ٹیگ کے محفوظات: خوامخواہ

ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر

دیوان پنجم غزل 1619
خندہ بجاے گریہ و اندوہ و آہ کر
ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر
کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج کو شوخ
آنکھوں میں جان آئی ہے ایدھر نگاہ کر
رحمت اگر یقینی ہے تو کیا ہے زہد شیخ
اے بیوقوف جاے عبادت گناہ کر
چھوڑ اب طریق جور کو اے بے وفا سمجھ
نبھتی نہیں یہ چال کسو دل میں راہ کر
چسپیدگی داغ سے مت منھ کو اپنے موڑ
اے زخم کہنہ دل سے ہمارے نباہ کر
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے طپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خوامخواہ کر
اس وقت ہے دعا و اجابت کا وصل میر
یک نعرہ تو بھی پیش کش صبح گاہ کر
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر