ٹیگ کے محفوظات: داؤں

سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
شہر کی ناآسودگیاں اور اُجڑی یادیں گاؤں کی
سُکھ کی شِیرِینی کو چیونٹیاں چاٹتی ہیں چِنتاؤں کی
آمر آمر کے سائے میں خلقِ خدا نے پنپنا کیا
رات کی رانی پلنے لگی ہے کوُکھ میں کب صحراؤں کی
وہ بھی کسی کسی بختاور کے حصے میں آتی ہے
آخر کو سرہانے سجتی ہے جو تختی ناؤں کی
کھیل میں بد خُلقی کے ناتے وہ کہ ہے جو شہ زور بنا
زِچ لگتا ہے کیا کیا،کوشش کرتے آخری داؤں کی
بھلے وہ حق میں ہو اولاد کے، خالص اور پوِتّر بھی
پھولنے پھلنے پائی ہے کب چاہت بیوہ ماؤں کی
ہم کہ جنموں کے ہیں مسافر مغوی طیّاروں کے،ہمیں
جانے کیا کیا باقی ہے ملنی تعزِیر خطاؤں کی
بادلوں میں بھی دیکھو ماجِد ابکے یہ کیا پھوٹ پڑی
چھائے دشت نوردوں کے سر ٹُکڑی ٹُکڑی چھاؤں کی
ماجد صدیقی

سپنے سکُھ کی چھاؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نقش بنے صحراؤں کے
سپنے سکُھ کی چھاؤں کے
دیدۂ تر کو مات کریں
دشت میں چھالے پاؤں کے
دیکھیں کیا دکھلاتے ہیں
پتّے آخری داؤں کے
پیڑ اکھڑتے دیکھے ہیں
کِن کِن شوخ اناؤں کے
ابریشم سے جسموں پر
برسیں سنگ جفاؤں کے
خرکاروں کے ہاتھ لگیں
لعل بلکتی ماؤں کے
ماجدؔ دیہہ میں شہری ہم
شہر میں باسی گاؤں کے
ماجد صدیقی

دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
شاہ اِس طرح گداؤں سے ملے
دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے
سیدھے ہاتھوں نہ ملے کُچھ بھی یہاں
جو ملے اوج وہ داؤں سے ملے
آنچ سب میں تھی لہو جلنے کی
جتنے پیغام ہواؤں سے ملے
پُوچھتا کون ہے شہروں میں اُنہیں
ولولے جو ہمیں گاؤں سے ملے
کیا کریں ہم اِسے روشن ماجدؔ!
فیض اب کون سا ناؤں سے ملے
ماجد صدیقی

ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
سخن سرا تھا جو لڑکا سا ایک، گاؤں کا
ہر ایک شہر ہے شیدا اب اُس کے ناؤں کا
ہوا نہ حرفِ لجاجت بھی کامیاب اپنا
چلا نہ اُس پہ یہ پتا بھی اپنے داؤں کا
پسِ خیال ہو بن باس میں وطن جیسے
بہ دشتِ کرب، تصوّر وہی ہے چھاؤں کا
کسے دکھاؤں بھلا میں یہ انتخاب اپنا
گلہ کروں بھی تو اب کس سے آشناؤں کا
تلاشِ رزق سے ہٹ کر کہیں نہ چلنے دیں
ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاؤں کا
بلک رہا ہوں کہ کہتے ہیں جس کو ماں ماجدؔ
اُلٹ گیا ہے مرا طشت وہ دعاؤں کا
ماجد صدیقی

جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی

بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
دل سے یُوں اٹُھتے ہیں حرف دعاؤں کے
بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے
بُعد نجانے تا بہ نشیمن کتنا ہے
تیور ہیں کچھ اور ہی تُند ہواؤں کے
اب کے آس کا عالم ہی کچھ ایسا ہے
ہاتھ میں سکے جیسے آخری داؤں کے
پل پل چھینیں چہروں سے نم راحت کی
حلق میں اٹکے کنکر خشک صداؤں کے
پیشانی میں عجز کی میخیں اُتری ہیں
اور زباں کی نوک پہ وِرد خداؤں کے
رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے
ماجدؔ نقش برآب سمجھتے تھے جس کو
نقش کھُدے ہیں دل پر اُس کے ناؤں کے
ماجد صدیقی