ٹیگ کے محفوظات: خو

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
عزت وہ دیں مجُھے کہ مرا دل لہو کریں
جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں
پل میں نظر سے جو مہِ نخشب سا کھو گیا
کس آس میں ہم اُس کی بھلا جستجو کریں
سُوجھے نہ راہِ ترکِ محبت ہی اک اُنہیں
کچھ اور بھی علاج مرے چارہ جُو کریں
پہنچیں نہ ایڑیاں بھی اُٹھا کر جو مجھ تلک
رُسوا وہ لوگ کیوں نہ مجھے کُو بہ کُو کریں
پیروں تلے ہیں اُس کے سبھی کے سروں کے بال
اب منصفی کو کس کے اُسے رُوبروکریں
اُس کے ستم کا خوف ہی اُس کا ہے احترام
چرچا جبھی تو اُس کا سبھی چار سُو کریں
وہ عجز کیا کہ جس پہ گماں ہو غرور کا
ماجدؔ ہم اختیار نہ ایسی بھی خُو کریں
ماجد صدیقی

دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

احمد فراز ۔ غزل نمبر 35
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح
یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح
وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح
ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح
احمد فراز

کب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 78
کب ہاتھ کو خیالِ جزائے رفو نہیں
کب پارہ پارہ پیرہنِ چارہ جو نہیں
گلگشتِ باغ کس چمن آرا نے کی کہ آج
موجِ بہار مدعی رنگ و بو نہیں
واں بار ہو گیا ہے نزاکت سے بار بھی
یاں ضعف سے دماغ و دلِ آرزو نہیں
کس نے سنا دیا دلِ حیرت زدہ کا حال
یہ کیا ہوا کہ آئنہ اب روبرو نہیں
تغئیرِ رنگ کہتی ہے وصلِ عدو کا حال
یعنی نقاب رخ پہ کبھو ہے، کبھو نہیں
گستاخِ شکوہ کیا ہوں کہ اندازِ عرض پر
کہتے ہیں اختلاط کی بندے کی خو نہیں
کیا جانے دردِ زخم کو گو ہو شہیدِ ناز
جو نیم کشتِ خنجرِ رشکِ عدو نہیں
ابرِ سرشک و گلشنِ داغ و نسیمِ آہ
سامانِ عیش سب ہے پر افسوس تو نہیں
بد خوئیوں سے یار کی کیا خوش ہوں شیفتہ
ہر ایک کو جو حوصلۂ آرزو نہیں
مصطفٰی خان شیفتہ

میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 152
خوب ہے شوق کا یہ پہلو بھی
میں بھی برباد ہو گیا، تو بھی
حسنِ مغموم، تمکنت میں تری
فرق آیا نہ یک سرِ مو بھی
یہ نہ سوچا تھا زیرِ سایہ ءِ زلف
کہ بچھڑ جائے گی یہ خوشبو بھی
حسن کہتا تھا چھیڑنے والے
چھیڑنا ہی تو بس نہیں چھو بھی
ہائے اس کا وہ موج خیز بدن
میں تو پیاسا رہا لبِ جُو بھی
یاد آتے ہیں معجزے اپنے
اور اس کے بدن کا جادو بھی
یاسمیں! اس کی خاص محرمِ راز
یاد آیا کرے گی اب تو بھی
یاد سے اس کی ہے مرا پرہیز
اے صبا اب نہ آئیو تو بھی
ہیں یہی جون ایلیا جو کبھی
سخت مغرور بھی تھے، بد خو بھی
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 273
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے
یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ سے ہی@ نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادۂ گلفامِ مشک بو@ کیا ہے
پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے
رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
@ اصل نسخے میں ’جب آنکھ سے ہی‘ ہے لیکن بعض جدید نسخوں میں ’جب آنکھ ہی سے‘ رکھا گیا ہے جس سے مطلب زیادہ واضح ہو جاتا ہے لیکن نظامی میں یوں ہی ہے۔@ "بادہ و گلفامِ مشک بو”۔ نسخۂ مہر
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 145
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو
ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو
تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو
الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو
جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو
ہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدر
ہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو
غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا
نہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو
بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
یہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو
مجھے جنوں نہیں غالب ولے بہ قولِ حضور@
’فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘
@حضور: بہادر شاہ ظفر، اگلا مصرعہ ظفر کا ہی ہے جس کی طرح میں غالب نے درباری مشاعرے کے لئے یہ غزل کہی تھی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو

دیوان ششم غزل 1865
بس اب بن چکے رو و موے سمن بو
گری ہو کے بے ہوش مشاطہ یک سو
نہ سمجھا گیا کھیل قدرت کا ہم سے
کیا اس کو بدخو بنا کر نکورو
نہ درگیر کیونکر ہو آپس میں صحبت
کہ میں بوریا پوش وہ آتشیں خو
ہوا ابر و سبزے میں چشمک ہے گل کی
کریں ساز ہم برگ عیش لب جو
بہار آئی گل پھول سر جوڑے نکلے
رہیں باغ میں کاش اس رنگ ہم تو
رہے آبرو میر تو ہے غنیمت
کہ غارت میں دل کی ہے ایماے ابرو
میر تقی میر

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو

دیوان چہارم غزل 1469
وہ گل سا رو سراہوں یا پیچ دار مو کو
نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو
ان گیسوئوں کے حلقے ہیں چشم شوق عاشق
وے آنکھیں دیکھتی ہیں حسرت سے اس کے رو کو
دم کی کشش سے کوشش معلوم تو ہے لیکن
پاتے نہیں ہم اس کی کچھ طرز جستجو کو
آلودہ خون دل سے صد حرف منھ پر آئے
مرغ چمن نہ سمجھا انداز گفتگو کو
دل میر دلبروں سے چاہا کرے ہے کیا کیا
کچھ انتہا نہیں ہے عاشق کی آرزو کو
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے

دیوان سوم غزل 1286
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے
وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے
دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو
جب تلک دوری سے کوئی خو کرے
دم میں ہو آئینۂ عالم سیاہ
ایک اگر عاشق قلندر ہو کرے
کس سے تیری چاہیے داد ستم
کاش انصاف اپنے دل میں تو کرے
غنچہ پیشانی چمن میں میں رہا
بے دماغ عشق گل کیا بو کرے
لوہو پانی ایک کر دیتا ہے عشق
پانی کردے چشم دل لوہو کرے
اب جنوں میں میر سوے دشت جائے
کار وحشت کے تئیں یک سو کرے
میر تقی میر

ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم

دیوان سوم غزل 1173
ہر ہر سخن پہ اب تو کرتے ہو گفتگو تم
ان بدمزاجیوں کو چھوڑوگے بھی کبھو تم
یاں آپھی آپ آکر گم آپ میں ہوئے ہو
پیدا نہیں کہ کس کی کرتے ہو جستجو تم
چاہیں تو تم کو چاہیں دیکھیں تو تم کو دیکھیں
خواہش دلوں کی تم ہو آنکھوں کی آرزو تم
حیرت زدہ کسو کی یہ آنکھ سی لگے ہے
مت بیٹھو آرسی کے ہر لحظہ روبرو تم
تھے تم بھبھوکے سے تو پر اب جلا ہی دوہو
سوزندہ آگ کی کیا سیکھے ہو ساری خو تم
نسبت تو ہم دگر ہے گو دور کی ہو نسبت
ہم ہیں نواے بلبل ہو گل کے رنگ و بو تم
دیکھ اشک سرخ بولا یہ رنگ اور لائے
ہیں میر منھ پہ آنسو یا روتے ہو لہو تم
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو

دیوان دوم غزل 920
ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو
سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو
کیا کیا جوان ہم نے دنیا سے جاتے دیکھے
اے عشق بے محابا دنیا ہو اور تو ہو
ایسے کہو گے کچھ تو ہم چپکے ہو رہیں گے
ہر بات پر کہاں تک آپس میں گفتگو ہو
کیا ہے جواب ظالم پرسش کے روز کہیو
جو روسیاہ یہ بھی واں آ کے روبرو ہو
پرخوں ہمارے دل سے کتنی ہے تو مشابہ
شاید کلی تجھے بھی اس گل کی آرزو ہو
خط اس کے پشت لب کا ساکت کرے گا تجھ کو
کہیو اگر تفاوت اس میں بقدرمو ہو
کھولے تھے بال کن نے ہنگام صبح اپنے
آئی ہے اے صبا تو ایسی جو مشک بو ہو
درویشی سے بھی اپنی نکلے ہے میرزائی
نقش حصیر تن پر ایسے ہیں جوں اتو ہو
مت التیام چاہے پھر دل شکستگاں سے
ممکن نہیں کہ شیشہ ٹوٹا ہوا رفو ہو
کہتے ہو کانپتا ہوں جوں بید عاشقی سے
تم بھی تو میر صاحب کتنے خلاف گو ہو
میر تقی میر

گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات

دیوان دوم غزل 782
کیا پوچھتے ہو آہ مرے جنگجو کی بات
گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات
اس باغ میں نہ آئی نظر خرمی مری
گر سبز بھی ہوا ہوں تو جیسے کسو کی بات
آئینہ پانی پانی رہا اس کے سامنے
کہیے جہاں کہوں یہ تو ہے روبرو کی بات
سر گل نے پھر جھکا کے اٹھایا نہ شرم سے
گلزار میں چلی تھی کہیں اس کے رو کی بات
حرمت میں مے کی کہنے سے واعظ کے ہے فتور
کیا اعتبار رکھتی ہے اس پوچ گو کی بات
ہم سوختوں میں آتش سرکش کا ذکر کیا
چل بھی پڑی ہے بات تو اس تند خو کی بات
کیا کوئی زلف یار سے حرف و سخن کرے
رکھتی ہے میر طول بہت اس کے مو کی بات
میر تقی میر

نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی

دیوان اول غزل 434
یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
نظر اس طرف بھی کبھو تھی کسو کی
سحر پاے گل بے خودی ہم کو آئی
کہ اس سست پیماں میں بو تھی کسو کی
یہ سرگشتہ جب تک رہا اس چمن میں
برنگ صبا جستجو تھی کسو کی
نہ ٹھہری ٹک اک جان بر لب رسیدہ
ہمیں مدعا گفتگو تھی کسو کی
جلایا شب اک شعلۂ دل نے ہم کو
کہ اس تند سرکش میں خو تھی کسو کی
نہ تھے تجھ سے نازک میانان گلشن
بہت تو کمر جیسے مو تھی کسو کی
دم مرگ دشوار دی جان ان نے
مگر میر کو آرزو تھی کسو کی
میر تقی میر

کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 46
عزمِ نظر نہیں، ہوسِ جستجو نہیں
کوئی بھی اب شریکِ غمِ آرزو نہیں
ہے اس چمن میں نالۂ صد عندلیب بھی
صرف ایک شورِ قافلۂ رنگ و بو نہیں
میرے نصیبِ شوق میں لکّھا تھا یہ مقام
ہر سو ترے خیال کی دنیا ہے، تو نہیں
ہنستا ہوں پی کے ساغرِ زہرابِ زندگی
میں کیا کروں کہ مجھ کو تڑپنے کی خو نہیں
مجید امجد