ٹیگ کے محفوظات: خواروں

تھا تو اک شہر خاکساروں کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 16
حال خوش تزکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا
پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا
اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا
کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا
میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا
کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
جون ایلیا

غمزدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے

دیوان اول غزل 607
خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے
غمزدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے
دشمنی جانی ہے اب تو ہم سے غیروں کے لیے
اک سماں سا ہو گیا وہ بھی کہ ہم یاروں میں تھے
مت تبختر سے گذر قمری ہماری خاک پر
ہم بھی اک سرو رواں کے ناز برداروں میں تھے
مر گئے لیکن نہ دیکھا تونے اودھر آنکھ اٹھا
آہ کیا کیا لوگ ظالم تیرے بیماروں میں تھے
شیخ جی مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھی
رندوں بانکوں میکشوں آشفتہ دستاروں میں تھے
گرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا ولے
قتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہگاروں میں تھے
اک رہا مژگاں کی صف میں ایک کے ٹکڑے ہوئے
دل جگر جو میر دونوں اپنے غم خواروں میں تھے
میر تقی میر

تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 26
یہ تو میں کیونکر کہوں تیرے خریداروں میں ہوں
تو سراپا ناز ہے میں ناز برداروں میں ہوں
وصل کیسا تیرے نادیدہ خریداروں میں ہوں
واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گناہ گاروں میں ہوں
ناتوانی سے ہے طاقت ناز اٹھانے کی کہاں
کہہ سکوں گ کیونکر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں
ہائے رے غفلت نہیں ہے آج تک اتنی خبر
کون ہے مطلوب میں کس کے طلب گاروں میں ہوں
دل جگر دونوں کی لاشیں ہجر میں ہیں سامنے
میں کبھی اس کے کبھی اس کے عزا داروں میں ہوں
وقت آرائش پہن کر طوق بولا وہ حسین
اب وہ آزادی کہاں ہے میں بھی گرفتاروں میں ہوں
آ چکا تھا رحم اس کو سن کے میری بے کسی
درد ظالم بول اٹھا میں اس کے غم خواروں میں ہوں
پھول میں پھولوں میں ہوں، کانٹا ہوں کانٹوں میں امیر
یار میں یاروں میں ہوں، عیار ، عیاروں میں ہوں
امیر مینائی