ٹیگ کے محفوظات: خوراک

دھوپ کی زرّیں قبا سو سو جگہ سے چاک تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 70
تنگ سائے کے بدن پر کس قدر پوشاک تھی
دھوپ کی زرّیں قبا سو سو جگہ سے چاک تھی
در پہ ہوتی ہی رہیں بن کھٹکھٹائے دستکیں
ایک نامعلوم اندیشے کی گھر میں دھاک تھی
شہرِ دل میں تھا عجب جشنِ چراغاں کا سماں
ٹمٹماتی گرم بوندوں سے فضا نمناک تھی
مدتوں سے آشتی اپنی تھی اپنے آپ سے
اس رواداری میں لیکن عافیت کیا خاک تھی
تھے حدِ امکاں سے باہر بھی ارادے کے ہدف
حادثوں کو ورنہ کیوں دائم ہماری تاک تھی
ہم نے پایا تجربے کا بےبہا انعام تو
گو شکستِ خواب کی ساعت اذیت ناک تھی
حال آزادوں کو دورِ جبر میں کیا پوچھنا
اس فضا میں تو ہوا بھی حبس کی خوراک تھی
آفتاب اقبال شمیم

دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 199
مٹی ذرا سی قریہء لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہیے افلاک کے عوض
جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامنِ صد چاک کے عوض
اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض
وہ پیٹ برگزیدہ کسی کی نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض
مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض
دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض
بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض
غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض
ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض
جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ اشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہء بیباک کے عوض
کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدئہ نمناک کے عوض
آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض
نظارئہ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض
منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض
منصور آفاق