ٹیگ کے محفوظات: دابی

سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے

دیوان چہارم غزل 1522
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے ضعف بھی ہے بیتابی ہے
سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے
آگے ایسا نکھرا نکھرا کاہے کو میں پھرتا تھا
جب سے آنکھ لگی اس مہ سے رنگ مرا مہتابی ہے
کس سے سبب میں پوچھوں یارب اپنی سوزش سینے کا
چھاتی جو جلتی رہتی ہے ات گت آگ مگر یاں دابی ہے
رنج و محن نے عشق کے مجھ کو راحت سے مایوس کیا
دل کے تئیں بیتابی ہے میری آنکھوں کو بے خوابی ہے
ابر کوئی رویا ہے شاید برسوں وادی لیلیٰ میں
سیر کیا وہ قطعہ زمیں کا اب تک بھی سیرابی ہے
شہر حسن عجب بستی ہے ڈھونڈے پیدا مہر نہیں
ہے تو متاع گراں قیمت پھر اس کی بلا نایابی ہے
در بدر و رسوا و عاشق شاعر شاغل کامل میر
گہ کعبے میں دیر میں گاہے کیا کافر ہر بابی ہے
میر تقی میر

آخر کو گرو رکھا سجادئہ محرابی

دیوان اول غزل 438
کل میر نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی
آخر کو گرو رکھا سجادئہ محرابی
جاگا ہے کہیں وہ بھی شب مرتکب مے ہو
یہ بات سجھاتی ہے ان آنکھوں کی بے خوابی
کیا شہر میں گنجائش مجھ بے سر و پا کو ہو
اب بڑھ گئے ہیں میرے اسباب کم اسبابی
دن رات مری چھاتی جلتی ہے محبت میں
کیا اور نہ تھی جاگہ یہ آگ جو یاں دابی
سو ملک پھرا لیکن پائی نہ وفا اک جا
جی کھا گئی ہے میرا اس جنس کی نایابی
خوں بستہ نہ کیوں پلکیں ہر لحظہ رہیں میری
جاتے نہیں آنکھوں سے لب یار کے عنابی
جنگل ہی ہرے تنہا رونے سے نہیں میرے
کوہوں کی کمر تک بھی جا پہنچی ہے سیرابی
تھے ماہ وشاں کل جو ان کوٹھوں پہ جلوے میں
ہے خاک سے آج ان کی ہر صحن میں مہتابی
کل میر جو یاں آیا طور اس کا بہت بھایا
وہ خشک لبی تس پر جامہ گلے میں آبی
میر تقی میر