ٹیگ کے محفوظات: خنجر

اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا

دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا
اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا
بے رنگ ہو کے گر پڑا فوراً چراغِ حُسن
تھا میں نے عشق ہاتھ کے اوپر رکھا ہوا
خطرہ ہے جم نہ جائے کہیں ضبط کا غبار
ہے دل کو ہم نے اس لیے اندر رکھا ہوا
کب ہو گئے فگار مرے ہاتھ کیا خبر
پہلو میں اُس نے تھا کہیں خنجر رکھا ہوا
اِس احتیاط سے تمہیں چاہا کہ اے فلکؔ!
اب تک زباں پہ چپ کا ہے پتھّر رکھا ہوا
افتخار فلک

مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
مادۂ آتش سے پُر اپنے سمندر دیکھنا
پچھلی ساعت کربلاؤں سا ہُوا جو رُو نما
ہے ہمیں سکرین پر گھر میں وہ منظر دیکھنا
اِس سے پہلے تو کوئی بھی ٹڈّی دَل ایسا نہ تھا
اب کے جو پرّاں فضا میں ہیں وہ اخگر دیکھنا
فاختائیں فاختاؤں کو کریں تلقینِ امن
مضحکہ موزوں ہُوا یہ بھی ہمِیں پر دیکھنا
کیا کہیں آنکھوں پہ اپنی جانے کب سے قرض تھا
جسم میں اُترا کم اندیشی کا خنجر دیکھنا
کچھ نہیں جن میں معانی منمناہٹ کے سوا
درس کیا سے کیا ہمیں ماجد ہیں ازبر دیکھنا
ماجد صدیقی

جس کے رخ پر گرد کی چادر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 133
باغ میں ایسا کوئی منظر نہیں
جس کے رخ پر گرد کی چادر نہیں
ہونٹ باہر کی ہوا سے خشک ہیں
دل وگرنہ اِس قدر بنجر نہیں
اُس کا ہونا اور نہ ہونا ایک ہے
جس قبیلے میں کوئی بُوذر نہیں
جب سے دیوانہ مرا ہے شہر میں
پاس بچوں کے کوئی پتّھر نہیں
کم نہیں کچھ اُس کی خُو کا دبدبہ
ہاتھ میں قاتل کے گو خنجر نہیں
بے حسی ماجدؔ! یہ چھَٹ جائے گی کیا
آپ کہہ لیں پر ہمیں باور نہیں
ماجد صدیقی

یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 15
سب میسّر ہے لیکن نہیں
یہ میرا گھر ہے! لیکن نہیں
روز لگتا ہے ایسا ہمیں
آج محشرہے ۔۔ لیکن نہیں
اُگ رہا ہے نظر میں سراب
ایک منظر ہے لیکن نہیں
یہ محبت بھری گفتگو!
کوئی منتر ہے لیکن نہیں
دوسروں سے مرا بے وفا
لاکھ بہتر ہے! لیکن نہیں
میری گردن پہ گو رات دن
نوکِ خنجر ہے لیکن نہیں
کج ادائی پہ ما ئل کوئی
میرے اندر ہے!! لیکن نہیں
نیند کے آخری موڑ تک
خواب رہبر ہے لیکن نہیں
باب در باب وہ داستاں
لاکھ ازبر ہے!! لیکن نہیں
توڑ دے وہم کی ہر فصیل
وقت پتھر ہے لیکن نہیں
پاؤں پھیلا رہی ہے طلب
تنگ چادر ہے لیکن نہیں
کب گزرتا ہے بچپن مرا
دل معمر ہے لیکن نہیں
نینا عادل

قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 12
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا
تھا جنہیں ز عم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا
میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
احمد فراز

اے بتِ خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 32
اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا
اے بتِ خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا
اب تو چپ ہو باغ میں نالوں سے محشر ہو گیا
یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہو گیا
التماسِ قتل پر کہتے ہو فرصت ہی نہیں
اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہو گیا
محفلِ دشمن میں جو گزری وہ میرے دل سے پوچھ
ہر اشارہ جنبشِ ابرو کا خنجر ہو گیا
آشیانے کا کیا بتائیں کیا پتہ خانہ بدوش
چار تنکے رکھ لئے جس شاخ پر گھر ہو گیا
حرس تو دیکھ فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ظلم
کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہو گیا
سوختہ دل میں نہ ملتا تیر کا خوں اے قمر
یہ بھی کچھ مہماں کی قسمت سے میسر ہو گیا
قمر جلالوی

کیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایت

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 40
دشمن سے ہے میرے دلِ مضطر کی شکایت
کیوں کر نہ کروں شوخیِ دلبر کی شکایت
دیوانۂ اُلفت ادب آموزِ خرد ہے
سودے میں نہیں زلفِ معنبر کی شکایت
تاخیر نہ کر قتلِ شہیدانِ وفا میں
ہر ایک کو ہے تیزیِ خنجر کی شکایت
تاثیر ہو کیا، ان لب و دنداں کا ہوں بیمار
نے لعل کا شکوہ ہے نہ گوہر کی شکایت
کیوں بوالہوسوں سے دلِ عاشق کا گلہ ہے
غیروں سے بھی کرتا ہے کوئی گھر کی شکایت
اب ظلم سرشتوں کی نگہ سے ہوں مقابل
ہوتی تھی کبھی کاوشِ نشتر کی شکایت
یاں کانٹوں پہ بھی لوٹنے میں چین نہیں ہے
واں غیر سے ہے پھولوں کے بستر کی شکایت
تعلیم بد آموز کو ہم کرتے ہیں ، یعنی
ہے شکرِ وفا، جورِ ستم گر کی شکایت
بے پردہ وہ آئیں گے تو کیسے مجھے ہو گی
اے شیفتہ ہنگامۂ محشر کی شکایت
مصطفٰی خان شیفتہ

وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 23
خواب میں بھی نہ کسی شب وہ ستم گر آیا
وعدہ ایسا کوئی جانے کہ مقرر آیا
مجھ سے مے کش کو کہاں صبر، کہاں کی توبہ
لے لیا دوڑ کے جب سامنے ساغر آیا
غیر کے روپ میں بھیجا ہے جلانے کو مرے
نامہ بر ان کا نیا بھیس بدل کر آیا
سخت جانی سے مری جان بچے گی کب تک
ایک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آیا
داغ تھا درد تھا غم تھا کہ الم تھا کچھ تھا
لے لیا عشق میں جو ہم کو میسر آیا
عشق تاثیر ہی کرتا ہے کہ اس کافر نے
جب مرا حال سنا سنتے ہی جی بھر آیا
اس قدر شاد ہوں گویا کہ ملی ہفت اقلیم
آئینہ ہاتھ میں آیا کہ سکندر آیا
وصل میں ہائے وہ اترا کے مرا بول اٹھنا
اے فلک دیکھ تو یہ کون مرے گھر آیا
راہ میں وعدہ کریں جاؤں میں گھر پر تو کہیں
کون ہے، کس نے بلایا اسے، کیونکر آیا
داغ کے نام سے نفرت ہے، وہ جل جاتے ہیں
ذکر کم بخت کا آنے کو تو اکثر آیا
داغ دہلوی

راہ گریز پائی ہے صر صر ہے گم یہاں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 89
پہنائی کا مکان ہے اور در ہے گم یہاں
راہ گریز پائی ہے صر صر ہے گم یہاں
وسعت کہاں کہ سمت وجہت پرورش کریں
بالیں کہاں سے لائیں کہ بستر ہے گم یہاں
ہے ذات کا زخم کہ جس کا شگافِ رنگ
سینے سے دل تلک ہے پہ خنجر ہے گم یہاں
بس طور کچھ نہ پوچھ میری بود و باش کا
دیوار و در ہیں جیب میں اور گھر ہے گم یہاں
بیرون ذات کیسے ہے صد ماجرا فروش
وہ اندرونِ ذات جو اندر ہے گم یہاں
کس شاہراہ پر ہوں رواں میں بہ صد شتاب
اندازِ پا درست ہے اور سر ہے گم یہاں
ہیں صفحۂ وجود پہ سطریں کھنچی ہوئی
دیوار پڑھ رہا ہوں مگر در ہے گم یہاں
جون ایلیا

اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 151
نفَس نہ انجمنِ آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظارِ ساغر کھینچ
"کمالِ گرمئ سعئ تلاشِ دید” نہ پوچھ
بہ رنگِ خار مرے آئینہ سے جوہر کھینچ
تجھے بہانۂ راحت ہے انتظار اے دل!
کیا ہے کس نے اشارہ کہ نازِ بسترکھینچ
تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
بہ کورئ دل و چشمِ رقیب ساغر کھینچ
بہ نیم غمزہ ادا کر حقِ ودیعتِ ناز
نیامِ پردۂ زخمِ جگر سے خنجر کھینچ
مرے قدح میں ہے صہبائے آتشِ پنہاں
بروئے سفرہ کبابِ دلِ سمندر کھینچ
مرزا اسد اللہ خان غالب

جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 125
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقتِ سخن
’جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر‘
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئی نام ستم گر کہے بغیر
جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جائے یا رہے، نہ رہیں پر کہے بغیر
چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر
مقصد ہے ناز و غمزہ ولے گفتگو میں کام
چلتا نہیں ہے دُشنہ و خنجر کہے بغیر
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
بہرا ہوں میں، تو چاہیئے، دونا ہوں التفات
سنتا نہیں ہوں بات مکرّر کہے بغیر
غالب نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
ظاہر ہے تیرا حال سب اُن پر کہے بغیر
مرزا اسد اللہ خان غالب

چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا

دیوان سوم غزل 1081
جنوں میں ساتھ تھا کل لڑکوں کا لشکر جہاں میں تھا
چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا
تجلی جلوہ اس رشک قمر کا قرب تھا مجھ کو
جلے جاتے تھے واں جائے ملک کے پر جہاں میں تھا
گلی میں اس کی میری رات کیا آرام سے گذری
یہی تھا سنگ بالیں خاک تھی بستر جہاں میں تھا
غضب کچھ شور تھا سر میں بلا بے طاقتی جی میں
قیامت لحظہ لحظہ تھی مرے دل پر جہاں میں تھا
چبھیں تھیں جی میں وے پلکیں لگیں تھیں دل کو وے بھوویں
یہی شمشیر چلتی تھی یہی خنجر جہاں میں تھا
خیال چشم و روے یار کا بھی طرفہ عالم ہے
نظر آیا ہے واں اک عالم دیگر جہاں میں تھا
عجب دن میر تھے دیوانگی میں دشت گردی کے
سر اوپر سایہ گستر ہوتے تھے کیکر جہاں میں تھا
میر تقی میر

کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے

دیوان دوم غزل 1051
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے
کس کو کہتے ہیں نہیں میں جانتا اسلام و کفر
دیر ہو یا کعبہ مطلب مجھ کو تیرے در سے ہے
کیوں نہ اے سید پسر دل کھینچے یہ موے دراز
اصل زلفوں کی تری گیسوے پیغمبرؐ سے ہے
کاغذ ابری پہ درد دل اسے لکھ بھیجیے
وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے
کیا کہیں دل کچھ کھنچے جاتے ہیں اودھر ہر گھڑی
کام ہم بے طاقتوں کو عشق زورآور سے ہے
رحم بھی دینا تھا تھوڑا ہائے اس خوبی کے ساتھ
تجھ سے کیا کل گفتگو یہ داورمحشر سے ہے
کیا کروں گا اب کے میں بے پر ہوس گلزار کی
لطف گل گشت اے نسیم صبح بال و پر سے ہے
مرنے کے اسباب پڑتے ہیں بہت عالم میں لیک
رشک اس پر ہے کہ جس کی موت اس خنجر سے ہے
ناز و خشم و بے دماغی اس طرف سے سب ہیں یہ
کچھ کسو بھی طور کی رنجش بھلا ایدھر سے ہے
دیکھ گل کو ٹک کہ ہر یک سر چڑھا لیتا ہے یاں
اس سے پیدا ہے کہ عزت اس چمن میں زر سے ہے
کانپتا ہوں میں تو تیرے ابروئوں کے خم ہوئے
قشعریرہ کیا مجھے تلوار کے کچھ ڈر سے ہے
اشک پے درپے چلے آتے تھے چشم زار سے
ہر نگہ کا تار مانا رشتۂ گوہر سے ہے
بادیے ہی میں پڑا پاتے ہیں جب تب تجھ کو میر
کیا خفا اے خانماں آباد کچھ تو گھر سے ہے
میر تقی میر

سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے

دیوان دوم غزل 1015
انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے
سو طرف جب دیکھ لیجے تب ٹک اودھر دیکھیے
گرچہ زردی رنگ کی بھی ہجر ہی سے ہے ولے
منھ مرا دیکھو ہو کیا یہ کوفت جی پر دیکھیے
اب کے گل ہم بے پروں کی اور چشمک زن ہے زور
اور دل اپنا بھی جلتا ہے بہت پر دیکھیے
آتے ہو جب جان یاں آنکھوں میں آ رہتی ہے آہ
دیکھیے ہم کو تو یوں بیمار و مضطر دیکھیے
اشک پر سرخی ابھی سے ہے تو آگے ہم نشیں
رنگ لاوے کیسے کیسے دیدئہ تر دیکھیے
دیر و کعبہ سے بھی ٹک جھپکی نہ چشم شوخ یار
شوق کی افراط سے تاچند گھر گھر دیکھیے
مر رہے یوں صیدگہ کی کنج میں تو حسن کیا
عشق جب ہے تب گلے کو زیر خنجر دیکھیے
برسوں گذرے خاک ملتے منھ پر آئینے کے طور
کیا غضب ہے آنکھ اٹھاکر ٹک تو ایدھر دیکھیے
دیدنی ہے وجد کرنا میر کا بازار میں
یہ تماشا بھی کسو دن تو مقرر دیکھیے
میر تقی میر

چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے

دیوان دوم غزل 993
سختیاں کھینچیں سو کھینچیں پھر بھی جو اٹھ کر چلے
چلتے اس کوچے سے ہم پر سینکڑوں پتھر چلے
مارگیری سے زمانے کی نہ دل کو جمع رکھ
چال دھیمی اس کی ایسی ہے کہ جوں اجگر چلے
کیونکے ان کا کوئی وارفتہ بھلا ٹھہرا رہے
جنبش ان پلکوں کو ہوتی ہے کہ جوں خنجر چلے
اب جو وہ سرمایۂ جاں یاں تلک آیا تو کیا
راہ تکتے تکتے اس کی ہم تو آخر مر چلے
میں نہ کہتا تھا دم بسمل مرے مت آئیو
لوٹتے دامن کی اپنے زہ لہو میں بھر چلے
چھوڑ جانا جاں بہ لب ہم کو کہاں کا ہے سلوک
گھر کے گھر یاں بیٹھے جاتے ہیں تم اٹھ کر گھر چلے
صاف سارا شہر اس انبوہ خط میں لٹ گیا
کچھ نہیں رہتا ہے واں جس راہ ہو لشکر چلے
پائوں میں مارا ہے تیشہ میں نے راہ عشق میں
ہو سو ہو اب گوکہ آرا بھی مرے سر پر چلے
لائے تھے جاکر ابھی تو اس گلی میں سے پکار
چپکے چپکے میر جی تم اٹھ کے پھر کیدھر چلے
میر تقی میر

گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے

دیوان دوم غزل 971
آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے
لالہ و گل کیوں نہ پھیکے اپنی آنکھوں میں لگیں
دیکھنے والے ہیں ہم تو رنگ احمر کے ترے
بے پرو بالی سے اب کے گوکہ بلبل تو ہے چپ
یاد ہیں سب کے تئیں وے چہچہے پر کے ترے
آج کا آیا تجھے کیا پاوے ہم حیران ہیں
ڈھونڈنے والے جو ہیں اے شوخ اکثر کے ترے
دیکھ اس کو حیف کھا کر سب مجھے کہنے لگے
واے تو گر ہیں یہی اطوار دلبر کے ترے
تازہ تر ہوتے ہیں نوگل سے بھی اے نازک نہال
صبح اٹھتے ہیں بچھے جو پھول بستر کے ترے
مشک عنبر طبلہ طبلہ کیوں نہ ہو کیا کام ہے
ہم دماغ آشفتہ ہیں زلف معنبر کے ترے
جی میں وہ طاقت کہاں جو ہجر میں سنبھلے رہیں
اب ٹھہرتے ہی نہیں ہیں پائوں ٹک سر کے ترے
داغ پیسے سے جو ہیں بلبل کے دل پر کس کے ہیں
یوں تو اے گل ہیں ہزاروں آشنا زر کے ترے
کوئی آب زندگی پیتا ہے یہ زہراب چھوڑ
خضر کو ہنستے ہیں سب مجروح خنجر کے ترے
نوح کا طوفاں ہمارے کب نظر چڑھتا ہے میر
جوش ہم دیکھے ہیں کیا کیا دیدئہ تر کے ترے
میر تقی میر

سر بھی اس کا کھپ گیا آخر کو یاں افسر سمیت

دیوان دوم غزل 785
ہے زباں زد جو سکندر ہو چکا لشکر سمیت
سر بھی اس کا کھپ گیا آخر کو یاں افسر سمیت
چشمے آب شور کے نکلا کریں گے واں جہاں
رکھیں گے مجھ تلخ کام غم کو چشم تر سمیت
ہم اٹھے روتے تو لی گردوں نے پھر راہ گریز
بیٹھ جاوے گا یہ ماتم خانہ بام و در سمیت
مستی میں شرم گنہ سے میں جو رویا ڈاڑھ مار
گر پڑا بے خود ہو واعظ جمعہ کو منبر سمیت
بعث اپنا خاک سے ہو گا گر اس شورش کے ساتھ
عرش کو سر پر اٹھالیوں گے ہم محشر سمیت
کب تلک یوں لوہو پیتے ہاتھ اٹھا کر جان سے
وہ کمر کولی میں بھرلی ہم نے کل خنجر سمیت
گنج قاروں کا سا یاں کس کے کنے تھا سو تو میر
خاک میں ملتا ہے اب تک اپنے مال و زر سمیت
میر تقی میر

نیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 282
رات اک شہر نے تازہ کئے منظر اپنے
نیند آنکھوں سے اُڑی کھول کے شہپر اپنے
تم سرِ دشت و چمن مجھ کو کہاں ڈھونڈتے ہو
میں تو ہر رت میں بدل دیتا ہوں پیکر اپنے
یہی ویرانہ بچا تھا تو خدا نے آخر
رکھ دیے دل میں مرے سات سمندر اپنے
روز وہ شخص صدا دے کے پلٹ جاتا ہے
میں بھی رہتا ہوں بہت جسم سے باہر اپنے
کس قدر پاسِ مروت ہے وفاداروں کو
میرے سینے میں چھپا رکھے ہیں خنجر اپنے
کوئی سلطان نہیں میرے سوا میرا شریک
مسندِ خاک پہ بیٹھا ہوں برابر اپنے
عرفان صدیقی

حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 220
شانِ خدا، ردانِ پیمبرؐ، علیؑ علیؑ
حق کا ولی، نبیؐ کا برادر، علیؑ علیؑ
زیب بدن شہانۂ تسخیرِ کائنات
سر پر لوائے حمد کا افسر علیؑ علیؑ
مٹی کی مملکت میں علم اسم بوترابؑ
افلاک پر ندائے مکرر، علیؑ علیؑ
سازِ مکانِ انفس و آفاق اُس کا نام
نازِ جہانِ اصغر و اکبر، علیؑ علیؑ
بے مایگاں کا مونس و غم خوار کون ہے
بے چارگاں کا کون ہے یاور، علیؑ علیؑ
مردانِ حرُ کا قافلہ سالار کون ہے
خاصانِ رب کا کون ہے رہبر، علیؑ علیؑ
مدّت سے ہے نواحِ غریباں میں خیمہ زن
وحشت کی فوج، خوف کا لشکر، علیؑ علیؑ
اِک بادباں شکستہ جہاز اور چہار سمت
کالی گھٹا، سیاہ سمندر، علیؑ علیؑ
اِک تشنہ کام ناقۂ جاں اور ہر طرف
باد سموم، دشت ستم گر، علیؑ علیؑ
اِک پافگار رہ گزری اور راہ میں
انبوہِ گرگ، مجمعِ اژدر، علیؑ علیؑ
اک سینہ چاک خاک بہ سر اور کوُ بہ کوُ
سوغاتِ سنگ، ہدیۂ خنجر، علیؑ علیؑ
میں بے نوا ترے درِ دولت پہ داد خواہ
اے میرے مرتضیٰؑ ، میرے حیدرؑ ، علیؑ علیؑ
میں بے اماں مجھے ترے دستِ کرم کی آس
تو دل نواز، تو ہی دلاور، علیؑ علیؑ
نانِ شعیر و جوہرِ شمشیر تیرے پاس
توُ ہی دلیر، توُ ہی تونگر، علیؑ علیؑ
توُ تاجدار تاب و تبِ روزگار کا
مجھ کو بھی اِک قبالۂ منظر، علیؑ علیؑ
توُ شہریار آب و نمِ شاخسار کا
میرے لیے بھی کوئی گلِ تر، علیؑ علیؑ
روشن ترے چراغ یمین و یسار میں
دونوں حوالے میرے منوّر، علیؑ علیؑ
یہ خانہ زادگاں ہیں تجھی سے شرف نصیب
ان کو بھی اِک خریئ گوہر، علیؑ علیؑ
اب میرے دشت میرے خرابے کی سمت موڑ
رہوار کی عنانِ معبر، علیؑ علیؑ
نصرت، کہ ہو چکے ہیں سزاوار ذوالفقار
میری زمیں کے مرحب و عنتر علیؑ علیؑ
پابستگاں پہ بام و درِ شش جہات کھول
اے بابِ علم، فاتحِ خیبر، علیؑ علیؑ
انعام کر مجھے بھی کہ صدیوں کی پیاس ہے
دریا، بنامِ ساقئ کوثر، علیؑ علیؑ
مولاؑ ، صراطِ روزِ جزا سے گزار ہی جائے
کہتا ہوا یہ تیرا ثناگر، علیؑ علیؑ
عرفان صدیقی

کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 93
روشن ہوا یہ شام کے منظر کو دیکھ کر
کرتا ہے سرفراز خدا سر کو دیکھ کر
نہر گلو سے پیاسوں نے پہرے اُٹھا لیے
صحرا میں تشنہ کامئ خنجر کو دیکھ کر
جاں دادگان صبر کو فردوس کے سوا
کیا دیکھنا تھا سبط پیمبر کو دیکھ کر
سر کی ہوائے دشت نے گلبانگ لااِلٰہ
اوج سناں پہ مصحف اطہر کو دیکھ کر
آخر کھلا کہ بازوئے، نصرت قلم ہوئے
دوش ہوا پہ رایت لشکر کو دیکھ کر
ہے حرف حرف نقش وفا بولتا ہوا
آئینے چپ ہیں بیت ثناگر کو دیکھ کر
دل میں مرے یہ جوشِ ولا ہے خدا کی دین
حیرت نہ کر صدف میں سمندر کو دیکھ کر
عرفان صدیقی

آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 365
پلکیں کسی برہن کے کھلے سر کی طرح ہیں
آنکھیں کسی جلتے ہوئے منظر کی طرح ہیں
گرتے ہیں ہمی میں کئی بپھرے ہوئے دریا
ہم وقت ہیں ، لمحوں کے سمندر کی طرح ہیں
بس ٹوٹتے پتوں کی صدائیں ہیں ہوا میں
موسم بھی مرادوں کے مقدر کی طرح ہیں
رکھتے ہیں اک اک چونچ میں کنکر کئی دکھ کے
اب حرف ابابیلوں کے لشکر کی طرح ہیں
بکتے ہوئے سو بار ہمیں سوچنا ہو گا
اب ہم بھی کسی آخری زیور کی طرح ہیں
یہ خواب جنہیں اوڑھ کے سونا تھا نگر کو
فٹ پاتھ پہ بچھتے ہوئے بستر کی طرح ہیں
ناراض نہ ہو اپنے بہک جانے پہ جاناں
ہم لوگ بھی انسان ہیں ، اکثر کی طرح ہیں
اب اپنا بھروسہ نہیں ، ہم ساحلِ جاں پر
طوفان میں ٹوٹے ہوئے لنگر کی طرح ہیں
تم صرفِ نظر کیسے، کہاں ہم سے کرو گے
وہ لوگ ہیں ہم جو تمہیں ازبر کی طرح ہیں
منصور ہمیں بھولنا ممکن ہی نہیں ہے
ہم زخم میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں
منصور آفاق

زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 150
برف کی شال میں لپٹی ہوئی صرصر کی طرح
زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح
کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف
میں نے دیکھا تھا اُسے آخری منظر کی طرح
ہاتھ رکھ ، لمس بھری تیز نظر کے آگے
چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں
شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجر کی طرح
کچی مٹی کی مہک اوڑھ کے اِتراتی تھی
میں پہنتا تھا اسے گرم سمندر کی طرح
پلو گرتا ہوا ساڑھی کا اٹھا کر منصور
چلتی ہے چھلکی ہوئی دودھ کی گاگر کی طرح
منصور آفاق

بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 30
پیاس تیری بوئے ساغر سے لذیذ
بلکہ جام آبِ کوثر سے لذیذ
جس کا تو قاتل ہو پھر اس کے لئے
کون سی نعمت ہے خنجر سے لذیذ
لطف ہو تیری طرف سے یا عتاب
ہم کو ہے سب شہد و شکر سے لذیذ
قند سے شیریں تری پہلی نگاہ
دوسری قند مکرر سے لذیذ
ہے یہ تجھ میں کس کی بو باس اے صبا
بوئے بید مشک و عنبر سے لذیذ
الطاف حسین حالی

یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 31
خیالِ لب میں ابرِ دیدہ ہائے تر برستے ہیں
یہ بادل جب برستے ہیں لبِ کوثر برستے ہیں
خدا کے ہاتھ ہم چشموں میں ہے اب آبرو اپنی
بھرے بیٹھے ہیں دیکھیں آج وہ کس پر برستے ہیں
ڈبو دیں گی یہ آنکھیں بادلوں کو ایک چھینٹے میں
بھلا برسیں تو میرے سامنے کیونکر برستے ہیں
جہاں ان ابروؤں پر میل آیا کٹ گئے لاکھوں
یہ وہ تیغیں ہیں جن کے ابر سے خنجر برستے ہیں
چھکے رہتے ہیں‌ مے سے جوش پر ہے رحمتِ ساقی
ہمارے میکدے میں غیب سے ساغر برستے ہیں
جو ہم برگشتۂ قسمت آرزو کرتے ہیں پانی کی
زہے بارانِ رحمت چرخ سے پتھر برستے ہیں
غضب کا ابرِ خوں افشاں ہے ابرِ تیغِ قاتل بھی
رواں ہے خون کا سیلاب لاکھوں سر برستے ہیں
سمائے ابرِ نیساں خاک مجھ گریاں کی آنکھوں میں
کہ پلکوں سے یہاں بھی متصل گوہر برستے ہیں
وہاں ہیں سخت باتیں، یاں امیر آنسو پر آنسو ہیں
تماشا ہے اِدھر، موتی اُدھر پتھر برستے ہیں
امیر مینائی