ٹیگ کے محفوظات: خوابوں

ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 125
ہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے
اب نۓ سال کی مہلت نہیں ملنے والی
آ چکے اب تو شب و روز عذابوں والے
اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے
زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا
موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
احمد فراز

دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 33
گئے موسم میں جو کِھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اُتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسرکرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے،مرے خوابوں کی طرح
ساعتِ دید کے عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گُلنار حجابوں کی طرح
وہ سمندر ہے توپھر رُوح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح
غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رِستے ہُوئے زخموں کے حسابوں کی طرح
یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہُوئی کتابوں کی طرح
کون جانے نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح
شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے،ترے دلچسپ جوابوں کی طرح
ہجر کی سب،مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوشبو ،مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح
پروین شاکر

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 22
تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
قطعہ
جون ایلیا

مرا منظرنامہ خوابوں کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چڑیوں پھولوں مہتابوں کا
مرا منظرنامہ خوابوں کا
آنکھوں میں لوح خزانوں کی
شانوں پر بوجھ خرابوں کا
یا نصرت آج کمانوں کی
یا دائم رنگ گلابوں کا
اِک اِسم کی طاہر چادر میں
طے موسم دُھوپ عذابوں کا
کبھی بادل چھت کی چھاؤں میں آ
کبھی ناتا توڑ طنابوں کا
یہی بستی میرے پرکھوں کی
یہی رَستہ ہے سیلابوں کا
مرے پتھر ہونٹ حکایت ہیں
میں حرف تری محرابوں کا
عرفان صدیقی

ٹوٹا نہیں ابھی ترے خوابوں کا سلسلہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 151
آنکھوں میں ہے سوالوں جوابوں کا سلسلہ
ٹوٹا نہیں ابھی ترے خوابوں کا سلسلہ
دنیا کے رنگ رنگ میں حسرت کی کروٹیں
موجوں کے ساتھ ساتھ حبابوں کا سلسلہ
پیچھے نہ موج ریگ رواں کے چلے چلیں
ہو گا کہیں تو ختم سرابوں کا سلسلہ
موج بہار کے بھی قدم لڑ کھڑا گئے
جاتا ہے کتنی دور خرابوں کا سلسلہ
لفظوں تک آ گیا ہے جنوں کا معاملہ
دل کے اِدھر اُدھر ہے کتابوں کا سلسلہ
گھٹتا ہی جائے گا نگہ شوق کا مقام
بڑھتا ہی جائے گا یہ حجابوں کا سلسلہ
باقیؔ تری نگاہ کی دیوار بن گیا
چہروں کا مرحلہ کہ نقابوں کا سلسلہ
باقی صدیقی