ٹیگ کے محفوظات: دائرہ

دُور دِل سے خدا نہیں ہوتا

چاہیے گر، تو کیا نہیں ہوتا
دُور دِل سے خدا نہیں ہوتا
کیسے بتلاؤں تجھ کو بن مرکز
دائرہ دائرہ نہیں ہوتا
دن کو تیری خبر نہیں ہوتی
رات میرا پتا نہیں ہوتا
سب ہیں لپٹے ہزار پردوں میں
درِ پہچان وا نہیں ہوتا
کیا اٹھا پائے گا وہ مے کا مزا
جس نے غم تک پیا نہیں ہوتا
یا الٰہی ترا کرم آخر
سب پہ کیوں ایک سا نہیں ہوتا
دشت تنہائی کا سفر یاؔور
ختم تیرے سوا نہیں ہوتا
یاور ماجد

اثر اُسی کا ہمارا بھی ناطقے پر ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
جو وسوسہ تمہیں اپنے کہے سُنے پر ہے
اثر اُسی کا ہمارا بھی ناطقے پر ہے
گئی تھیں کِس کے تعاقب میں بے حصولِ مراد
یہ کیسی گرد نگاہوں کے آئنے پر ہے
وہ کھینچتی ہے جسے پینگ سے بزورِ شباب
نگاہِ چپکی اُسی نصف دائرہ پر ہے
وہ شوخ جب سے نگینہ مری نظر کا ہے
اُسی کی چھاپ چمن کے سمے سمے پر ہے
لُٹے ہیں گُل تو نظر مکتفی ہے پتّوں پر
زہے نصیب گزر ہی رہے سہے پر ہے
نہیں بعید غزل کو شبابِ نَو بخشے
یہی گمان تو ماجدؔ سے منچلے پر ہے
ماجد صدیقی