٔ دوستاں، مری آدھی عمر گزر گئی
ابھی وقت کچھ مرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
کوئی کر گلہ مرے بد گماں، مری آدھی عمر گزر گئی
اُسے پا لیا اُسے کھو دیا، کبھی ہنس دیا کبھی رو دیا
بڑی مختصر سی ہے داستاں، مری آدھی عمر گزر گئی
تری ہر دلیل بہت بجا، مگر انتظار بھی تا کجا
ذرا سوچ تو مرے رازداں، مری آدھی عمر گزر گئی
کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ جان لوں تو سفر کروں
اسی سوچ میں تھا کہ ناگہاں، مری آدھی عمر گزر گئی
عرفان ستار

عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 27
نہیں ہے جو، وہی موجود و بے کراں ہے یہاں
عجب یقین پسِ پردہ ءِ گماں ہے یہاں
نہ ہو اداس، زمیں شق نہیں ہوئی ہے ابھی
خوشی سے جھوم، ابھی سر پہ آسماں ہے یہاں
یہاں سخن جو فسانہ طراز ہو، وہ کرے
جو بات سچ ہے وہ ناقابلِ بیاں ہے یہاں
نہ رنج کر، کہ یہاں رفتنی ہیں سارے ملال
نہ کر ملال، کہ ہر رنج رائیگاں ہے یہاں
زمیں پلٹ تو نہیں دی گئی ہے محور پر؟
نمو پذیر فقط عہدِ رفتگاں ہے یہاں
یہ کارزارِ نفس ہے، یہاں دوام کسے
یہ زندگی ہے مری جاں، کسے اماں ہے یہاں
ہم اور وصل کی ساعت کا انتظار کریں؟
مگر وجود کی دیوار درمیاں ہے یہاں
چلے جو یوں ہی ابد تک، تو اِس میں حیرت کیا؟
ازل سے جب یہی بے ربط داستاں ہے یہاں
جو ہے وجود میں، اُس کو گماں کی نذر نہ کر
یہ مان لے کہ حقیقت ہی جسم و جاں ہے یہاں
کہا گیا ہے جو وہ مان لو، بلا تحقیق
کہ اشتباہ کی قیمت تو نقدِجاں ہے یہاں
عرفان ستار

لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 125
خدا معلوم کیا سے کیا کیا ہو گا بیاں تو نے
لفافے میں نہ رکھ لی نامہ بر میری زباں تو نے
مٹا کر رکھ دیے ہیں یوں ہزاروں بے زباں تو نے
نہ رکھا اپنے عہدِ ظلم کا کوئی نشاں تو نے
تجھ فوراَ ہی میرا قصہ روک دینا تھا
ترا دکھتا تھا دل تو کیوں سنی تھی داستاں تو نے
ہرے پھر کر دیے زخمِ جگر صیاد بلبل کے
قفس کے سامنے کہہ کر گلوں کی داستاں تو نے
اسی وعدے پہ کھائی تھی قسم روئے کتابی کی
اسی صورت میں قرآں کو رکھا تھا درمیاں تو نے
عدو کہتے ہیں اب سہرا فصاحت کا ترے سر ہے
قمر بالکل بنا دی ہے تو نے دلھن اردو زباں تو نے
قمر جلالوی

اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 104
اگر زندہ رہیں تو آئیں گے اے باغباں پھر بھی
اسی گلشن اسی ڈالی پہ ہو گا آشیاں پھر بھی
سمجھتا ہے کہ اب میں پا شکستہ اٹھ نہیں سکتا
مگر مڑ مڑ کہ تکتا جا رہا ہے کارواں پھر بھی
بہت کچھ یاد کرتا ہوں کہ یا رب ماجرا کیا ہے
وہ مجھ کو بھول بیٹھے آ رہے ہیں ہچکیاں پھر بھی
سمجھتا ہوں انھیں نیند آ گئی ہے اب نہ چونکیں گے
مگر میں ہوں سنائے جا رہا ہوں داستاں پھر بھی
قمر حالانکہ طعنے روز دیتا ہوں جفاؤں کے
جدا کرتا نہیں سینہ سے مجھ کو آسماں پھر بھی
قمر جلالوی

میرے آنے تک تھا سارا گلستاں اچھی طرح

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 39
پھول سب اچھی طرح تھے باغباں اچھی طرح
میرے آنے تک تھا سارا گلستاں اچھی طرح
ان کے دھوکے میں نہ دے آنا کس ی دشمن کو خط
یاد کر نامہ بر نام و نشان اچھی طرح
کیا کہا یہ تو نے اے صیاد تنکا تک نہیں
چھوڑ کر آیا ہوں اپنا آشیاں اچھی طرح
پھر خدا جانے رہائی ہو قفس سے یا نہ ہو
دیکھ لوں صیاد اپنا آشیاں اچھی طرح
صبح کو آئی تھی گلشن میں دبے پاؤں نسیم
دیکھ لے نا غنچہ و گل باغباں اچھی طرح
دیکھیئے قسمت کہ ان کو شام سے نیند آ گئی
وہ نہ سننے پائیں میری داستاں اچھی طرح
دیکھ کر مجھ کو اتر آئے قمر وہ بام سے
دیکھنے پائیں نہ سیرِ آسمان اچھی طرح
قمر جلالوی

زندگی اک زیاں کا دفتر ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 217
نہ تو دل کا نہ جاں کا دفتر ہے
زندگی اک زیاں کا دفتر ہے
پڑھ رہا ہوں میں کاغذاتِ وجود
اور نہیں اور ہاں کا دفتر ہے
کوئی سوچے تو سوزِ کربِ جاں
سارا دفتر گماں کا دفتر ہے
ہم میں سے کوئی تو کرے اصرار
کہ زمیں، آسماں کا دفتر ہے
ہجر تعطیلِ جسم و جاں ہے میاں
وصل، جسم اور جاں کا دفتر ہے
ہے جو بود اور نبود کا دفتر
آخرش یہ کہاں کا دفتر ہے
جو حقیقت ہے دم بدم کی یاد
وہ تو اک داستاں کا دفتر ہے
ہو رہا ہے گزشتگاں کا حساب
اور آئیندگاں کا دفتر ہے
جون ایلیا

کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 179
ابھی فرمان آیا ہے وہاں سے
کہ ہٹ جاؤں میں اپنے درمیاں سے
یہاں جو ہے تنفس ہی میں گم ہے
پرندے اڑ رہے ہیں شاخِ جاں سے
دریچہ باز ہے یادوں کا اور میں
ہوا سنتا ہوں پیڑوں کی زباں سے
تھا اب تک معرکہ باہر کا در پیش
ابھی تو گھر بھی جانا ہے یہاں سے
فلاں سے تھی غزل بہتر فلاں کی
فلاں کے زخم اچھے تھے فلاں سے
خبر کیا دوں میں شہرِ رفتگاں کی
کوئی لوٹے بھی شہرِ رفتگاں سے
یہی انجام کیا تجھ کو ہوس تھا
کوئی پوچھے تو میرِ داستاں سے
جون ایلیا

داستاں کی داستاں ہے زندگی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 151
اک گمانِ بے گماں ہے زندگی
داستاں کی داستاں ہے زندگی
دَم بہ دَم ہے اک فراقِ جاوداں
اک جبیں بے آستاں ہے زندگی
کہکشاں بر کہکشاں ہے اک گریز
بودِ بے سودوزیاں ہے زندگی
ہے مری تیرہ نگاہی اک تلاش
تم کہاں ہو اور کہاں ہے زندگی
جون ایلیا

بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 140
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں
ان کو اندھی میں ہی بکھرنا تھا
بال و پر آشیاں کے تھے ہی نہیں
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
ہو تری خاک آستاں پہ سلام
ہم ترے آستاں کے تھے ہی نہیں
ہم نے رنجش میں یہ نہیں سوچا
کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں
جون ایلیا

جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 108
سود ہے میرا زیاں ، افسوس میں
جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں
رائگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے مری عمرِ رواں ، افسوس میں
اے جہانِ بے گمان و صد گماں
میں ہوں اوروں کا گماں ، افسوس میں
نا بہ ہنگامی ہے میری زندگی
میں ہوں ہر دم نا گہاں ، افسوس میں
زندگی ہے داستاں افسوس کی
میں ہوں میرِ داستاں ، افسوس میں
اپنے برزن اپنے ہی بازار میں
اپنے حق میں ہوں گراں ، افسوس میں
گم ہوا اور بے نہائت گم ہوا
مجھ میں ہے میرا سماں ، افسوس میں
میرے سینے میں چراغِ زندگی
میری انکھوں میں دھواں ، افسوس میں
مجھ کو جز پرواز کوئی چارہ نہیں
ہوں میں اپنا آشیاں ، افسوس میں
ہے وہ مجھ میں بے اماں ، افسوس وہ
ہوں میں اس میں بے اماں ، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں ، افسوس میں
ایک ہی تو باغِ حسرت ہے میرا
ہوں میں اس کی ہی خزاں ، افسوس میں
اے زمین و آسماں ،، افسوس تم
اے زمین و آسماں ، افسوس میں
جون ایلیا

پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1844
رابطہ باہم ہے کوئی دن کا یاں
پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں
گم ہوا ہوں یاں سے جاکر میں جہاں
کچھ نہیں پیدا کہاں میرا نشاں
پیری میں ہے طفل مکتب سا جہول
ہے فلک کرنے کے قابل آسماں
تو کہے واں ناگہاں بجلی گری
وہ نگاہ تند کرتا ہے جہاں
بھولے بھی میں یک نظر دیکھا نہیں
اس پہ ہے وہ بے دماغ و بدگماں
عشق نے تکلیف کی مالایطاق
بار امانت کا گراں میں ناتواں
کام کچھ آئی نہ دل کی بھی کشش
کھنچ رہا ہے ہم سے وہ ابرو کماں
کیا چھپی ہیں باتیں میرے عشق کی
داستاں در داستاں ہے داستاں
عشق میں کیونکر بسر کریے گا عمر
دل لگا ہے جس سے سو نامہرباں
جو زمیں پالغز تھی شاید کہ میر
ہو وہیں مسجود اس کا آستاں
میر تقی میر

ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد

دیوان پنجم غزل 1604
ہے عشق کا فسانہ میرا نہ یاں زباں زد
ہر شہر میں ہوئی ہے یہ داستاں زباں زد
حسرت سے حسن گل کی چپکا ہوا ہوں ورنہ
طیران باغ میں ہوں میں خوش زباں زباں زد
مذکور عاشقی کا ہر چار سو ہے باہم
یعنی نہیں کہانی میری کہاں زباں زد
فرہاد و قیس و وامق ہر یک سے پوچھ لو تم
شہروں میں عشق کے ہوں میں ناتواں زباں زد
کیا جانے میر کس کے غم سے ہے چپ وگرنہ
حرف و سخن میں کیا ہی ہے یہ جواں زباں زد
میر تقی میر

اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو

دیوان چہارم غزل 1467
دیتی ہے طول بلبل کیا شورش فغاں کو
اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو
میں تو نہیں پر اب تک مستانہ غنچے ہوکر
کہتے ہیں مرغ گلشن سے میری داستاں کو
نالاں تو ہیں مجھی سے پر وہ اثر کہاں ہے
گو طائر گلستاں سیکھے مری زباں کو
کیا جانیے کہ کیا کچھ پردے سے ہووے ظاہر
رہتے ہیں دیکھتے ہم ہر صبح آسماں کو
اس چشم سرخ پر ہے وہ ابروے کشیدہ
جوں ترک مست رکھ لے سر کے تلے کماں کو
میری نگاہ میں تو معدوم سب ہیں وے ہی
موجود بھی نہ جانا اس راہ سے جہاں کو
بعد از نماز تھے کل میخانے کے در اوپر
کیا جانے میر واں سے پھر اٹھ گئے کہاں کو
میر تقی میر

پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز

دیوان چہارم غزل 1394
ہے زیرخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز
گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق
استادہ روے خاک پہ ہے آسماں ہنوز
اس تک پہنچنے کا تو نہیں حال کچھ ولے
جاتے ہیں گرتے پڑتے بھی ہم ناتواں ہنوز
پروانہ جل کے خاک ہوا پھر اڑا کیا
اے شمع تیری رہتی نہیں ہے زباں ہنوز
چندیں ہزار جانیں گئیں اس کی راہ میں
ایک آدھ تو بھی مر رہے ہیں نیم جاں ہنوز
مدت ہوئی کہ خوار ہو گلیوں میں مر گئے
قصہ ہمارے عشق کا ہے داستاں ہنوز
لخت جگر کے غم میں کہ تھا لعل پارہ میر
رخسار زرد پر ہے مرے خوں رواں ہنوز
میر تقی میر

شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر

دیوان سوم غزل 1130
گرمی سے گفتگو کی کرلے قیاس جاں پر
شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر
دیکھ اس کے خط کی خوبی لگ جاتی ہے چپ ایسی
گویا کہ مہر کی ہے ان نے مرے دہاں پر
ہوں خاک مجھ کو ان سے نسبت حساب کیا ہے
میں گنتی میں نہیں ہوں وے ہفتم آسماں پر
گھر باغ میں بنایا پر ہم نے یہ نہ جانا
بجلی سے بھی پڑے گا پھول آ کے آشیاں پر
روتے ہیں دوست اکثر سن سرگذشت عاشق
تو بھی تو گوش وا کر ٹک میری داستاں پر
کیا بات میں تب اس کی جاوے کسو سے بولا
ہونے لگے ہوں خوں جب ہونٹوں کے رنگ پاں پر
تڑپے ہے دل گھڑی بھر تو پہروں غش رہے ہے
کیا جانوں آفت آئی کیا طاقت و تواں پر
سودا بنے جو اس سے تو میر منفعت ہے
اپنی نظر نہیں ہے پھر جان کے زیاں پر
میر تقی میر

یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا

دیوان سوم غزل 1056
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا
خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے
جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا
سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی
گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب
اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا
ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا
یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا
یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے
لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے

دیوان اول غزل 585
نازچمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے
ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے
گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب ودہاں ہے
لیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منھ کہاں ہے
ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا
چتون ہے دل کی آفت چشمک بلاے جاں ہے
پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی تو
پر کیا کریں کہ پیارے منھ تیرا درمیاں ہے
باغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوں
جو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے
ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئی
گذرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے
اس فن میں کوئی بے تہ کیا ہو مرا معارض
اول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے
عالم میں آب و گل کا ٹھہرائو کس طرح ہو
گر خاک ہے اڑے ہے ورآب ہے رواں ہے
چرچا رہے گا اس کا تاحشر مے کشاں میں
خونریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے
ازخویش رفتہ اس بن رہتا ہے میر اکثر
کرتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے
میر تقی میر

اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو

دیوان اول غزل 409
اجرت میں نامہ کی ہم دیتے ہیں جاں تلک تو
اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو
آغشتہ میرے خوں سے اے کاش جاکے پہنچے
کوئی پر شکستہ ٹک گلستاں تلک تو
واماندگی نے مارا اثناے رہ میں ہم کو
معلوم ہے پہنچنا اب کارواں تلک تو
افسانہ غم کا لب تک آیا ہے مدتوں میں
سو جائیو نہ پیارے اس داستاں تلک تو
آوارہ خاک میری ہو کس قدر الٰہی
پہنچوں غبار ہوکر میں آسماں تلک تو
آنکھوں میں اشک حسرت اور لب پہ شیون آیا
اے حرف شوق تو بھی آیا زباں تلک تو
اے کاش خاک ہی ہم رہتے کہ میر اس میں
ہوتی ہمیں رسائی اس آستاں تلک تو
میر تقی میر

پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم

دیوان اول غزل 278
جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم
پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم
ہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیں
پھاٹے میں پائوں دینے کو آئے کہاں سے تم
اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیں
کیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم
تنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنک
چشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم
جائو نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہی
پچھتائوگے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم
قصہ مرا سنوگے تو جاتی رہے گی نیند
آرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی
آتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم
جتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہم
ہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم
رہتے نہیں ہو بن گئے میر اس گلی میں رات
کچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم
میر تقی میر

ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 103
مردِ نسیاں بُرد کا نام و نشاں کیا پوچھئے
ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے
نامقرر راستوں کی سیرِ ممنوعہ کے بعد
کیوں ہنسی کے ساتھ آنسو ہیں رواں، کیا پوچھئے
ہر نئے ظاہر میں پوشیدہ ہے اک ظاہر نیا
ایک حیرت ہے نہاں اندر نہاں کیا پوچھئے
خود کو نامشہور کرنے کے یہی تو ڈھنگ ہیں
آفتاب اقبال کا طرزِ بیاں کیا پوچھئے
کیوں اُسے پرتوں کی پرتیں کھو جنا اچھا لگے
کیوں کئے جاتا ہے کارِ رائیگاں کیا پوچھئے
لیکھ ہی ایسا تھا یا آدرش میں کچھ کھوٹ تھی
زندگی ہم سے رہی کیوں بدگماں کیا پوچھئے
ہم نے سمجھا یا تو تھا لیکن وہ سمجھا ہی نہیں
آج کا یہ سود ہے کل کا زیاں کیا پوچھئے
ہم سبھی جس داستاں کے فالتو کردار ہیں
زندگی ہے ایک ایسی داستاں ، کیا پوچھئے
آفتاب اقبال شمیم

میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 79
عجب خواب و حقیقت کے جہاں میں رہ رہا ہوں
میں سوتے جاگتے کی داستاں میں رہ رہا ہوں
رواں رہتا ہوں عالم گیر ہجرت کے سفر میں
زمیں پر رہ رہاں ہوں اور زماں میں رہ رہا ہوں
ذرا پہلے گماں آبادِ فردا کا مکیں تھا
اور اب نسیاں سرائے رفتگاں میں رہ رہا ہوں
مرے پرکھوں نے جو میرے لئے خالی کیا تھا
میں اگلے وارثوں کے اس مکاں میں رہ رہا ہوں
مکاں میں لامکاں کا چور دروازہ بنا کر
ہمیشہ سے ہجومِ دلبراں میں رہ رہا ہوں
زمین و آسماں کا فاصلہ ہے درمیاں میں
میں سجدہ ہوں تمہارے آستاں میں رہ رہا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
شاخ پر خونِ گل رواں ہے وہی
شوخیِ رنگِ گلستاں ہے وہی
سروہی ہے تو آستاں ہے وہی
جاں وہی ہے تو جانِ جاں‌ہے وہی
اب جہاں مہرباں نہیں کوئی
کوچہء یارِ مہرباں ہے وہی
برق سو بار گر کے خاک ہوئی
رونقِ خاکِ آشیاں ہے وہی
آج کی شب وصال کی شب ہے
دل سے ہر روز داستاں ہے وہی
چاند تارے ادھر نہیں آتے
ورنہ زنداں میں‌ آسماں ہے وہی
منٹگمری جیل
فیض احمد فیض

جو تم سن لو، تمہاری داستاں ہم

مجید امجد ۔ غزل نمبر 84
قریبِ دل، خروشِ صد جہاں ہم
جو تم سن لو، تمہاری داستاں ہم
کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم
جیے بن کر نگاہِ تشنگاں ہم
ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل
ہمیں ڈھونڈو، نصیبِ گمرہاں ہم
ہمیں سمجھو، نگاہِ ناز والو!
لبوں پر کانپتا حرفِ بیاں ہم
بجھی شمعوں کی اس نگری میں امجد
اُبھرتے آفتابوں کی کماں ہم
مجید امجد

سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 201
دیکھئے جو دشت زندہ ہے دم آہو سے ہے
سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری موج ہوا کے شکوہ سنج
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب ادھورا چھوڑنا ممکن نہیں اے قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب وحشت دوسرے گھر میں بھی ہے
تیرا قیدی اے شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے اک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
MERGED آسماں کی زد میں زیر آسماں میں ہی نہیں
تو بھی ہے ظالم نشانے پر یہاں میں ہی نہیں
اختر الایمان کی اک نظم سے مجھ پر کھلا
اور بھی کم گو ہیں مجبور فغاں میں ہی نہیں
کوئی انشا کر رہا ہے مصحف آئندگاں
لکھ رہی ہیں لکھنے والی انگلیاں میں ہی نہیں
رنج اس کا ہے کہ کس کو رائیگاں کرتا ہے کون
ورنہ اس آشوب جاں میں رائیگاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری زور ہوا سے پائمال
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب اسے انجام تک لانا تو ہو گا قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب کوئی دوسرے گھر میں بھی ہے
ہاں گرفتار شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے رک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
عرفان صدیقی

جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 125
وہی ہیں مرجعِ لفظ و بیاں علیؑ سے کہو
جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو
شکایتِ ہنر چارہ گر علیؑ سے کرو
حکایتِ جگر خونچکاں علیؑ سے کہو
بدل چکا ہے یہی آفتاب سمتِ سفر
سو حالِ گردش سیارگاں علیؑ سے کہو
تمہارے غم کا مداوا انہیں کے ہاتھ میں ہے
نہ جاؤ روبروئے خسرواں علیؑ سے کہو
اُنہیں کے سامنے اپنا مرافعہ لے جاؤ
اُنہیں کے پاس ہے اذنِ اماں علیؑ سے کہو
کرے کمند تعاقب تو ان کو دو آواز
بنے عذاب جو بندِ گراں علیؑ سے کہو
پہاڑ راستہ روکے تو اُن سے عرض کرو
رُکے اگر کوئی جوُئے رواں علیؑ سے کہو
پھر اب کے طائرِ وحشی نہ ہو سکا آزاد
یہ فصلِ گل بھی گئی رائیگاں علیؑ سے کہو
تمہیں مصاف میں نصرت عطا کریں مولاؑ
سبک ہو تم پہ شبِ درمیاں علیؑ سے کہو
پھرے تمہارے خرابے کی سمت بھی رہوار
اُٹھے تمہاری طرف بھی عناں علیؑ سے کہو
اُنہیں خبر ہے کہ کیا ہے ورائے صوت وصدا
لبِ سکوت کی یہ داستاں علیؑ سے کہو
عرفان صدیقی

تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 87
سوچتا ہوں کہ محفوظ کر لوں اُسے اَپنے سینے میں لفظ و بیاں کی طرح
تھوڑی ہی دیر میں یہ ملاقات بھی ختم ہو جائے گی داستاں کی طرح
یہ رَفاقت بہت مختصر ہے مری ہمسفر لا مرے ہاتھ میں ہاتھ دے
تو ہوائے سرِ رہ گزر کی طرح، میں کسی نکہتِ رائیگاں کی طرح
حال ظالم شکاری کی صورت مجھے وقت کی زین سے باندھ کر لے چلا
میرا ماضی مرے ساتھ چلتا رہا دُور تک ایک مجبور ماں کی طرح
سنگِ آزار کی بارشیں تیز تھیں اور بچنے کا کوئی طریقہ نہ تھا
رَفتہ رَفتہ سبھی نے سروں پر کوئی بے حسی تان لی سائباں کی طرح
خواہشوں کے سمندر سے اِک موج اُٹھی اور سیل بَلاخیز بنتی گئی
جسم کشتی کی مانند اُلٹنے لگے، پیرہن اُڑ گئے بادباں کی طرح
عرفان صدیقی

نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 298
خاک پر آسماں ہوئے جائیں
نظم میں ہم بیاں ہوئے جائیں
دل نے خوشبو کشید کرلی ہے
ہم کہاں رائیگاں ہوئے جائیں
تتلیوں کے پروں پہ لکھے ہم
وقت کی داستاں ہوئے جائیں
گفتگو کی گلی میں ہم اپنی
خامشی سے عیاں ہوئے جائیں
مسجدِ دل کی خالی چوکھٹ پر
ہم عشاء کی اذاں ہوئے جائیں
اُس مکیں کی امید پر منصور
ہم سراپا مکاں ہوئے جائیں
منصور آفاق

ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 208
چلتے رہتے ہیں لامکاں کی طرف
ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف
رحمتِ ابر جب بھی گرتی ہے
پاؤں اٹھتے ہیں سائباں کی طرف
چل پڑے واقعات بستی کو
اور کردار داستاں کی طرف
کمپنی کھولی ہے خسارے کی
فائدہ دیکھ کر زیاں کی طرف
ہم پکھیرو ہزاروں سالوں سے
روزجاتے ہیں آشیاں کی طرف
بھیگ جاؤں کرم کی بارش سے
ہاتھ اٹھاؤں جو آسماں کی طرف
آتے پولیس کے سپاہی ہیں
روز منصور کے مکاں کی طرف
منصور آفاق

دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 183
جگمگاتی تھی جو طاقِ آسماں میں کوئی چیز
دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز
رات جیسا ساری دنیا میں نہیں ہے کوئی ظلم
اور دئیے جیسی نہیں سارے جہاں میں کوئی چیز
یہ بھی ہو سکتا ہے ممکن میں کوئی کردار ہوں
یا مرے جیسی کسی ہے داستاں میں کوئی چیز
دیکھنا میری طرف کچھ دن نہیں آنا تجھے
ایسا لگتا ہے کہ ہے میرے مکاں میں کوئی چیز
کوئی بے مفہوم نقطہ، کوئی مصرع کا فریب
ڈھونڈتی ہے رات پھر صبحِ بیاں میں کوئی چیز
لگتا ہے دشتِ جنوں کی آندھیوں کو دیکھ کر
اہل غم نے سونپ دی میری کماں میں کوئی چیز
واہمہ ہے سانحہ کا،خدشہ اِن ہونی کاہے
خوف جیسی ہے مرے وہم وگماں میں کوئی چیز
آیت الکرسی کا کب تک کھینچ رکھوں گا حصار
جانے والا دے گیا میری اماں میں کوئی چیز
نام ہے دیوانِ منصور اس کا، کل کی ڈاک میں
بھیج دی ہے صحبتِ آئندگاں میں کوئی چیز
منصور آفاق

کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 226
دل کا یا جی کا زیاں کرنا پڑے
کچھ نہ کچھ نذر جہاں کرنا پڑے
دل کو ہے پھر چند کانٹوں کی تلاش
پھر نہ سیر گلستاں کرنا پڑے
حال دل ان کو بتانے کے لئے
ایک عالم سے بیاں کرنا پڑے
پاس دنیا میں ہے اپنی بھی شکست
اور تجھے بھی بدگماں کرنا پڑے
ہوشیار اے جذب دل اب کیا خبر
تذکرہ کس کا کہاں کرنا پڑے
اب تو ہر اک مہرباں کی بات پر
ذکر دور آسماں کرنا پڑے
زیست کی مجبوریاں باقیؔ نہ پوچھ
ہر نفس کو داستاں کرنا پڑے
باقی صدیقی

فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 216
نہ اپنے دل کے نہ اپنی زباں کے ساتھ چلے
فریب خوردہ تھے ہر مہرباں کے ساتھ چلے
کتاب دور جہاں کے وہ لفظ ہیں ہم لوگ
ہر اک فسانے ہر اک داستاں کے ساتھ چلے
وہ پی کے ہوش میں آئے کہ ہوش کھو بیٹھے
کھچ ایسے قصّے مئے ارغواں کے ساتھ چلے
کہاں کا سود کہ اپنا خیال بھی نہ رہا
زیاں کی فکر میں ہم ہر زیاں کے ساتھ چلے
یہ رُخ بھی کش مکش زندگی کا دیکھا ہے
جہاں کی بات نہ کی اور جہاں کے ساتھ چلے
ہمارے خون سے ابھریں چمن کی دیواریں
ہمارے قصّے بہار و خزاں کے ساتھ چلے
کچھ اس طرح بھی کیا ہم نے طے سفر باقیؔ
نشان بن کے ہر اک بے نشاں کے ساتھ چلے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی

تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 179
یہی جہاں تھا، یہی گردش جہاں تھی کبھی
تو مہرباں تھا تو دنیا بھی مہرباں تھی کبھی
ترے شگفتہ شگفتہ نقوش پا کے طفیل
مری نگاہ میں ہر راہ کہکشاں تھی کبھی
مرے خیال سے تیرا غرور روشن تھا
تری نگاہ سے دنیا میری جواں تھی کبھی
ترے تبسم رنگیں سے پھول کھلتے تھے
مری حیات بہاروں کی داستاں تھی کبھی
وہ بے خودی مری، وہ تیرے قرب کا احساس
نہ آس پاس تھی دنیا نہ درمیاں تھی کبھی
کبھی کبھی مجھے باقیؔ خیال آتا ہے
وہاں کھڑی ہے مری زندگی جہاں تھی کبھی
باقی صدیقی

جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 96
کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو
جیتے رہو، خوش رہو، جہاں ہو
خون دل کا معاملہ ہے
دنیا ہو کہ تیرا آستاں ہو
منت کش داستاں سرا ہے
میری ہو کہ تیری داستاں ہو
دنیا مجھے کہہ رہی ہے کیا کیا
کچھ تم بھی کہو کہ رازداں ہو
کس سوچ میں پڑ گئے ہو باقیؔ
دنیا تو وہیں ہے تم کہاں ہو
باقی صدیقی

جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 80
وہیں سمجھو ہماری داستاں ختم
جہاں کر دے کوئی افسانہ خواں ختم
شکست زسیت کا دل پر اثر کیا
مگر ہے راہ و رسم دوستاں ختم
وہاں سے میرا افسانہ چلے گا
جہاں ہو گی تمہاری داستاں ختم
الجھتا جا زمانے کی نظر سے
کبھی تو ہو گا دور امتحاں ختم
اگر ہم چپ بھی ہو جائیں تو باقیؔ
زمانہ بات کرتا ہے کہاں ختم
باقی صدیقی