ٹیگ کے محفوظات: خون

یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں

دل گرفتہ ہیں ، جگر خون ہوئے جاتے ہیں
یہ عجب پیار کے قانون ہوئے جاتے ہیں
اس قرینے سے گُنہ گار ہوئے ہیں رُسوا
اہلِ تقدیس بھی مطعون ہوئے جاتے ہیں
ہم تو ہر غم کو محبت کا تقاضا سمجھے
کیا خبر تھی ترے ممنون ہوئے جاتے ہیں
قلبِ خوددار شکستہ تو محبت زخمی
میرے محسن کے کئی خون ہوئے جاتے ہیں
دولتِ اُنس و محبت ہے فقط اِن کا نصیب
میرے احباب تو قارون ہوئے جاتے ہیں
اپنا کہتے ہوئے ڈرتی ہے مری سادہ رَوی
اس قدر شوخ سے مضمون ہوئے جاتے ہیں
جس قدر تجھ پہ لٹاتے ہیں متاعِ ہستی
اتنے ہی ہم ترے مرہون ہوئے جاتے ہیں
شکیب جلالی

ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 327
تم نے کھینچا وہ افسون ہر دور میں
ہر گھڑی غم کا مضمون ہر دور میں
صبحِ جمہوریت کے اجالوں پہ بس
تم نے مارا ہے شب خون ہر دور میں
نور و نکہت پہ طاقت سے نافذ ہوا
ظلمتِ شب کا قانون ہر دور میں
بس لہو فاختہ کا گرایا گیا
اور کٹی شاخِ زیتون ہر دور میں
زندگی چیختی اور سسکتی رہے
ہے یہی کارِ مسنون ہر دور میں
ملتی لوگوں کو منصور روٹی نہیں
اور فیاض قارون ہر دور میں
منصور آفاق