ٹیگ کے محفوظات: خودکشی

چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے
چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے
واعظانِ خوش ہوس کی جِھڑکیاں سُنتے ہوئے
لاشعوری طور پر ہم سرخوشی تک آ گئے
ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم
ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے
واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر
کچھ پرندے ہاتھ باندھے سبزگی تک آ گئے
بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بےتکلّف ہو گئے تو گُدگُدی تک آ گئے
چاکِ تُہمت پر گُھمایا جا رہا تھا عشق کو
جب ہمارے اشک خوابِ خودکُشی تک آ گئے
گالیاں بکنے لگے ، غُصّے ہوئے ، لڑنے لگے
رقص کرتے کرتے ہم بھی خودسری تک آ گئے
اے حسیں لڑکی! تمھارے حُسن کے لذّت پرست
کافری سے سر بچا کر شاعری تک آ گئے
افتخار فلک

آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو

مسئلوں میں گھری زندگی، آخ تھو
آخ تھو! اس قدر بےبسی! آخ تھو
بھائیو! صبر سے، ہوش سے کام لو
اور مل کر کہو! عاشقی! آخ تھو
دوستوں کی محبت بڑی چیز ہے
دوستوں سے دغا! دشمنی! آخ تھو
چھوڑنے کا نہیں چاہے دنیا کہے
دل بری آخ تھو! شاعری آخ تھو!
بک گیا چار پیسوں کے لالچ میں تو
تجھ پہ مذہب شکن مولوی، آخ تھو!
اتنی آساں نہیں جتنی لگتی ہے یہ
چاہے آساں بھی ہو، خودکشی؟ آخ تھو
منھ بھی کڑوا ہوا، دل بھی میلا ہوا
باتیں سن کے تری شیخ جی! آخ تھو
افتخار فلک

خودکشی

زاہد صرف نام ہی کا زاہد نہیں تھا‘ اس کے زہد و تقویٰ کے سب قائل تھے‘ اس نے بیس پچیس برس کی عمر میں شادی کی‘ اس زمانے میں اُس کے پاس دس ہزار کے قریب روپے تھے‘ شادی پر پانچ ہزار صرف ہو گئے‘ اتنی ہی رقم باقی رہ گئی۔ زاہد بہت خوش تھا‘ اُس کی بیوی بڑی خوش خصلت اور خوبصورت تھی‘ اُس کو اُس سے بے پناہ محبت ہو گئی‘ وہ بھی اُس کو دل و جان سے چاہتی تھی‘ دونوں سمجھتے تھے کہ جنت میں آباد ہیں۔ ایک برس کے بعد اُن کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جو ماں پر تھی‘ یعنی ویسی ہی حسین‘ بڑی بڑی غلافی آنکھیں‘ ان پر لمبی پلکیں‘ مہین ابرو‘ چھوٹا سا لب دہن۔ اس لڑکی کا نام سوچنے میں کافی دیر لگ گئی۔ زاہد اور اُس کی بیوی کو دوسروں کے تجویز کیے ہوئے نام پسند نہیں آتے تھے‘ وہ چاہتی تھی کہ خود زاہد نام بتائے۔ زاہد دیر تک سوچتا رہا لیکن اُس کے دماغ میں ایسا کوئی موزوں و مناسب نام نہ آیا جو وہ اپنی بیٹی کے لیے منتخب کرتا۔ اُس نے اپنی بیوی سے کہا

’’اتنی جلدی کیا ہے۔ نام رکھ لیا جائے گا‘‘

بیوی مصر تھی کہ نام ضرور رکھا جائے

’’میں اپنی بیٹی کو اتنی دیر بے نام نہیں رکھنا چاہتی‘‘

وہ کہتا

’’اس میں کیا حرج ہے۔ جب کوئی اچھا سا نام ذہن میں آئے گا تو اس گل گوتھنی کے ساتھ ٹانک دیں گے‘‘

’’پر میں اسے کیا کہہ کر پکاروں؟۔ مجھے بڑی الجھن ہوتی ہے‘‘

’’فی الحال بیٹا کہہ دینا کافی ہے‘‘

’’یہ کافی نہیں ہے۔ میری بٹیا کا کوئی نام ہونا چاہیے‘‘

’’تم خود ہی کوئی منتخب کر لو‘‘

تو تھوڑے دن انتظار کرو۔ میں اُردو کی لغت لاتا ہوں۔ اس کو پہلے صفحے سے آخری صفحے تک غور سے دیکھوں گا۔ یقیناًکوئی اچھا نام مل جائے گا‘‘

’’میں نے آج تک یہ کبھی نہیں سُنا تھا کہ لوگ اپنے بچوں بچیوں کے نام ڈکشنریوں سے نکالتے ہیں‘‘

’’نہیں میری جان‘ نکالتے ہیں۔ میرا ایک دوست ہے‘ اُس کے جب بچی پیدا ہوئی تو اس نے فوراً اُردو کی لغت نکالی اور اس کی ورق گردانی کرنے کے بعد ایک نام چن لیا‘‘

’’کیا نام تھا‘‘

’’نکہت‘‘

’’اس کے معنی کیا ہیں‘‘

’’خوشبو‘‘

’’بڑا اچھا نام ہے۔ نکہت۔ یعنی خوشبو‘‘

’’تو یہی نام رکھ لو‘‘

زاہد کی بیوی نے اپنی بچی کو جو سو رہی تھی‘ ایک نظر دیکھا اور کہا

’’نہیں۔ میں اپنی بٹیا کے لیے پُرانا نام نہیں چاہتی۔ کوئی نیا نام تلاش کیجیے۔ جائیے ڈکشنری لے آئیے‘‘

’’زاہد مسکرایا‘‘

لیکن میرے پاس پیسے کہاں ہیں‘‘

زاہد کی بیوی بھی مسکرائی

’’میرا پرس الماری میں پڑا ہے ‘ اس میں جتنے روپے آپ کو چاہئیں ‘ نکال لیجیے‘‘

زاہد نے

’’بہت بہتر‘‘

کہا اور الماری کھول کر اُس میں سے اپنی بیوی کا پرس نکالا اور دس روپے کا ایک نوٹ لے کر بازار روانہ ہو گیا کہ لغت خرید لے۔ وہ کئی کتب فروش دکانوں میں گیا۔ کئی لغت دیکھے‘ بعض تو بہت قیمتی تھے جن کی تین تین جلدیں تھیں۔ کچھ بڑے ناقص۔ آخر اُس نے ایک لغت جس کی قیمت واجبی تھی خرید لیا اور راستے میں اُس کی ورق گردانی کرتا رہا تاکہ نام کا مسئلہ جلد حل ہو جائے۔ جب وہ انارکلی میں سے گزر رہا تھا تو اُس کو ایک دوست مل گیا‘ وہ اُسے اپنی بوٹوں کی دکان میں لے گیا۔ وہاں اُسے قریب قریب ایک گھنٹے تک بیٹھنا پڑا کیونکہ بہت دیر کے بعد اُس سے ملاقات ہوئی تھی جب اُس کے دوست کو دورانِ گفتگو میں پتہ چلا کہ زاہد کے ہاں لڑکی ہوئی ہے تو وہ بہت خوش ہوا۔ تجوری میں سے گیارہ روپے نکالے اور زاہد سے کہا :

’’یہ اُس بچی کو دے دینا کہنا تمہارے چچا نے دیے ہیں۔ نام کیا رکھا ہے اس کا؟‘‘

زاہد نے لغت کی طرف دیکھا جس کی جلد لال رنگ کی تھی

’’ابھی تک کوئی اچھا نام سوجھا نہیں‘‘

اُس کے دوست نے جوتے کو کپڑ ے سے صاف کرتے ہوئے کہا :

’’یار نام رکھنے میں دقّت ہی کیا پیش آتی ہے۔ ثمینہ ہے‘ شاہینہ ہے‘ نسرین ہے‘ الماس ہے‘‘

زاہد نے جواب دیا

’’یہ سب بکواس ہے‘‘

اُس کے دوست نے جوتا ڈبے میں رکھا

’’تو اب جو بکواس تم کرو گے وہ بھی ہم سُن لیں گے‘‘

اس کے بعد اُٹھ کر اُس نے زاہد کو گلے سے لگایا۔ خدا اُس کی عمر دراز کرے۔ نام ہو نہ ہو‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے‘‘

زاہد جب دکان سے باہر نکلا تو اُس نے سوچنا شروع کیا کہ واقعی نام میں کیا رکھا ہے۔ خیراتی کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ بڑی خیرات کرتا ہے‘ عیدن کیا بلا ہے۔ اور گھسیٹا۔ کیا اسے لوگ گھسیٹنا شروع کر دیں۔ اور یہ رُلدو۔ شبراتی؟ اُس کے جی میں آئی کہ لغت کسی گندی موری میں پھینک دے اور گھر جا کر اپنی بیوی سے کہے

’’میری جان! نام میں کچھ نہیں پڑا‘ بس یہ دُعا کرو کہ بچی کی عمر دراز ہو۔ ‘‘

وہ مختلف خیالات میں غرق تھا۔ لیکن معلوم نہیں کیوں اس کا دل غیرمعمولی طور پر دھڑک رہا تھا‘ اُس نے سوچا کہ شاید یہ اُس کی پراگندہ خیالی کا باعث ہے۔ تھوڑی دُور چلنے کے بعد اس کی طبیعت بہت زیادہ مضطرب ہو گئی‘ وہ چاہتا تھا کہ اُڑ کر گھر پہنچے اور اپنی بچی کی پیشانی چومے۔ بغل میں لغت تھی۔ اِس کو اُس نے کئی بار دیکھنے کی کوشش کی مگر اُس کا دل و دماغ متوازن نہیں تھا۔ اُس نے تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔ مگر تھوڑا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہی بہت بُری طرح ہانپنے لگا اور ایک دکان کے تھڑے پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک خالی تانگہ آیا اُس نے اس کو ٹھہرایا اور اس میں بیٹھ کر تانگے والے سے کہا :

’’چلو مزنگ لے چلو۔ لیکن جلدی پہنچاؤ ‘ مجھے وہاں ایک بڑا ضروری کام ہے‘‘

مگر گھوڑا بہت ہی سست رفتار تھا‘ یا شاید زاہد کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کو عجلت تھی۔ وہ برق رفتاری سے گھر پہنچنا چاہتا تھا۔ اُس نے کئی مرتبہ تانگے والے سے سخت سست الفاظ کہے جو وہ برداشت کرتا گیا‘ آخر جب اس کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اس نے زاہد کو تانگے سے اُتار دیا۔ ہائیکورٹ کے قریب‘ اس نے زاہد سے کرایہ بھی طلب نہ کیا۔ زاہد اور زیادہ پریشان ہوا‘ وہ جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا‘ وہ کچھ دیر چوک میں کھڑا رہا‘ اتنے میں ایک پشاوری تانگہ آیا اس میں بیٹھ کر وہ مزنگ پہنچا۔ کرایہ ادا کیا اور گھر میں داخل ہوا۔ کیا دیکھتا ہے کہ صحن میں کئی عورتیں کھڑی ہیں جو غالباً ہمسائی تھیں‘ وہ دروازے کے پاس رُک گیا‘ ایک عورت دوسری عورت سے کہہ رہی تھی‘ مشکل ہی سے بچے گی بیچاری۔ تشنج کے یہ دورے بڑے خطرناک ہیں‘‘

زاہد اُن عورتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دیوانہ وار اندر بھاگا اور اُس کے کمرے میں پہنچا جہاں وہ اور اُس کی بیوی رہتے تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے اپنی بیوی کی فلک شگاف چیخ سنی۔ اُس کی بٹیا دم توڑ چکی تھی‘ اور اُس کی بیوی بیہوش پڑی تھی۔ زاہد نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ ہمسائیاں پردے کو بھول کر بے اختیار اندر چلی آئیں اور زاہد کو اُس کمرے سے باہر نکال دیا۔ ایک ہمسائی کے شوہر کے پاس موٹر تھی وہ ایک ڈاکٹر لے آیا۔ اس نے زاہد کی بیوی کو ایک دو انجکشن لگائے جن سے وہ ہوش میں آ گئی۔ زاہد ایک ایسے عالم میں تھا کہ اس کے سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں معطل ہو گئی تھیں۔ وہ صحن میں ایک کرسی پر بیٹھا بغل میں لغت دبائے خلا میں دیکھ رہا تھا جیسے وہ اپنی بچی کے لیے کوئی نام تلاش کرنے میں محو ہے۔ بچی کو دفنانے کا وقت آیا تو زاہد باہوش ہو گیا‘ اُس نے کوئی آنسو نہ بہایا۔ کفن میں پڑی بچی کو اُٹھایا اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کے ہمراہ قبرستان روانہ ہو گیا۔ وہاں قبر پہلے ہی سے تیار کرا لی گئی تھی۔ اُس میں اُس نے خود اُسے لٹایا اور اُس کے ساتھ لغت رکھ دی۔ لوگوں نے سمجھا‘ قرآن مجید ہے ‘ انھیں بڑی حیرت ہوئی کہ مُردوں کے ساتھ قرآن کون دفن کرتا ہے‘ یہ تو سراسر کفر ہے‘ لیکن ان میں سے کسی نے بھی زاہد سے اس کے متعلق کچھ نہ کہا‘ بس آپس میں کھسر پھسر کرتے رہے۔ بچی کو دفنا کر جب گھر آیا تو اُسے معلوم ہوا کہ اس کی بیوی کو بہت تیز بخار ہے‘ سرسام کی کیفیت ہے۔ فوراً ڈاکٹر کو بلایا گیا‘ اُس نے اچھی طرح دیکھا اور زاہد سے کہا

’’حالت بہت نازک ہے۔ میں علاج تجویز کیے دیتا ہوں ‘ لیکن میں صحت کی بحالی کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا‘‘

زاہد کو ایسا محسوس ہوا کہ اس پر بجلی آن گری ہے لیکن اُس نے سنبھل کر ڈاکٹر سے پوچھا

’’تکلیف کیا ہے؟‘‘

ڈاکٹر نے جواب دیا

’’بہت سی تکلیفیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ انھیں بہت صدمہ پہنچا‘ دوسری یہ کہ ان کا دل بہت کمزور ہے۔ تیسری یہ کہ انھیں ایک سو پانچ ڈگری بخار ہے‘‘

ڈاکٹر نے چند ٹیکے تجویز کیے ‘ دو نسخے پلانے والی دواؤں کے لکھے اور چلا گیا۔ زاہد فوراً یہ سب چیزیں لے آیا‘ ٹیکے لگائے‘ دوائیں بڑی مشکل سے حلق میں ٹپکائی گئیں۔ لیکن مریضہ کی حالت بہتر نہ ہوئی۔ دس پندرہ روز کے بعد اسے تھوڑا سا ہوش آیا‘ ہذیانی کیفیت بھی دُور ہو گئی۔ زاہد نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس کی پیاری حسین بیوی نے اُسے بلایا اور بڑی نحیف آواز میں کہا

’’میرا اب آخری وقت آ گیا ہے۔ میں چند گھڑیوں کی مہمان ہوں۔ ‘‘

زاہد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘

’’کیسی باتیں کرتی ہو تم۔ تمھیں خدانخواستہ اگر کچھ ہو گیا تو میں کہاں زندہ رہوں گا۔ زاہد کی بیوی نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا

’’یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ میں مر گئی‘ کل دوسری آ جائے گی۔ خدا آپ کی عمر دراز کرے۔ اور۔ اور۔ ‘‘

اُس نے ہچکی لی اور ایک سیکنڈ کے اندر اندر اُس کی رُوح پرواز کر گئی۔ زاہد نے بڑے صبر وتحمل سے کام لیا ‘ اس کے کفن دفن سے فارغ ہو کر وہ رات کو گھر سے باہر نکلا اور ریلوے ٹائم ٹیبل دیکھ کر ریلوے لائن کا رُخ کیا۔ رات کو ساڑھے نو بجے کے قریب ایک گاڑی آتی تھی‘ وہ مغل پورہ کی طرف روانہ ہو گیا تاکہ وہاں پٹڑی پر لیٹ جائے اور اُسے کوئی دیکھ نہ سکے۔ گاڑی آئے گی تو اُس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے لمبی عمر کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ جتنی جلدی مختصر ہو ‘ اتنا ہی اچھا ہے‘ میں اب اور زیادہ صدمے برداشت نہیں کر سکتا۔ جب وہ ریلوے لائن کے پاس پہنچا تو اُسے گاڑی کی تیز روشنی جو انجن کی پیشانی پر ہوتی ہے‘ دکھائی دی۔ لیکن ابھی وہ دُور ہی تھی۔ اُس نے انتظار کیا کہ جب قریب آئے گی تو وہ پٹڑی پر لیٹ جائے گا۔ تھوڑی دیر کے بعد گاڑی قریب آ گئی۔ زاہد آگے بڑھا مگر اُس نے دیکھا کہ ایک آدمی کہیں سے نمودار ہوا اور پٹڑی کے عین درمیان کھڑا ہو گیا۔ گاڑی بڑی تیزرفتار سے آ رہی تھی اور قریب تھا کہ وہ آدمی اُس کی جھپٹ میں آ جائے‘ وہ تیزی سے لپکا اور اُس آدمی کو دھکا دے کر پٹڑی کے اُس طرف گرا دیا۔ گاڑی دندناتی ہوئی گزر گئی۔ اُس آدمی سے زاہد نے کہا

’’کیا تم خودکشی کرنا چاہتے تھے؟‘‘

اُس نے جواب دیا :

’’جی ہاں‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’بس۔ صدمے اُٹھاتے اُٹھاتے اب جینے کو جی نہیں چاہتا‘‘

زاہد ناصح بن گیا

’’بھائی میرے! زندگی زندہ رہنے کے لیے ہے‘ اس کو اچھی طرح استعمال کرو‘ خودکشی بہت بڑی بزدلی ہے۔ اپنی جان خود لینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اُٹھو‘ اپنے صدموں کو بھول جاؤ۔ انسان کی زندگی میں صدمے نہ ہوں تو خوشیوں سے کیا حظ اُٹھائے گا۔ چلو میرے ساتھ‘‘

۲۵، مئی ۵۴ء

سعادت حسن منٹو

خودکشی

ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں

کل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا

ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کا

دو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا

کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کر

اپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا

دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعد

یوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا

یوں طے کیا انہوں نے محبت کا مرحلہ

ایک ایک گھونٹ اور جو ہونا تھا ہو گیا

دونوں کی آنکھ میں تھا اک اک اشک منجمد

جو خشک خشک پلکوں کی نوکیں بھگو گیا

کچھ کہنے پائی تھی کہ وہ خاموش ہو گئی

کوئی جواب دینے کو تھا وہ کہ سو گیا

پیمانۂ اجل کا وہ تلخابہ اس طرح

روحوں کے زخموں، سینوں کے داغوں کو دھو گیا

اکثر یونہی ہوا ہے کہ الفت کا امتحاں

دشواریوں میں موت کی آسان ہو گیا

آؤ نا! ہم بھی توڑ دیں اس دامِ زیست کو

سنگِ اجل پہ پھوڑ دیں اس جامِ زیست کو

مجید امجد