ٹیگ کے محفوظات: خیالوں

ایک مَنظَر شکستہ حالوں میں

کیا اندھیروں میں کیا اُجالوں میں
ایک مَنظَر شکستہ حالوں میں
اَور کوئی جگہ نہیں محفوظ
چَین سے رہ مِرے خیالوں میں
حُسن و عشق آج کس قَدَر خُوش ہیں
آپ و ہم جیسے با کمالوں میں
جان چھوڑ اے تمازَتِ خُورشید
چاندنی آگئی ہے بالوں میں
یہی کہہ دے، جواب کے قابل
کیا ہے؟ ضامنؔ! تِرے سوالوں میں
ضامن جعفری

ڈھُونڈنا ہم کو اِن حَوالوں میں

دَرد میں آنسُووَں میں چھالوں میں
ڈھُونڈنا ہم کو اِن حَوالوں میں
ڈُوبتے وَقت کی ہَنسی مَت پُوچھ
سَب ہی اَپنے تھے ہَنسنے والوں میں
مَر چُکا ہے ضمیرِ کُوزہ گَراں
گھِر گئے چاک بَد سفالوں میں
ہَم جنوں میں ہیں آپ اَپنی مِثال
ہَم کو مَت ڈھُونڈنا مِثالوں میں
آئینہ دیکھ کر شُبہ سا ہُوا
کوئی باقی ہے مِلنے والوں میں
شہر کے شہر ہو گئے خالی
لوگ بَستے ہیں اَب خیالوں میں
میں اَندھیروں میں تھا بھٹکتا رَہا
آپ کو کیا مِلا اُجالوں میں
اَور کوئی جگہ نہیں محفوظ
چَین سے رہ مِرے خیالوں میں
اُس کی آنکھیں کلام کرتی رہیِں
میں بھی اُلجھا نہیں سوالوں میں
حُسن و عشق آج کس قَدَر خُوش ہیں
آپ اُور مُجھ سے باکمالوں میں
کِس پہ ضامنؔ نے یہ کہی ہے غزل
ہیں چِہ مِیگوئیاں غزالوں میں
ضامن جعفری

وحشت کرنا شیوہ ہے کیا اچھی آنکھوں والوں کا

دیوان پنجم غزل 1537
دور بہت بھاگو ہو ہم سے سیکھے طریق غزالوں کا
وحشت کرنا شیوہ ہے کیا اچھی آنکھوں والوں کا
صورت گر کی پریشانی نے طول نہایت کھینچا ہے
ہم نے کیوں بستار کیا تھا اس کے لمبے بالوں کا
بہت کیا تو پتھر میں سوراخ کیے ہیں در فشوں نے
چھید جگر میں کر دینا یہ کام ہے محزوں نالوں کا
سرو لب جو لالہ و گل نسرین و سمن ہیں شگوفہ ہے
دیکھو جدھر اک باغ لگا ہے اپنے رنگیں خیالوں کا
غنچہ ہوا ہے خار بیاباں بعد زیارت کرنے کے
پانی تبرک کرتے ہیں سب پائوں کے میرے چھالوں کا
پہلے تدارک کچھ ہوتا تو نفع بھی ہوتا سو تو میر
کام ہے آخر عشق میں اس کے بیماروں بدحالوں کا
میر تقی میر

کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو

دیوان سوم غزل 1235
رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو
کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو
اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو
الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو
جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں
نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو
نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو
تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو
کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت
نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو
دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے
بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو
یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں
تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو
نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے
کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو
کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے
مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو
میر تقی میر

کہ بل دے باندھتے ہیں پیچ پگڑی کے بھی بالوں سے

دیوان اول غزل 477
رہا ہونا نہیں امکان ان ترکیب والوں سے
کہ بل دے باندھتے ہیں پیچ پگڑی کے بھی بالوں سے
تجھے نسبت جو دیتے ہیں شرار و برق و شعلے سے
تسلی کرتے ہیں ناچار شاعر ان مثالوں سے
بلا کا شکر کر اے دل کہ اب معلوم ہوتی ہے
حقیقت عافیت کی اس گلی کے رہنے والوں سے
نہیں اے ہم نفس اب جی میں طاقت دوری گل کی
جگر ٹکڑے ہوا جاتا ہے آخر شب کے نالوں سے
نہیں خالی اثر سے تصفیہ دل کا محبت میں
کہ آئینے کو ربط خاص ہے صاحب جمالوں سے
کہاں یہ قامت دلکش کہاں پاکیزگی ایسی
ملے ہیں ہم بہت گلزار کے نازک نہالوں سے
ہدف اس کا ہوئے مدت ہوئی سینے کو پر اب تک
گتھا نکلے ہے لخت دل مرا تیروں کے بھالوں سے
ہوا پیرانہ سر عاشق ہو زاہد مضحکہ سب کا
کہن سالی میں ملتا ہے کوئی بھی خورد سالوں سے
رگ گل کوئی کہتا ہے کوئی اے میر مو اس کو
کمر اس شوخ کی بندھتی نہیں ان خوش خیالوں سے
میر تقی میر