ٹیگ کے محفوظات: خوشی

فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر

اپنا زیادہ وقت ہوا نوکری کی نذر
فرصت اگر ملی تو ہوئی کاہلی کی نذر
اپنی خوشی تمہاری خوشی میں تھی اس لیے
کردی خوشی خوشی سے تمہاری خوشی کی نذر
یہ جسم ہے سو تیری امانت ہے اے اجل
وہ جاں تو کر چکے ہیں کبھی کے کسی کی نذر
کچھ نیکیاں جو اشکِ ندامت کا تھیں ثمر
صد حیف سب کی سب ہوئیں تر دامنی کی نذر
خود آگہی کے گرچہ مواقع ملے بہت
ہوتے رہے مگر وہ مری بے خودی کی نذر
باصر ؔہمارے کام نہ آیا ہمارا دل
کچھ اُن کی نذر ہو گیا کچھ شاعری کی نذر
باصر کاظمی

کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
نہ آنے دے یہ موسم بے دلی کا
کوئی جھونکا، کوئی مژدہ خوشی کا
عبادت اور کی، قبلہ کہیں اور
عجب انداز نکلا بندگی کا
قد و قامت پہ نازاں ہے جو شعلہ
لگے چربہ اُسی سرو سہی کا
جہاں کُھل کھیلنے آئے تھے ژالے
وہیں تھا اِک گھروندا بھی کسی کا
گراں مایہ ہے ربطِ بے غرض بھی
یہ چنبیلی نشاں ہے آشتی کا
نہ جانے کب چلن اپنا بدل لے
بھروسہ کیا ہے ماجد آدمی کا
ماجد صدیقی

شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 85
خوش مزاجی مجھ پہ میری بے دلی کا جبر ہے
شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے
کون بنتا ہے کسی کی خود ستائی کا سبب
عکس تو بس آئینے پر روشنی کا جبر ہے
خواب خواہش کا، عدم اثبات کا، غم وصل کا
زندگی میں جو بھی کچھ ہے سب کسی کا جبر ہے
اپنے رد ہونے کا ہر دم خوف رہتا ہے مجھے
یہ مری خود اعتمادی خوف ہی کا جبر ہے
کارِ دنیا کے سوا کچھ بھی مرے بس میں نہیں
میری ساری کامیابی بے بسی کا جبر ہے
میں کہاں اور بے ثباتی کا یہ ہنگامہ کہاں
یہ مرا ہونا تو مجھ پر زندگی کا جبر ہے
یہ سخن یہ خوش کلامی در حقیقت ہے فریب
یہ تکلم روح کی بے رونقی کا جبر ہے
شہرِ دل کی راہ میں حائل ہیں یہ آسائشیں
یہ مری آسودگی کم ہمتی کا جبر ہے
جس کا سارا حُسن تیرے ہجر ہی کے دم سے تھا
وہ تعلق اب تری موجودگی کا جبر ہے
جبر کی طابع ہے ہر کیفیتِ عمرِ رواں
آج کا غم جس طرح کل کی خوشی کا جبر ہے
کچھ نہیں کھلتا مرے شوقِ تصرف کا سبب
شوقِ سیرابی تو میری تشنگی کا جبر ہے
جو سخن امکان میں ہے وہ سخن ہے بے سخن
یہ غزل تو کچھ دنوں کی خامشی کا جبر ہے
عرفان ستار

کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 68
بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے
کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے
کسے الزام دوں میں رائگاں ہونے کا اپنے
کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے
ہر اک لمحہ مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت
کبھی تجھ سے، کبھی خود سے، کبھی اس زندگی سے
مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی
میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے
وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے
کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے
سکونِ خانۂ دل کے لیے کچھ گفتگو کر
عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب بستگی سے
تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ
میں اب اُکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے
جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا
مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے
ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا
ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے
رہا وہ ملتفت میری طرف پر اُن دنوں میں
خود اپنی سمت دیکھے جا رہا تھا بے خودی سے
کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ
کہاں تک دل کو بہلائوں میں تیری دل کشی سے
کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی
مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے
وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا
یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے
ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے
تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے
عرفان ستار

ہم آج خلوتِ جاں میں بھی بے دلی سے گئے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 65
شگفتگی سے گئے، دل گرفتگی سے گئے
ہم آج خلوتِ جاں میں بھی بے دلی سے گئے
گلہ کریں بھی تو کس سے وہ نامرادِ جنوں
جو خود زوال کی جانب بڑی خوشی سے گئے
سنا ہے اہلِ خرد کا ہے دورِ آئندہ
یہ بات ہے تو سمجھ لو کہ ہم ابھی سے گئے
خدا کرے نہ کبھی مل سکے دوامِ وصال
جیئں گے خاک اگر تیرے خواب ہی سے گئے
ہے یہ بھی خوف ہمیں بے توجہی سے سِوا
کہ جس نظر سے توقع ہے گر اُسی سے گئے؟
مقام کس کا کہاں ہے، بلند کس سے ہے کون؟
میاں یہ فکر کروگے تو شاعری سے گئے
ہر ایک در پہ جبیں ٹیکتے یہ سجدہ گزار
خدا کی کھوج میں نکلے تھے اور خودی سے گئے
سمجھتے کیوں نہیں یہ شاعرِ کرخت نوا
سخن کہاں کا جو لہجے کی دلکشی سے گئے؟
گلی تھی صحن کا حصہ ہمارے بچپن میں
مکاں بڑے ہوئے لیکن کشادگی سے گئے
برائے اہلِ جہاں لاکھ کجکلاہ تھے ہم
گئے حریمِ سخن میں تو عاجری سے گئے
یہ تیز روشنی راتوں کا حسن کھا گئی ہے
تمہارے شہر میں ہم اپنی چاندنی سے گئے
فقیہِ شہر کی ہر بات مان لو چپ چاپ
اگر سوال اٹھایا، تو زندگی سے گئے
نہ پوچھیئے کہ وہ کس کرب سے گزرتے ہیں
جو آگہی کے سبب عیشِ بندگی سے گئے
اٹھاوٗ رختِ سفر، آوٗ اب چلو عرفان
حسیں یہاں کے تو سب خوئے دلبری سے گئے
عرفان ستار

وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 25
چھلک رہی ہے جو مجھ میں وہ تشنگی ہی نہ ہو
وہ شے جو دل میں فراواں ہے بے دلی ہی نہ ہو
گزر رہا ہے تُو کس سے گریز کرتا ہوا
ٹھہر کے دیکھ لے اے دل کہیں خوشی ہی نہ ہو
ترے سکوت سے بڑھ کر نہیں ہے تیرا سخن
مرا سخن بھی کہیں میری خامشی ہی نہ ہو
میں شہرِ جاں سے اُسی کی طرف ہی لوٹوں گا
یہ اور بات کہ اب میری واپسی ہی نہ ہو
وہ آج مجھ سے کوئی بات کہنے والا ہے
میں ڈر رہا ہوں کہ یہ بات آخری ہی نہ ہو
نہ ہو وہ شخص مزاجاً ہی سرد مہر کہیں
میں بے رُخی جسے کہتا ہوں بے حسی ہی نہ ہو
یہ کیا سفر ہے کہ جس کی مسافتیں گُم ہیں
عجب نہیں کہ مری ابتدا ہوئی ہی نہ ہو
ہر اعتبار سے رہتا ہے با مراد وہ دل
امید جس نے کبھی اختیار کی ہی نہ ہو
عجیب ہے یہ مری لا تعلقی جیسے
جو کر رہا ہوں بسر میری زندگی ہی نہ ہو
یہ شعلگی تو صفت ہے الم نصیبوں کی
جو غم نہ ہو تو کسی دل میں روشنی ہی نہ ہو
کہیں غرور کا پردہ نہ ہو یہ کم سخنی
یہ عجز اصل میں احساسِ برتری ہی نہ ہو
مرے سپرد کیا اُس نے فیصلہ اپنا
یہ اختیار کہیں میری بے بسی ہی نہ ہو
عرفان ستار

ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 101
بلا سے ہو شام کی سیآ ہی کہیں تو منزل مری ملے گی
ادھر اندھیرے میں چل پڑوں گا جدھر مجھے روشنی ملے گی
ہجومِ محشر میں کیسا ملنا نظر فریبی بڑی ملے گی
کسی سے صورت تری ملے گی کسی سے صورت مری ملے گی
تمھاری فرقت میں تنگ آ کر یہ مرنے والوں کا فیصلہ ہے
قضا سے جو ہمکنار ہو گا اسے نئی زندگی ملے گی
قفس سے جب چھٹ کے جائیں گے ہم تو سب ملین گے بجز نشیمن
چمن کا ایک ایک گل ملے گا چمن کی اک اک کلی ملے گی
تمھاری فرقت میں کیا ملے گا، تمھارے ملنے سے کیا ملے گا
قمر کے ہوں گے ہزار ہا غم رقیب کو اک خوشی ملے گی
قمر جلالوی

بس اے ظہورِ جلوہ اب دم نہیں کسی میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 68
برباد طور بھی ہے موسیٰؑ ہیں بے خودی میں
بس اے ظہورِ جلوہ اب دم نہیں کسی میں
آنسو بھر آئے ان کی پرسش پہ جاں کنی میں
اب اور کیا بتاتے ان کی روا روی میں
جا تو رہے ہو موسیٰ دیدار کی خوشی میں
اوپر نظر نہ اٹھے بس خیر ہے اسی میں
اب تک ہے یاد دے کر دل ان کو دل لگی میں
رونا پڑا تھا برسوں مجھ کو ہنسی ہنسی میں
قیدِ قفس میں مجھ سے ارماں کا پوچھنا کیا
صیاد اب تو جو کچھ آئے تری خوشی میں
کوزے میں بھر گیا ہے جیسے تمام دریا
یوں اس نے بن سنور کر دیکھا ہے آرسی میں
ہر صبح آ کے گلچیں گلشن کو دیکھتا ہے
یہ وقت بھی ہے نازک پھولوں کی زندگی میں
دیکھیں قمر کچھ افشاں اس مہ جبیں کے رخ پر
کتنے حسین تارے ہوتے ہیں چاندنی میں
قمر جلالوی

دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 19
تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا
دل ملا کر مجھی سے ملنا تھا
پوچھتے کیا ہو کیوں لگائی دیر
اک نئے آدمی سے ملنا تھا
مل کے غیروں سے بزم میں یہ کہا
مجھ کو آ کر سبھی سے ملنا تھا
عید کو بھی خفا خفا ہی رہے
آج کے دن خوشی سے ملنا تھا
آپ کا مجھ سے جی نہیں‌ملتا
اس محبت پہ جی سے ملنا تھا
تم تو اُکھڑے رہے تمہیں اے داغ
ہر طرح مدّعی سے ملنا تھا
داغ دہلوی

یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 14
اب دل ہے مقام بے کسی کا
یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا
کس کس کو مزا ہے عاشقی کا
تم نام تو لو بھلا کسی کا
پھر دیکھتے ہیں عیش آدمی کا
بنتا جو فلک میر خوشی کا
گلشن میں ترے لبوں نے گویا
رس چوم لیا کلی کلی کا
لیتے نہیں بزم میں مرا نام
کہتے ہیں خیال ہے کسی کا
جیتے ہیں کسی کی آس پر ہم
احسان ہے ایسی زندگی کا
بنتی ہے بری کبھی جو دل پر
کہتا ہوں برا ہو عاشقی کا
ماتم سے مرے وہ دل میں خوش ہیں
منہ پر نہیں نام بھی ہنسی کا
اتنا ہی تو بس کسر ہے تم میں
کہنا نہیں مانتے کسی کا
ہم بزم میں ان کی چپکے بیٹھے
منہ دیکھتے ہیں ہر آدمی کا
جو دم ہے وہ ہے بسا غنیمت
سارا سودا ہے جیتے جی کا
آغاز کو کون پوچھتا ہے
انجام اچھا ہو آدمی کا
روکیں انہیں کیا کہ ہے غنیمت
آنا جانا کبھی کبھی کا
ایسے سے جو داگ نے نباہی
سچ ہے کہ یہ کام تھا اسی کا
داغ دہلوی

تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 10
ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں‌ یہ رسمیں
وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا
لیئے تو چلتے ہیں‌حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں‌لیکن
ہمارے پہلو میں‌بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
نہیں ہے کچھ قتل انکا آسان یہ سخت جان ہیں‌ بڑے بلا کے
قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنے خوشی نہ کرنا
داغ دہلوی

مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 3
محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتا
مرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا
کیا ہے وعدہ فردا انہوں نے دیکھئے کیا ہو
یہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا
چمن میں ناز بلبل نے کیا جب اپنے نالے پر
چٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا
نہ رونا ہے طریقہ کا نہ ہنسنا ہے سلیقےکا
پریشانی میں کوئی کا جی سے ہو نہیں سکتا
ہوا ہوں اس قدر محبوب عرض مدعا کر کے
اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا
خدا جب دوست ہے اے داغ کیا دشمن سے اندیشہ
ہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا
داغ دہلوی

گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 157
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخ آیندگی کا رنگ اڑا
دیار ذات میں ازخود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریم شوق میں بس کمی ہی رہی
پس نگاہ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی
جو دل کے چہرہ ء حسرت کی تازگی ہی رہی
عجیب آئینہ پر تو تمنا تھا
تھی اس میں ایک اداسی جو سجی ہی رہی
بدل گیا سبھی کچھ اس دیار بودش میں
گلی تھی جو تری جاں وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے—– مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی خوشی ہی رہی
وہ داستاں تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانہ ء خیال ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی
جون ایلیا

اور ہاں یکبارگی کی جائے گی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 150
تم سے جانم عاشقی کی جائے گی
اور ہاں یکبارگی کی جائے گی
کر گئے ہیں کوچ اس کوچے کے لوگ
اب تو بس آوارگی کی جائے گی
تم سراپا حُسن ہو، نیکی ہو تم
یعنی اب تم سے بدی کی جائے گی
یار اس دن کو کبھی آنا نہیں
پھول جس دن وہ کلی کی جائے گی
اس سے مِل کر بے طرح روؤں گا میں
ایک طرفہ تر خوشی کی جائے گی
ہے رسائی اس تلک دل کا زیاں
اب تو یاراں نارسی کی جائے گی
آج ہم کو اس سے ملنا ہی نہیں
آج کی بات آج ہی کی جائے گی
ہے مجھے احساس کم کرنا ہلاک
یعنی اب تو بے حسی کی جائے گی
جون ایلیا

اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 147
دل نے وحشت گلی گلی کر لی
اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی
یار! دل تو بلا کا تھا عیاش
اس نے کس طرح خود کشی کر لی
نہیں آئیں گے اپنے بس میں ہم
ہم نے کوشش رہی سہی کر لی
اب تو مجھ کو پسند آ جاؤ
میں نے خود میں بہت کمی کر لی
یہ جو حالت ہے اپنی، حالتِ زار
ہم نے خود اپنے آپ ہی کر لی
اب کریں کس کی بات ہم آخر
ہم نے تو اپنی بات بھی کر لی
قافلہ کب چلے گا خوابوں کا
ہم نے اک اور نیند بھی کر لی
اس کو یکسر بھلا دیا پھر سے
ایک بات اور کی ہوئی کر لی
آج بھی رات بھر کی بےخوابی
دلِ بیدار نے گھری کر لی
کیا خدا اس سے دل لگی کرتا
ہم نے تو اس سے بات بھی کر لی
جون ایلیا

یاد آئے گی اب تری کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 80
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا
شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رُلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بَھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشتِ وجود تھی کب تک
وہ صبا اس کے بِن جو آئی تھی
وہ اُسے پوچھتی رہی کب تک
میر جونی! ذرا بتائیں تو
خود میں ٹھیریں گے آپ ہی کب تک
حالِ صحنِ وجود ٹھیرے گا
تیرا ہنگامِ رُخصتی کب تک
جون ایلیا

شام کو میری سر خوشی ہے شراب

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 46
شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سر خوشی ہے شراب
جہل واعظ کا اُس کو راس آئے
صاحبو! میری آ گہی ہے شراب
رَنگ رَس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب
ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل ، میری دلبری ہے شراب
ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب
حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفیتو! میری بےحسی ہے شراب
جون ایلیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 41
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا
ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا؟
میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا؟
دل میں اب سوزِ انتظار نہیں
شمعِ امید بجھ گئی ہو کیا؟
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان، تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
جون ایلیا

میں جل رہا ہوں اسی روشنی میں پہلے سے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 273
چمک ہے عشق کی تیرہ شبی میں پہلے سے
میں جل رہا ہوں اسی روشنی میں پہلے سے
چلی تھی خاک بھی میری وہیں بکھرنے کو
ہوا نے رقص کیا اس گلی میں پہلے سے
کوئی بھی حلقۂ زنجیر ہو اسیر ہوں میں
ترے ہی سلسلۂ دلبری میں پہلے سے
ترے وصال سے کچھ کم نہیں اُمیدِ وصال
سو ہم ہلاک ہوئے ہیں خوشی میں پہلے سے
ڈبو دیا مجھے میرے لہو نے آخرِ کار
بھنور تو سوئے ہوئے تھے ندی میں پہلے سے
کھلا کہ تیرا ہی پیکر مثالِ صورتِ سنگ
چھپا ہوا تھا مری شاعری میں پہلے سے
عرفان صدیقی

تیرے ہوتے ہوئے ہو جاتے کسی کے کیسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 552
جام کے بادہ کے خوشبو کے کلی کے کیسے
تیرے ہوتے ہوئے ہو جاتے کسی کے کیسے
زخم مرہم کی تمنا ہی نہیں کر سکتا
ہیں یہ احسان تری چارہ گری کے کیسے
نقشِ پا تیرے نہ ہوتے تو سرِ دشتِ وفا
جاگتے بخت یہ آشفتہ سری کے کیسے
اپنے کمرے میں ہمیں قید کیا ہے تُو نے
سلسلے تیرے ہیں آزاد روی کے کیسے
اتنے ناکردہ گناہوں کی سزا باقی تھی
ہائے در کھلتے بھلا بخت وری کے کیسے
صفر میں صفر ملاتے تھے تو کچھ بنتا تھا
جمع کر لیتے تھے اعداد نفی کے کیسے
جیپ آتی تھی تو سب گاؤں نکل آتا تھا
کیا کہوں بھاگ تھے اس بھاگ بھری کے کیسے
ہجر کی رات ہمیں دیکھ رہی تھی دنیا
بند ہو جاتے درے بارہ دری کے کیسے
ڈاک کے کام میں تو کوئی رکاوٹ ہی نہیں
سلسلے ختم ہوئے نامہ بری کے کیسے
موت کی اکڑی ہوئی سرد رتوں میں جی کر
یہ کھنچے ہونٹ کھلیں ساتھ خوشی کے کیسے
کون روتا ہے شبِ ہجر کی تنہائی میں
پتے پتے پہ ہیں یہ قطرے نمی کے کیسے
موج اٹھتی ہی نہیں کوئی سرِ چشمِ وفا
یہ سمندر ہیں تری تشنہ لبی کے کیسے
موت کی شکل بنائی ہی نہیں تھی اس نے
نقش تجسیم ہوئے جان کنی کے کیسے
آ ہمیں دیکھ کہ ہم تیرے ستم پروردہ
کاٹ آئے ہیں سفر تیرہ شبی کے کیسے
بس یہی بات سمجھ میں نہیں آتی اپنی
جو کسی کا بھی نہیں ہم ہیں اسی کے کیسے
آنکھ کہ چیرتی جاتی تھی ستاروں کے جگر
موسم آئے ہوئے ہیں دیدہ وری کے کیسے
کجکلاہوں سے لڑائی ہے ازل سے اپنی
دوست ہو سکتے ہیں ہم لوگ کجی کے کیسے
ہم چٹانوں کے جگر کاٹنے والے منصور
سیکھ بیٹھے ہیں ہنر شیشہ گری کے کیسے
منصور آفاق

رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 19
اے چاند پتہ تیرا کسی سے نہیں ملتا
رستہ کوئی جا تیری گلی سے نہیں ملتا
او پچھلے پہر رات کے، جا نیند سے کہہ دے
اب خواب میں بھی کوئی کسی سے نہیں ملتا
کیوں وقتِ مقرر پہ ٹرام آتی نہیں ہے
کیوں وقت ترا میری گھڑی سے نہیں ملتا
میں جس کے لیے عمر گزار آیا ہوں غم میں
افسوس مجھے وہ بھی خوشی سے نہیں ملتا
یہ ایک ریاضت ہے خموشی کی گپھا میں
یہ بختِ ہنر نام وری سے نہیں ملتا
وہ تجھ میں کسی روز ضرور آ کے گرے گی
دریا تو کبھی جا کے ندی سے نہیں ملتا
دہلیز پہ رکھ جاتی ہے ہر شام جو آنکھیں
منصور عجب ہے کہ اسی سے نہیں ملتا
منصور آفاق

جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 237
جنون عشق کی منزل وہی ہے
جہاں ہر آشنا بھی اجنبی ہے
انہی مجبوریوں نے مارا ڈالا
کہ تیری ہر خوشی میری خوشی ہے
ابھی ہے ان کے آنے کی توقع
ابھی راہوں میں کچھ کچھ روشنی ہے
مری بربادیوں کا پوچھنا کیا
تری نظروں کی قیمت بڑھ گئی ہے
جہاں ان کا سوال آیا ہے باقیؔ
وہاں اپنی کمی محسوس کی ہے
باقی صدیقی

باز آئے اس آگہی سے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 86
خود کو لگتے ہیں اجنبی سے ہم
باز آئے اس آگہی سے ہم
ہر تمنا ہے دور کی آواز
مرمٹے دور دور ہی سے ہم
راہ کچھ اور ہو گئی تاریک
جب بھی گزرے ہیں روشنی سے ہم
واقف رنگ دہر ہو کر بھی
تجھ سے ملتے ہیں کس خوشی سے ہم
غم کا احساس مٹ گیا شاید
اب الجھتے نہیں کسی سے ہم
کہہ کے روداد زندگی باقیؔ
ہنس دئیے کتنی سادگی سے ہم
باقی صدیقی