ٹیگ کے محفوظات: خونباری

کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1372
رنج کیا کیا ہم نے کھینچے دوستی یاری کے بیچ
کیا ہوئی تقصیر اس کی نازبرداری کے بیچ
دوش و آغوش و گریباں دامن گلچیں ہوئے
گل فشانی کر رہی ہے چشم خونباری کے بیچ
ایک کو اندیشۂ کار ایک کو ہے فکر یار
لگ رہے ہیں لوگ سب چلنے کی تیاری کے بیچ
منتظر تو رہتے رہتے پھر گئیں آنکھیں ندان
وہ نہ آیا دیکھنے ہم کو تو بیماری کے بیچ
جان کو قید عناصر سے نہیں ہے وارہی
تنگ آئے ہیں بہت اس چار دیواری کے بیچ
روتے ہی گذری ہمیں تو شب نشینی باغ کی
اوس سی پڑتی رہی ہے رات ہر کیاری کے بیچ
یاد پڑتا ہے جوانی تھی کہ آئی رفتگی
ہو گیا ہوں میں تو مست عشق ہشیاری کے بیچ
ایک ہوویں جو زبان و دل تو کچھ نکلے بھی کام
یوں اثر اے میر کیا ہو گریہ و زاری کے بیچ
میر تقی میر

رکن کاہے کو چشم تر کی خونباری کا کیا باعث

دیوان چہارم غزل 1366
نہیں گر چوٹ دل پر گریہ و زاری کا کیا باعث
رکن کاہے کو چشم تر کی خونباری کا کیا باعث
ہوئے تختے چمن کے چھاتیاں اے عشق داغوں سے
بہار آنے سے آگے ایسی گل کاری کا کیا باعث
تماشا ہے کہ اکثر نرگسی زن رہتے ہو ہم پر
ہمیں سے پوچھو تو پھر میر بیماری کا کیا باعث
میر تقی میر