ٹیگ کے محفوظات: دارا

آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 23
دل ہے سوالی تجھ سے دل آرا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
آس ہے تیری ہی دل دارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
پلکوں کی جھولی پھیلی ہے، پڑ جائیں اس میں کچھ کرنیں
تو ہے دل آکاش کا تارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
ایک صدا ہونٹوں پر لے کے، تیری گلی میں ہم روتے تھے
آ نکلا ہے اک بے چارہ، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرے ہی در کے ہم ہیں سوالی، تیرا ہی در دل میں کھلا ہے
شہرِ نظر در بند ہے سارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
تیرا تمنائی رکھتا ہے، ایک نظر دیدارِ تمنا
ساجن پیارے، میرا پیارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
باناں جان تری حسرت میں، رات بھلا کیسے گزرے گی
سارا دن حسرت میں گزارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا، سینہ خالی کر ڈالا ہے
لے میں اپنی سانس بھی ہارا، اللہ ہی دے گا مولا ہی دے گا
جون ایلیا

زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج

دیوان پنجم غزل 1589
کس تازہ مقتل پہ کشندے تیرا ہوا ہے گذارا آج
زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج
کل تک ہم نے تم کو رکھا تھا سو پردے میں کلی کے رنگ
صبح شگفتہ گل جو ہوئے تم سب نے کیا نظارہ آج
کوئی نہیں شاہان سلف میں خالی پڑے ہیں دونوں عراق
یعنی خود گم اسکندر ہے ناپیدا ہے دارا آج
چشم مشتاق اس لب و رخ سے لمحہ لمحہ اٹھی نہیں
کیا ہی لگے ہے اچھا اس کا مکھڑا پیارا پیارا آج
اب جو نسیم معطر آئی شاید بال کھلے اس کے
شہر کی ساری گلیاں ہو گئیں گویا عنبر سارا آج
کل ہی جوش و خروش ہمارے دریا کے سے تلاطم تھے
دیکھ ترے آشوب زماں کے کر بیٹھے ہیں کنارہ آج
چشم چرائی دور سے کر وا مجھ کو لگا یہ کہہ کے گیا
صید کریں گے کل ہم آکر ڈال چلے ہیں چارا آج
کل ہی زیان جیوں کے کیے ہیں عشق میں کیا کیا لوگوں نے
سادگی میری چاہ میں دیکھو میں ڈھونڈوں ہوں چارہ آج
میر ہوئے ہو بے خود کب کے آپ میں بھی تو ٹک آئو
ہے دروازے پر انبوہ اک رفتۂ شوق تمھارا آج
میر تقی میر

ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
یہ سرخ پھول سا کیا کھل رہا ہے نیزے پر
یہ کیا پرندہ ہے شاخش شجر پہ دارا ہوا
ابھی زمیں پہ نشاں تھے عذاب رفتہ کے
پھر آسمان پہ ظاہر وہی ستارہ ہوا
میں ڈر رہا تھا وہ خنجر نہ ہو چھپائے ہوئے
ردا ہٹی تو وہی زخم آشکارا ہوا
یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
تو کیا ہوا میں اگر دوسرا کنارہ ہوا
عرفان صدیقی