ٹیگ کے محفوظات: داد

آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 142
یہ جفائیں تو وہی ہیں وہی بیداد بھی ہے
آپ کیا کہہ کہ ہمیں لائے تھے کچھ یاد بھی ہے
کیوں قفس والوں پہ الزامِ فغاں ہے ناحق
ان میں صیاد کوئی قابلِ فریاد بھی ہے
آشیاں کی خبر تجھ کو نہیں ہے نہ سہی
یہ تو صیاد بتا دے چمن آباد بھی ہے
اپنے رہنے کو مکاں لے لیئے تم نے لیکن
یہ نہ سوچا کہ کوئی خانماں برباد بھی ہے
کارواں لے کے تو چلتا ہے مگر یہ تو بتا
راہِ منزل تجھے اے راہ نما یاد بھی ہے
تو حقارت سے جنہیں دیکھ رہا ساقی
کچھ انھیں لوگوں سے یہ میکدہ آباد بھی ہے
اِک تو حق دارِ نوازش ہے قمر خانہ خراب
دوسرے مملکتِ پاکِ خدا داد بھی ہے
قمر جلالوی

یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 230
ہے رنگِ ایجاد بھی دل میں اور زخم ایجاد بھی ہے
یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے
تیشہ ناز نے میری انا کے خوں کی قبا پہنائی مجھے
میں جو ہوں پرویز ہوں اک جو ظالم فرہاد بھی ہے
منحصر اس کی منشا پر ہے کس طور اس سے پیش آؤں
قید میری بانہوں میں وہ ہو کر وہ قاتل آزاد بھی ہے
جون جدا تو رہنا ہو گا تجھ کو اپنے یاروں بیچ
یار ہی تو یاروں کا نہیں ہے یاروں کا استاد بھی ہے
ساری ردیفیں بھی حاضر ہیں پھر ساری ترکیبیں بھی
اور تمہیں کیا چاہیئے یارو، حاصل میری داد بھی ہے
جون ایلیا

کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 216
بجا ارشاد فرمایا گیا ہے
کہ مجھ کو یاد فرمایا گیا ہے
عنایت کی ہیں ناممکن امدیں
کرم ایجاد فرمایا گیا ہے
ہیں ہم اب اور زد ہے حادثوں کی
ہمیں آزاد فرمایا گیا ہے
ذرا اس کی پراحوالی تو دیکھیں
جسے برباد فرمایا گیا ہے
نسیمِ سبزگی تھے ہم، سو ہم کو
غبار افتاد فرمایا گیا ہے
سند بخشی ہے عشقِ بے غرض کی
بہت ہی شاد فرمایا گیا ہے
سلیقے کو لبِ فریاد تیرے
ادا کی داد فرمایا گیا ہے
کہاں ہم اور کہاں حسنِ سرِ بام
ہمیں بنیاد فرمایا گیا ہے
جون ایلیا

دل کو تھا اس سے اتحاد بہت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 48
سخن آتے ہیں اس کے یاد بہت
دل کو تھا اس سے اتحاد بہت
جب بھی چلتی ہے اس طرف سے ہوا
شور کرتے ہیں نامراد بہت
حُسن پر اس کے نکتہ چیں ہی رہے
تھا طبیعت میں اجتہاد بہت
درمیانِ ہجومِ مشّاقاں
اُس گلی میں رہے فساد بہت
اس کا روزِ سفر اور آج کی شام
درمیاں میں ہے امتداد بہت
مجھ سے اک بادیہ نشیں نے کہا
شہر والے ہیں بدنہاد بہت
زخمِ دل کو بناؤ زخمہ ءِ ساز
بستیوں سے ملے گی داد بہت
جونؔ اسلامیوں سے بحث نہ کر
تُند ہیں یہ ثمود و عاد بہت
جون ایلیا

تاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 208
خود جاں دے کے روح کو آزاد کیجئے
تاکے خیالِ خاطرِ جلّاد کیجئے
بھولے ہوۓ جو غم ہیں انہیں یاد کیجئے
تب جاکے ان سے شکوۂ بے داد کیجئے
حالانکہ اب زباں میں نہیں طاقتِ فغاں
پر دل یہ چاہتا ہے کہ فریاد کیجئے
بس ہے دلوں کے واسطے اک جنبشِ نگاہ
اجڑے ہوۓ گھروں کو پھر آباد کیجئے
کچھ دردمند منتظرِ انقلاب ہیں
جو شاد ہوچکے انہیں ناشاد کیجئے
شاید کہ یاس باعثِ افشاۓ راز ہو
لطف و کرم بھی شاملِ بے داد کیجئے
بیگانۂ رسومِ جہاں ہے مذاقِ عشق
طرزِ جدیدِ ظلم ایجاد کیجئے
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد، یاں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 158
دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا
بارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد، یاں
ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام
مہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد، یاں
مرزا اسد اللہ خان غالب

فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے

دیوان دوم غزل 982
مرا دل پیر و مرشد ہے مجھے ہے اعتقاد اس سے
فراموش آپ کو کرنا محبت میں ہے یاد اس سے
بلا انداز ہے اس کا قیامت ناز ہے اس کا
اٹھے فتنے ہزار اس سے ہوئے لاکھوں فساد اس سے
نزاکت جیسی ہے ویسا ہی دل بھی سخت ہے اس کا
اگرچہ شیشۂ جاں ہے پہ بہتر ہے جماد اس سے
کسے ہیں بند ان نے کیسے کس درویش سے ملیے
جو ایسے سخت عقدوں کی طلب کریے کشاد اس سے
بھلا یوں گھٹ کے مریے کب تلک دل خوں ہوا سارا
جو کوئی دادگر ہووے تو کریے جاکے داد اس سے
لگے ہی ایک دو رہتے ہیں مہلت بات کی کیسی
ہوا ہے دشمنوں کو کچھ قیامت اتحاد اس سے
پہنچ کر تہ کو ہم تو محض محرومی ہی پاتے ہیں
مراد دل کو پہنچا ہو گا کوئی نامراد اس سے
لیے ہی میان سے رہتا ہے کوئی یہ نہیں کہتا
نکالا ہے کہاں کا تونے اے ظالم عناد اس سے
ادھر توبہ کرے ہے میر ادھر لگتا ہے مے پینے
کہاں تک اب تو اپنا اٹھ گیا ہے اعتماد اس سے
میر تقی میر

یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اگر ہر شہر اپنی ذات میں بغداد ہو جائے
یہ دنیا جابروں کے قہر سے آزاد ہو جائے
وہ ریگستاں جسے مورخ بھی قاصر تھے جلانے سے
کہاں ممکن ہے تیری آگ سے برباد ہو جائے
کرشمہ دیکھئے اُس کی خبر سازی کی صنعت کا
ستم احسان بن جائے، کرم بے داد ہو جائے
کہاں تک تجربہ پر تجربہ کرتے چلے جائیں
سبق وُہ دو، ہمیشہ کے لئے جو یاد ہو جائے
اگر تقدیر سے اک خواب بھی سچا نکل آئے
تو اِس دورانِ غم کی مختصر میعاد ہو جائے
ابھی اِس شہر میں سچ بولنے کی رُت نہیں آئی
تو اِس پت جھڑ میں کوئی شعر ہی ارشاد ہو جائے
آفتاب اقبال شمیم