ٹیگ کے محفوظات: خورشید

ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
لب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاں
ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں
ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ، ہلائے سرِ آب
ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وُہ تائید کہاں
شہر میں عام ہے جو خون خرابے کی فضا
دیکھیئے لے کے ہمیں جائے یہ تمہید کہاں
وُہ جو قزّاق ہے کیا رحم کی خواہش اُس سے
راہ پر لائے گی اُس کو کوئی تاکید کہاں
ہاتھ بچّے کے ہو جیسے کوئی ناؤ ماجدؔ
نام ایسی بھی ہمارے ہے کوئی عید کہاں
ماجد صدیقی

جاں سپاری شجرِ بید نہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 177
عشق تاثیر سے نومید نہیں
جاں سپاری شجرِ بید نہیں
سلطنت دست بَدَست آئی ہے
جامِ مے خاتمِ جمشید نہیں
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرّہ بے پر توِ خورشید نہیں
رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائے
ورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں
گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے
غمِ محرومئ جاوید نہیں
کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امّید نہیں
مرزا اسد اللہ خان غالب

کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 27
شہر میں‌ چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے
لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں‌ نے
حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیں‌تمہید اب کے
چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق
ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا، نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں‌ جو ہوا تیز چلی
لا کے رکھو سرِ محفل کوئی خورشید اب کے
کراچی
فیض احمد فیض