ٹیگ کے محفوظات: خمیدہ

الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم

دیوان ششم غزل 1840
وے ہم ہیں جن کو کہیے آزار دیدہ مردم
الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم
ہے حال اپنا درہم تس پر ہے عشق کا غم
رہتے ہیں دم بخود ہم آفت رسیدہ مردم
وہ دیکھے ہم کو آکر جن نے نہ دیکھے ہوویں
آزردہ دل شکستہ خاطر کبیدہ مردم
جو ہے سو لوہو مائل بے طور اور جاہل
اہل جہاں ہیں سارے صحبت نہ دیدہ مردم
جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے
مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم
اوباش بھی ہمارا کتنا ہے ٹیڑھا بانکا
دیکھ اس کو ہو گئے ہیں کیا کیا کشیدہ مردم
مت خاک عاشقاں پر پھر آب زندگی سا
جاگیں کہیں نہ سوتے یہ آرمیدہ مردم
لے لے کے منھ میں تنکا ملتے ہیں عاجزانہ
مغرور سے ہمارے برخویش چیدہ مردم
تھے دست بستہ حاضر خدمت میں میر گویا
سیمیں تنوں کے عاشق ہیں زرخریدہ مردم
میر تقی میر

آب اس کے پوست میں ہے جوں میوئہ رسیدہ

دیوان پنجم غزل 1719
اب کچھ مزے پر آیا شاید وہ شوخ دیدہ
آب اس کے پوست میں ہے جوں میوئہ رسیدہ
آنکھیں ملا کبھو تو کب تک کیا کروں میں
دنبالہ گردی تیری اے آہوے رمیدہ
پانی بھر آیا منھ میں دیکھے جنھوں کے یارب
وے کس مزے کے ہوں گے لب ہاے نامکیدہ
سائے کو اس پری کے لگتا نہ تھا چمن میں
مغرور کاہے پر ہے شمشاد قد کشیدہ
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں اہل نظر کی یکسر
چلتے ہوئے زمیں پر رکھ پائوں دیدہ دیدہ
چل سیر کرنے تو بھی تا صبح آنکھیں کھولیں
منھ پر ترے چمن میں گل ہاے نو دمیدہ
محراب میں رہو نہ سجدہ کیا کرو نہ
بے وقت کیا ہے طاعت قد اب ہوا خمیدہ
پروانہ گرد پھر کر جل بھی بجھا ولیکن
خاموش رات کو تھی شمع زباں بریدہ
دیکھا مجھے شب گل بلبل نے جو چمن میں
بولا کی میرے منھ پر کیا کیا دہن دریدہ
قلب و کبد تو دونوں تیروں سے چھن رہے ہیں
وہ اس ستم کشی پر ہم سے رہے کبیدہ
اشعار میر سب نے چن چن کے لکھ لیے ہیں
رکھیں گے یاد ہم بھی کچھ بیتیں چیدہ چیدہ
میر تقی میر