ٹیگ کے محفوظات: خیالی

پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

اتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح
حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے
ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح
ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں
فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح
پاؤں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں
وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح
ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب
کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح
کر گئے اپنا جگر چھلنی تِری یادوں کے تِیر
اب ہوائے غم کو روکے گی یہ جالی کس طرح
گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی
جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح
جس کے من میں ہر گھڑی رہتا ہو تجھ سا جلوہ گَر
اُس کی باتوں میں نہ ہو روشن خیالی کس طرح
مدتیں درکار ہیں باصرِؔ حصولِ صبر کو
ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح
باصر کاظمی

یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 105
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
مصحف رخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے
وہ مروت سے ملا ہے تو جھکادوں گردن
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
بے نوا شہر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جائے
احمد فراز

تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 241
گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے
تب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے
نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوم
لے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے
کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہا
عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

دیوان اول غزل 352
کہے ہے کوہکن کر فکر میری خستہ حالی میں
الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد
یکایک آگیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے
سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ
تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگہ
پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خورد سالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا
نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا
ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے
بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس میناے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے
یہی تو میر اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
میر تقی میر

اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 199
مال کیا پاس ترے ہمت عالی بھی نہیں
اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں
سرِ شوریدہ کو تہذیب سکھا بیٹھا ہوں
ورنہ دیوار مجھے روکنے والی بھی نہیں
خیمۂ شب میں عجب حشرِ عزا برپا ہے
اور ابھی رات چراغوں نے اجالی بھی نہیں
اور ہی شرط ہے پرواز کی، دیکھا تم نے
اب تو وہ مسئلۂ بے پر و بالی بھی نہیں
رات دن شعروں میں تمثال گری کرتا ہوں
طاقِ دل میں کوئی تصویر خیالی بھی نہیں
نقشِ پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
عرفان صدیقی

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق