ٹیگ کے محفوظات: داخلی

زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی

اے زمانے بتا، کیا ہوئی خودکشی
زہر کیسا لگا، ہو چکی خودکشی؟
سُرخروئی کے درجے کو پہنچی ہوئی
ہائے! ہائے! مری آخری خودکشی
ایک بھی کام دل سے نہیں ہو سکا
زندگی، شاعری، کافری، خودکشی
بھوک نے چاٹ لی وقفۂ شور میں
برتنوں میں سجائی گئی خودکشی
چار بچّوں کی ماں کیا کرے گی، جسے
کم سِنی میں ملی کاغذی خودکشی
سارہؔ، ثروتؔ، شکیبؔ اور میرے لیے
لا کوئی مدھ بھری مذہبی خودکشی
عشق نے جو کیا حال، مت پوچھیے
کر گئے ہوش میں شیخ جی خودکشی
روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں
روز کرتا ہوں میں داخلی خودکشی
پیڑ، پودے فلکؔ چیخنے لگ گئے
سب پرندوں نے جب سوچ لی خودکشی
افتخار فلک

اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 20
اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے!
اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
جن میں کوئی کمی ہی نہیں تھی وہ دن
اک کمی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
آپ تک جانے والے سبھی راستے
داخلی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
شاعری پہلا الزام تھی ذات پر
پھر کئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
رنگ جتنے بھرے میں نے تصویر میں
سرمئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
سرسری ایک کردار تھے ہم کبھی
مرکزی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اور لوگوں کے جیسے کہاں آپ تھے
آپ بھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اِن نگاہوں میں تھے جو ہزاروں سخن
اَن کہی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اُس کی صحبت میں گزرے ہوئے سارے پل
شاعری ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ہم مہا شبد کا اولیں بھید تھے
روشنی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
نینا عادل

تیرا وعدہ تری گلی اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 322
آخرِ شب کی بے کلی اور میں
تیرا وعدہ تری گلی اور میں
دل سے اٹھتے ہوئے دھویں کے قریب
ایک لکڑی سی ادھ جلی اور میں
منتظر ہیں جنابِ جبرائیل
گفتگو میں مگن علی اور میں
رات کو کاٹتے ہیں چاقو سے
شہر کی ایک باولی اور میں
شام کے ساتھ ساتھ بہتے تھے
ایک سپنے میں سانولی اور میں
عارض و لب کی دلکشی اور لوگ
ایک تصویر داخلی اور میں
حاشیوں سے نکلتا اک چہرہ
چند ریکھائیں کاجلی اور میں
منصور آفاق