ٹیگ کے محفوظات: خمار

مرے پاس بھی کوئی گلبدن تھا بہار سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
وہ کہ لمس میں تھا حریر، رنگ میں نار سا
مرے پاس بھی کوئی گلبدن تھا بہار سا
کبھی بارشوں میں بھی پھر دکھائی نہ دے سکا
اُسے دیکھنے سے فضا میں تھا جو نکھار سا
مری چاہ کو اُسے چاندنی کی قبائیں دیں
مرا بخت کس نے بنا دیا شبِ تار سا
کوئی آنکھ جیسے کھُلی ہو اِن پہ بھی مدھ بھری
ہے دل و نظر پہ عجب طرح کا خمار سا
لگے پیش خیمۂ قربِ یار گھڑی گھڑی
مری دھڑکنوں میں جو آ چلا ہے، قرار سا
ماجد صدیقی

زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن
بنامِ کم نظراں، لطفِ لمحۂ گزراں
ہمارے نام نئی رُت کے انتظار کے دن
بدن سے گردِ شرافت نہ جھاڑ دیں ہم بھی
لپک کے چھین نہ لیں ہم بھی کچھ نکھار کے دن
طویل ہوں بھی تو آخر کو مختصر ٹھہریں
چمن پہ رنگ پہ، خوشبو پہ اختیار کے دن
نئے دنوں میں وہ پہلا سا رس نہیں شاید
کہ یاد آنے لگے ہیں گئی بہار کے دن
فلک کی اوس سے ہوں گے نم آشنا کیسے
زمین پر جو دھوئیں کے ہیں اور غبار کے دن
یہ وقت بٹنے لگا ناپ تول میں کیونکر
یہ کس طرح کے ہیں ماجدؔ گِنَت شُمار کے دن
ماجد صدیقی

دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
تیر جب اُس کا جاں کے پار نہ تھا
دل میں یوں زہر سا خمار نہ تھا
ہے منانا اُسی خدا کو ہمیں
جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا
آئنے سج رہے تھے پلکوں پر
حالِ دل پھر بھی آشکار نہ تھا
وسعتیں جب تلک طلب میں نہ تھیں
حرف یوں وقفِ اختصار نہ تھا
تھے زمیں پر قدم ہمارے بھی
بدگماں ہم سے جب وہ یار نہ تھا
شدّتِ اشتہا سے جسم اپنا
کب سزاوارِ سنگسار نہ تھا
مہرباں وہ بھی تھا مگر ماجدؔ
کوئی ہم سا بھی جاں سپار نہ تھا
ماجد صدیقی

دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کرن کرن ہے سحر کی نگاہِ یار آسا
دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا
بہ نطق و فکر ہے وہ لطفِ تازگی پیدا
نفس نفس ہے مرا اِن دنوں بہار آسا
مرے وجود سے پھوٹی وہ خَیر کی خوشبو
کہ چبھ رہا ہوں دلِ شیطنت میں خار آسا
وہ ابر ہوں کہ کھڑا ہوں تُلا برسنے کو
ہر ایک درد ہے اب سامنے غبار آسا
میں اس میں اور وہ مجھ میں ہے جسکا سودا تھا
نہیں ہے روگ کوئی دل کو انتظار آسا
سخن سے طے یہی نسبت ہے اب تری ماجدؔ
کہ ہو گیا تجھے موزوں گلے میں ہار آسا
ماجد صدیقی

طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 279
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلے
نشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
خاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہہائے معانی
غیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالب
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 154
دیکھنے میں ہیں گرچہ دو، پر ہیں یہ دونوں یار ایک
وضع میں گو ہوئی دو سر، تیغ ہے ذوالفقار ایک
ہم سخن اور ہم زباں، حضرتِ قاسسم و طباں
ایک تپش@ کا جانشین، درد کی یادگار ایک
نقدِ سخن کے واسطے ایک عیارِ آگہی
شعر کے فن کے واسطے، مایۂ اعتبار ایک
ایک وفا و مہر میں تازگئِ بساطِ دہر
لطف و کرم کے باب میں زینتِ روزگار ایک
گُلکدۂ تلاش کو، ایک ہے رنگ، اک ہے بو
ریختہ کے قماش کو، پود ہے ایک، تار ایک
مملکتِ کمال میں ایک امیرِ نامور
عرصۂ قیل و قال میں، خسروِ نامدار ایک
گلشنِ اتّفاق میں ایک بہارِ بے خزاں
مے کدۂ وفاق میں بادۂ بے خمار ایک
زندۂ شوقِ شعر کو ایک چراغِ انجمن
کُشتۂ ذوقِ شعر کو شمعِ سرِ مزار ایک
دونوں کے دل حق آشنا، دونوں رسول (ص) پر فِدا
ایک مُحبِّ چار یار، عاشقِ ہشت و چار ایک
جانِ وفا پرست کو ایک شمیمِ نو بہار
فرقِ ستیزہ مست کو، ابرِ تگرگِ بار ایک
لایا ہے کہہ کے یہ غزل، شائبۂ رِیا سے دور
کر کے دل و زبان کو غالب خاکسار ایک
@نسخے میں اگرچہ ‘طپش’ ہے لیکن صحیح تپش ہی درست ہونا چاہئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں

دیوان پنجم غزل 1695
آنکھیں سفید دل بھی جلا انتظار میں
کیا کچھ نہ ہم بھی دیکھ چکے ہجر یار میں
دنیا میں ایک دو نہیں کرتا کوئی مقام
جو ہے رواروی ہی میں ہے اس دیار میں
دیکھی تھیں ایک روز تری مست انکھڑیاں
انگڑائیاں ہی لیتے ہیں اب تک خمار میں
اخگر تھا دل نہ تھا مرا جس سے تہ زمیں
لگ لگ اٹھی ہے آگ کفن کو مزار میں
بے دم ہیں دام گاہ میں اک دم تو چل کے دیکھ
سنتے ہیں دم نہیں کسی تیرے شکار میں
محمل کے تیرے گرد ہیں محمل کئی ہزار
ناقہ ہے ایک لیلیٰ کا سو کس قطار میں
شور اب چمن میں میری غزل خوانی کا ہے میر
اک عندلیب کیا ہے کہوں میں ہزار میں
میر تقی میر

دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1590
شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج
دشتی وحش وطیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج
برافروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں
پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج
اس کا بحرحسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے
شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج
آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر
رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج
گھر آئے ہو فقیروں کے تو آئو بیٹھو لطف کرو
کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج
کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے
کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج
مت چوکو اس جنس گراں کو دل کی وہیں لے جائو تم
ہندستان میں ہندوبچوں کی بہت بڑی سرکار ہے آج
خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا
ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محوجلوئہ یار ہے آج
جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا
یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج
رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں
شاید میر جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج
میر تقی میر

دل وہی بے قرار ہے تا حال

دیوان چہارم غزل 1428
حال تو حال زار ہے تا حال
دل وہی بے قرار ہے تا حال
بڑھتی ہے حال کی خرابی روز
گرچہ کچھ روزگار ہے تا حال
خستہ جانی نے ننگ خلق کیا
پر اسے مجھ سے عار ہے تا حال
حال فکر سخن میں کچھ نہ رہا
شعر میرا شعار ہے تا حال
حال مستی جوانی تھی سو گئی
میر اس کا خمار ہے تا حال
آنکھیں بدحالی سے ٹھہرتیں نہیں
شوق دیدار یار ہے تا حال
غم سے حالانکہ خون دل سوکھا
چشم تر اشکبار ہے تا حال
میر تقی میر

میں اور یار اور مرا کاروبار اور

دیوان سوم غزل 1137
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
میں اور یار اور مرا کاروبار اور
چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں
ہوتی ہے گرد شہر کے روز اک مزار اور
بندے کو ان فقیروں میں گنیے نہ شہر کے
صاحب نے میرے مجھ کو دیا اعتبار اور
دل کو تو لاگ ہی ہے تکوں راہ کب تلک
اس پر ہے یک عذاب شدید انتظار اور
بسمل پسند کر کے تڑپنا نہ دیکھنا
ہے میرے صیدپیشہ کا طور شکار اور
میں اس کی گرد رہ کا رہا منتظر بہت
سو آنکھیں دونوں لائیں مری اک غبار اور
درد سر اب جو عشق کا ہے گور تک ہے ساتھ
کچھ یہ نشہ ہی اور ہے اس کا خمار اور
کاہے کو اس قرار سے تھا اضطراب قلب
ہوتا ہے ہاتھ رکھنے سے دل بے قرار اور
کس کو فقیری میں سر و دل حرف کا ہے میر
کرتے ہیں اس دماغ پہ ہم انکسار اور
میر تقی میر

اک جھمکے میں کہاں پھر صبر و قرار عاشق

دیوان دوم غزل 836
اے رشک برق تجھ سے مشکل ہے کار عاشق
اک جھمکے میں کہاں پھر صبر و قرار عاشق
خاک سیہ سے یکساں تیرے لیے ہوا ہوں
تو بھی تو ایک شب ہو شمع مزار عاشق
اے بحر حسن ہووے یہ آگ سرد ٹک تب
جوں موج ہو لبالب تجھ سے کنار عاشق
دلخواہ کوئی دلبر ملتا تو دل کو دیتے
گر چاہنے میں ہوتا کچھ اختیار عاشق
پلکوں کی اس کی کاوش ہر دم جب ایسی ہووے
مشکل کہ جی سے جاوے پھر خار خار عاشق
کیا جانے محو جو ہو اپنے ہی رو و مو کا
گذرے ہے کس طرح سے لیل و نہار عاشق
خواری کا موجب اپنی ہے اضطراب ہر دم
دل سمجھے تو رہے بھی کچھ اعتبار عاشق
آنکھوں تلے سے سرکے وہ چشم مست ٹک تو
جاتا دکھائی دیوے رنج و خمار عاشق
کیا بوجھ بھاری سے میں ناکام کاٹتا ہوں
دنیا سے ہے نرالا کچھ کاروبار عاشق
اس پردے میں غم دل کہتا ہے میر اپنا
کیا شعر و شاعری ہے یارو شعار عاشق
میر تقی میر

آج کل مجھ کو مار رہتا ہے

دیوان اول غزل 600
دل جو پر بے قرار رہتا ہے
آج کل مجھ کو مار رہتا ہے
تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں
آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے
جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل
روز بے اختیار رہتا ہے
دل کو مت بھول جانا میرے بعد
مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے
دور میں چشم مست کے تیری
فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے
بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں
سر کو میرے دوار رہتا ہے
ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں
کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے
تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے
مرنے کا انتظار رہتا ہے
دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم
کوئی یہ بے قرار رہتا ہے
غیر مت کھا فریب خلق اس کا
کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے
پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ
اس کے نشے کا تار رہتا ہے
پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک
تب تلک یہ خمار رہتا ہے
دلبرو دل چراتے ہو ہر دم
یوں کہیں اعتبار رہتا ہے
کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میر
کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے
میر تقی میر

رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو

دیوان اول غزل 385
آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو
رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو
پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا
دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو
برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور
پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو
ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار
پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو
آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر
مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو
سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات
کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو
سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ
اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو
کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں
جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو
اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش
خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو
خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید
پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو
جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا
رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو
گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر
آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو
میر تقی میر

لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل

دیوان اول غزل 270
مندا ہے اختلاط کا بازار آج کل
لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل
اس مہلت دو روزہ میں خطرے ہزار ہیں
اچھا ہے رہ سکو جو خبردار آج کل
اوباشوں ہی کے گھر تجھے پانے لگے ہیں روز
مارا پڑے گا کوئی طلبگار آج کل
ملنے کی رات داخل ایام کیا نہیں
برسوں ہوئے کہاں تئیں اے یار آج کل
گلزار ہورہے ہے مرے دم سے کوے یار
اک رنگ پر ہے دیدئہ خوں بار آج کل
تاشام اپنا کام کھنچے کیونکے دیکھیے
پڑتی نہیں ہے جی کو جفا کار آج کل
کعبے تلک تو سنتے ہیں ویرانہ و خراب
آباد ہے سو خانۂ خمار آج کل
ٹھوکر دلوں کو لگنے لگی ہے خرام میں
لاوے گی اک بلا تری رفتار آج کل
ایسا ہی مغبچوں میں جو آنا ہے شیخ جی
تو جارہے ہیں جبہ و دستار آج کل
حیران میں ہی حال کی تدبیر میں نہیں
ہر اک کو شہر میں ہے یہ آزار آج کل
اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

دیوان اول غزل 207
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار
ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار
کیا زمزمہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صفیر
آیا جو میں چمن میں تو جاتی رہی بہار
کس ڈھب سے راہ عشق چلوں ہے یہ ڈر مجھے
پھوٹیں کہیں نہ آبلے ٹوٹیں کہیں نہ خار
کوچے کی اس کے راہ نہ بتلائی بعد مرگ
دل میں صبا رکھے تھی مری خاک سے غبار
اے پاے خم کہ گردش ساغر ہو دستگیر
مرہون درد سر ہو کہاں تک مرا خمار
وسعت جہاں کی چھوڑ جو آرام چاہے میر
آسودگی رکھے ہے بہت گوشۂ مزار
میر تقی میر

اس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا

دیوان اول غزل 83
نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
اس شوخ کم نما کا نت انتظار کھینچا
رسم قلمرو عشق مت پوچھ کچھ کہ ناحق
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
تھا بدشراب ساقی کتنا کہ رات مے سے
میں نے جو ہاتھ کھینچا ان نے کٹار کھینچا
مستی میں شکل ساری نقاش سے کھنچی پر
آنکھوں کو دیکھ اس کی آخر خمار کھینچا
جی کھنچ رہے ہیں اودھر عالم کا ہو گا بلوہ
گر شانے تونے اس کی زلفوں کا تار کھینچا
تھا شب کسے کسائے تیغ کشیدہ کف میں
پر میں نے بھی بغل میں بے اختیار کھینچا
پھرتا ہے میر تو جو پھاڑے ہوئے گریباں
کس کس ستم زدے نے دامان یار کھینچا
میر تقی میر

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

دیوان اول غزل 64
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف
خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف
سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح
تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب
پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا
وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا
وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
ستم میں غم میں سر انجام اس کا کیا کہیے
ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہ نکلا
رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے
کہ اس سے قطرئہ خوں بھی نہ یادگار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر
میں میر میر کر اس کو بہت پکار رہا
میر تقی میر

میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 94
زمیں کے ساتھ میری آنکھ بھی مدار میں ہے
میں جانتا ہوں فلک میرے رہ گزار میں ہے
سفر ہے پیشِ قدم صد ہزار صدیوں کا
تمہاری شہرتِ دو گام کس شمار میں ہے
بندھی ہوئی ہیں اکائی میں کثرتیں ساری
ہر ایک اور کسی اور کے حصار میں ہے
خرد تو آج کا زنداں ہے اس سے باہر بھی
یہ آنکھ وہم و تصور کے اختیار میں ہے
انا کے نشے میں ورنہ خدا ہی بن جاتا
یہی تو جیت ہے جو آدمی کی ہار میں ہے
کبھی جو دھیان میں لاؤں تو ڈگمگا جاؤں
عجیب نشّہ تری آنکھ کے خمار میں ہے
بلا سے، آج کسی نے اگر نہ پہچانا
وُہ دیکھ! کل کا جہاں میرے انتظار میں ہے
آفتاب اقبال شمیم

حسن مجبور انتظار نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 5
عشق منت کش قرار نہیں
حسن مجبور انتظار نہیں
تیری رنجش کی انتہا معلوم
حسرتوں کا مری شمار نہیں
اپنی نظریں بکھیر دے ساقی
مے باندازۂ خمار نہیں
زیر لب ہے ابھی تبسم دوست
منتشر جلوۂ بہار نہیں
اپنی تکمیل کررہا ہوں میں
ورنہ تجھ سے تو مجھ کو پیار نہیں
چارۂ انتظار کون کرے
تیری نفرت بھی استوار نہیں
فیض زندہ رہیں وہ ہیں تو سہی
کیا ہوا گر وفا شعار نہیں
فیض احمد فیض

میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 286
گلی کے موڑ پہ ٹھہری ہوئی بہار میں ہوں
میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے انتظار میں ہوں
مرے مزاج میں ہرجائی پن ہی آنا تھا
مقیم روزِ ازل سے میں کوئے یار میں ہوں
تمہارے تاج محل سے جو پے بہ پے ابھرے
میں خستہ بام انہی زلزلوں کی مار میں ہوں
ہے آنے والے زمانوں پہ دسترس لیکن
میں اپنے ماضی ء مرحوم کے جوار میں ہوں
تمہارا پوچھتے رہتے ہیں لوگ مجھ سے بھی
یہی بہت ہے کہ میں بھی کسی شمار میں ہوں
جو مجھ پہ اٹھی تھی لطف و کرم میں بھیگی ہوئی
اُس اک نظر کے مسلسل ابھی خمار میں ہوں
میرا مقام یہ اہل خرد کہاں جانیں
سوادِ حسنِ نظرمیں ، نواحِ یار میں ہوں
مرے سوا جو کسی اور کا نہ ہو منصور
اک ایسے شخص کے برسوں سے انتظار میں ہوں
منصور آفاق

غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 2
میرے بس میں یا تو یارب وہ ستم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دل پر مجھے اختیار ہوتا
پس مرگ کاش یوں ہی مجھے وصل یار ہوتا
وہ سر مزار ہوتا، میں تہِ مزار ہوتا
ترا میکدہ سلامت، ترے خم کی خیر ساقی
مرا نشہ کیوں اُترتا، مجھے کیوں‌ خمار ہوتا
مرے اتقا کا باعث تو ہے مری ناتوانی
جو میں توبہ توڑ سکتا تو شراب خوار ہوتا
میں ہوں‌ نامراد ایسا کہ بلک کے یاس روتی
کہیں پا کے آسرا کچھ جو امیدوار ہوتا
نہیں پوچھتا ہے مجھ کو کوئی پھول اس چمن میں
دلِ داغدار ہوتا ہو گلے کا ہار ہوتا
وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزو ہے یارب
مرے دونوں پہلوؤں میں دل بیقرار ہوتا
دمِ نزع بھی جو وہ بُت مجھے آ کے منہ دکھاتا
تو خدا کے منہ سے اتنا نہ میں شرمسار ہوتا
نہ مَلَک سوال کرتے، نہ لحد فِشار دیتی
سر راہِ کوئے قاتل جو مرا مزار ہوتا
جو نگاہ کی تھی ظالم تو پھر آنکھ کیوں چُرائی
وہی تیر کیوں نہ مارا جو جگر کے پار ہوتا
میں زباں سے تم کو سچا کہوں لاکھ بار کہہ دوں
اسے کیا کروں کہ دل کو نہیں اعتبار ہوتا
مری خاک بھی لحد میں نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک نہیں اعتبار ہوتا
امیر مینائی