ٹیگ کے محفوظات: داروں

اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں

کچھ آوارہ یاروں میں آ بیٹھا ہوں
اپنے چاند ستاروں میں آ بیٹھا ہوں
آتے جاتے دیکھ رہے ہیں لوگ مجھے
بےزاری! بازاروں میں آ بیٹھا ہوں
سیکھ رہا ہوں سارے گُر مکّاری کے
کچھ دن سے زر داروں میں آ بیٹھا ہوں
دِل کی کالک دھُل جائے گی لمحوں میں
مولاؑ کے حُب داروں میں آ بیٹھا ہوں
موت مری تصویر اُٹھائے پِھرتی ہے
جب سے میں بیماروں میں آ بیٹھا ہوں
میں جنگل میں رہنے والا سبز نظر
عُریانی کے غاروں میں آ بیٹھا ہوں
افتخار فلک

کیا کیا ان نے سلوک کیے ہیں شہر کے عزت داروں سے

دیوان چہارم غزل 1490
خوار پھرایا گلیوں گلیوں سر مارے دیواروں سے
کیا کیا ان نے سلوک کیے ہیں شہر کے عزت داروں سے
دور اس سے تو اپنے بھائیں آگ لگی ہے گلستاں میں
آنکھیں نہیں پڑتی ہیں گل پر سینکتے ہیں انگاروں سے
شور کیا جو میں نے شبانگہ بیتابی سے دل کی بہت
کہنے لگا جی تنگ آیا ان مہر و وفا کے ماروں سے
وہ جو ماہ زمیں گرد اپنا دوپہری ہے ان روزوں
شوق میں ہر شب حرف و سخن ہے ہم کو فلک کے تاروں سے
حرف شنو ساتھ اپنے نہیں ہیں ورنہ دراے قافلہ ساں
راہ میں باتیں کس کس ڈھب کی کرتے ہیں ہم یاروں سے
خستہ ہو اپنا کیسا ہی کوئی پھر بھی گلے سے لگاتے ہیں
وحشت ایک تمھیں کو دیکھی اپنے سینہ فگاروں سے
داغ جگرداری ہیں اپنے کشتے ثبات دل کے ہیں
ہم نہ گئے جاگہ سے ہرگز قیمہ ہوئے تلواروں سے
حرف کی پہچان اس کو نہ تھی تو سادہ ہی کچھ اچھا تھا
بات اگر مانے ہے کوئی سو سو اب تکراروں سے
کوہکن و مجنوں یہ دونوں دشت و کوہ میں سرماریں
شوق نہیں ملنے کا ہم کو میر ایسے آواروں سے
میر تقی میر

مار رکھا بیتابی دل نے ہم سب غم کے ماروں کو

دیوان چہارم غزل 1476
کام کیے ہیں شوق سے ضائع صبر نہ آیا یاروں کو
مار رکھا بیتابی دل نے ہم سب غم کے ماروں کو
جی تو جلا احباب کا مجھ پر عشق میں اس شعلے کے پر
رو ہی نہیں ہے بات کا ہرگز اپنے جانب داروں کو
آئو نہیں دربستہ یعنی منھ پر اس مہ پارے کے
صبح تلک دیکھا کرتے ہیں محو چشمک تاروں کو
گردش چشم سیہ کاسے سے جمع نہ رکھو خاطر تم
بھوکا پیاسا مار رکھا ہے تم سے ان نے ہزاروں کو
کوہکن و مجنوں و وامق میر آئے تھے صحبت میں
منھ نہ لگایا ہم میں کنھوں نے ایسے ہرزہ کاروں کو
میر تقی میر

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 26
یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں
تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں میں ہوں
ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گ کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں
ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر
کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں
دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے
میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزا داروں میں ہوں
وقت آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسین
اب وہ آزادی کہاں ہے میں بھی گرفتاروں میں ہوں
آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی
درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں
پھول میں پھولوں میں ہوں، کانٹا ہوں کانٹوں میں امیر
یار میں یاروں میں ہوں، عیار ، عیاروں میں ہوں
امیر مینائی