ٹیگ کے محفوظات: خیرات

"جالب ہن گل مک گئی اے "، ہن جان نوں ہی خیرات کرو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 47
کب تک درد کے تحفے بانٹو خون جگر سوغات کرو
"جالب ہن گل مک گئی اے "، ہن جان نوں ہی خیرات کرو
کیسے کیسے دشمن جاں اب پرسش حال کو آئے ہیں
ان کے بڑے احسان ہیں تم پر اٹھو تسلیمات کرو
تم تو ازل کے دیوانے اور دیوانوں کا شیوہ ہے
اپنے گھر کو آگ لگا کر روشن شہر کی رات کرو
اے بے زور پیادے تم سے کس نے کہا کہ یہ جنگ لڑو
شاہوں کو شہ دیتے دیتے اپنی بازی مات کرو
اپنے گریباں کے پرچم میں لوگ تمہیں کفنائیں گے
چاہے تم منصور بنو یا پیروی سادات کرو
فیض گیا اب تم بھی چلے تو کون رہے گا مقتل میں
ایک فراز ہے باقی ساتھی، اس کو بھی اپنے ساتھ کرو
احمد فراز

ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 632
تیرے کرنوں والے ہٹ میں رات کرنا چاہتی ہے
ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے
اپنے بنگلوں کے سوئمنگ پول کی تیراک لڑکی
میرے دریا میں بسر اوقات کرنا چاہتی ہے
وقت کی رو میں فراغت کا نہیں ہے کوئی لمحہ
اور اک بڑھیا کسی سے بات کرنا چاہتی ہے
چاہتا ہوں میں بھی بوسے کچھ لبوں کی لاٹری کے
وہ بھی ملین پونڈ کی برسات کرنا چاہتی ہے
مانگتا پھرتا ہوں میں بھی آگ کا موسم کہیں سے
وہ بھی آتشدان کی خیرات کرنا چاہتی ہے
کیسے کی اس نے نفی جوبات کرنا چاہتی ہے
جو نہیں وہ ذات کیا اثبات کرنا چاہتی ہے
منصور آفاق

اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 455
اک تعلق کی شروعات تھی ہونے والی
اٹھ گئے ہم کہ کوئی بات تھی ہونے والی
لوح پر دیکھ لیا مشرق و مغرب کا نصیب
بس کہیں صبح ، کہیں رات تھی ہونے والی
دیکھنے والا تھا، پھر مڑکے، کوئی ایک نظر
کیا ہوا ، دید کی خیرات تھی ہونے والی
اپنے قہوے کا سماوار ابھی ٹھنڈا تھا
اور مسجد میں مناجات تھی ہونے والی
لینے آئے ہوئے تھے رومی و اقبال ہمیں
اپنی باہو سے ملاقات تھی ہونے والی
کیا ہوا ، وقت بدلنے کی خبر آئی تھی
وا کہیں چشمِ سماوات تھی ہونے والی
تم نہ ملتے تو یہاں سے بھی ہمیں جانا تھا
ایسی کچھ صورتِ حالات تھی ہونے والی
اب جہاں دھوپ نکل آئی ہے کنجِ لب سے
کچھ ہی پہلے یہاں برسات تھی ہونے والی
اس کے کہنے پہ بدل آئے ہیں رستہ اپنا
جب محبت میں اسے مات تھی ہونے والی
ہم چلے آئے ہیں اُس حسن کے دستر خواں سے
جب ہماری بھی مدارات تھی ہونے والی
قتل نامہ تھا کہ جلاد نے ڈھاڑیں ماریں
کیسی اک مرگِ مفاجات تھی ہونے والی
ارتقاء آخری منزل پہ تھا میرا اُس وقت
خلق جب جنسِجمادات تھی ہونے والی
میں پلٹ آیا ہوں منصور ’’مقامِ ہو‘‘ سے
اک عجب بات مرے ساتھ تھی ہونے والی
منصور آفاق