ٹیگ کے محفوظات: خوں

جا بجا تیرے لئے یہ سر، نگوں کرنا پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
کیا کہیں کیا کچھ ہمیں دنیائے دُوں کرنا پڑا
جا بجا تیرے لئے یہ سر، نگوں کرنا پڑا
ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے
قافلے کا ساتھ آخر، ترک کیوں، کرنا پڑا
سر ہم ایسوں سے کہاں ہونا تھا قلعہ جبر کا
ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا
خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا
وُوں نہ کچھ ہم سے ہُوا ماجد تو یُوں کرنا پڑا
ماجد صدیقی

بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا
مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے
ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا
سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی
ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا
ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے
قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا
خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا
وُوں نہ کچھ ماجدؔ ہُوا ہم سے تو یوں کرنا پڑا
ماجد صدیقی

یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 147
عشق بس ایک کرشمہ ہے، فسوں ہے، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے، یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے، نہ بروں ہے، یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے، یوں ہے
اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے، یوں ہے
تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے، یوں ہے
ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے، یوں ہے
شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے، یوں ہے
احمد فراز

کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 4
سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 59
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہیئے
خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے
کشمکشِ حیات ہے ، سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں، زہرِ سکوں بھی چاہیئے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب جوشِ جنوں بھی چاہیئے
نغمۂِ شوق خوب تھا، ایک کمی ہے مطربہ
شعلۂِ لب کی خیر ہو، سوزِ دروں بھی چاہیئے
اتنا کرم تو کیجیے ، بجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیئے
دیکھیے ہم کو غور سے ، پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے حالِ زبوں بھی چاہیئے
شکیب جلالی

قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 4
کون جانے کہاں ہے شہرِ سکوں
قریہ قریہ بھٹک رہا ہے جنوں
نورِ منزل مجھے نصیب کہاں
میں ابھی حلقۂِ غبار میں ہوں
یہ ہے تاکید سننے والوں کی
واقعہ خوشگوار ہو تو کہوں
کن اندھیروں میں کھو گئی ہے سحر
چاند تاروں پہ مار کر شب خوں
تم جسے نورِ صبح کہتے ہو
میں اسے گردِ شام بھی نہ کہوں
اب تو خونِ جگر بھی ختم ہوا
میں کہاں تک خلا میں رنگ بھروں
جی میں آتا ہے اے رہِ ظلمت
کہکشاں کو مروڑ کر رکھ دوں
شکیب جلالی

ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 67
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
جون ایلیا

سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 199
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالب شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
مرزا اسد اللہ خان غالب

کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں

دیوان سوم غزل 1216
مصرع کوئی کوئی کبھو موزوں کروں ہوں میں
کس خوش سلیقگی سے جگر خوں کروں ہوں میں
بات اپنے ڈھب کی کوئی کرے وہ تو کچھ کہوں
بیٹھا خموش سامنے ہوں ہوں کروں ہوں میں
اس بن نظر زمین سے سی دی ہے تو کہے
کاہے کو چشم جانب گردوں کروں ہوں میں
اٹھتا ہے بے دماغ ہی ہرچند رات کو
افسانہ کہتے سینکڑوں افسوں کروں ہوں میں
کب بے دماغی شہر سے دیتی ہے اٹھنے میر
یوں تو خیال وادی مجنوں کروں ہوں میں
میر تقی میر

وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا

دیوان سوم غزل 1073
اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا
وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا
ٹھہرا گیا ہو ٹک بھی تو تم سے بیاں کروں
آتے ہی اس کے رفتن صبر و سکوں ہوا
تھا شوق طوف تربت مجنوں مجھے بہت
اک گردباد دشت مرا رہنموں ہوا
سیلاب آگے آیا چلا جاتے دشت میں
بے اختیار رونے کا میرے شگوں ہوا
جان اس کی تیغ تیز سے رکھ کر دریغ میر
صید حرم ندان شکار زبوں ہوا
میر تقی میر

اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا

دیوان دوم غزل 759
اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا
اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا
اچھا نہیں ہے رفتن رنگیں بھی اس قدر
سنیو کہ اس کی چال پر اک آدھ خوں ہوا
جی میں تھا خوب جاکے خرابے میں رویئے
سیلاب آیا آ کے چلا کیا شگوں ہوا
نخچیرگاہ عشق میں افراط صید سے
روح الامیں کا نام شکار زبوں ہوا
ہوں داغ نازکی کہ کیا تھا خیال بوس
گلبرگ سا وہ ہونٹ جو تھا نیلگوں ہوا
میں دور ہوں اگرچہ برابر ہوں خاک سے
اس رہ میں نقش پا ہی مرا رہ نموں ہوا
میر ان نے سرگذشت سنی ساری رات کو
افسانہ عاشقی کا ہماری فسوں ہوا
میر تقی میر

جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا

دیوان اول غزل 141
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا
میر تقی میر

آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 39
شیشوں سے ٹکرائیں شیشے، بھید کھلیں یوں آنکھوں میں
آنکھیں پڑھ لیں اگلے دن کی دھوپ کا مضمون آنکھوں میں
کیا درشن تھے، ہم تو رہتی عمر کی نیندیں ہار آئے
جاگ رہا ہے اُس گوری کے حُسن کا افسوس آنکھوں میں
اے خود داری آئینے میں عکس مکرر کس کا ہے
کوئی بالکل اُس جیسا ہی رہتا ہے کیوں آنکھوں میں
جاناں ! پہلے رسمِ وفا کی تیاری ہو لینے دو
پھر جذبوں کا سورج بن کر چمکے گا خوں آنکھوں میں
بینائی کی پیاس بڑھے اور ظلمت کا احساس بڑھے
اندر کے در کھولتی جائیں کرنیں جوں جوں آنکھوں میں
شغل کیا جائے بے موسم چاک گریباں کرنے کا
لفظوں کے جادو سے کر لو منظر گلگلوں آنکھوں میں
آفتاب اقبال شمیم

سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 222
میں اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن… پُر سکوں کچھ دن
سمندر کے کنارے ایک کاٹج میں رہوں کچھ دن
کہیں ڈھلتی ہوئی شب کو بھی ورزش کی ضرورت ہے
میں اپنے دوستوں کے ساتھ جاگنگ چھوڑ دوں کچھ دن
ابھی کچھ دن پلیٹوں میں رکھوں جذبے قیامت کے
سلاخوں میں دہکتے گوشت پر نظمیں لکھوں کچھ دن
مرے ہم عصر پیرس اب اداسی چھوڑ دے اپنی
جدا ہونا تو ہے لیکن ابھی میں اور ہوں کچھ دن
ابھی اس لمس تک شاید کئی ہفتوں کا رستہ ہے
رگوں میں تیز رہنی ہے ابھی رفتارِ خوں کچھ دن
بدن کے شہر کو جاتی سڑک پہ کوئی خطرہ ہے ؟
مجھے حیرت سرائے روح میں رہنا ہے کیوں کچھ دن
بہت ہی سست ہیں نبضیں مرے شہرِ نگاراں کی
اضافہ خود سری میں کچھ، چلے رسمِ جنوں کچھ دن
منصور آفاق