ٹیگ کے محفوظات: خلوت میں جلوت

خلوت میں جلوت

حَسن، اپنا ساتھی

جو اُس رات، نوروز کے ہاں

جمالِ عجم کے طِلسمات میں بہہ گیا تھا

پھر اِک بار مستی میں جلوت کو خلوت سمجھ کر

بڑی دیر تک رُوبرُو آئنے کے

کھڑا جُھولتا مُنہ چڑاتا رہا تھا،

وہ بّلور کی بے کراں جھیل کے دیو کو گالیاں دے کر ہنستا رہا تھا،

حَسن اپنی آنکھوں میں رقت کا سیلاب لا کر

زمستان کی اس شام کی تازہ مہمان سے

اُس شہرِ آشوبِ طہراں سے

کہتا چلا جا رہا تھا :

تُو میری بہن ہے،

تُو میری بہن ہے،

اُٹھ اے میری پیاری بہن میری زہرا!

ابھی رات کے دَر پردستک پڑے گی،

تجھے اپنے کاشانہ ءِ ناز میں چھوڑ آؤں!

اور اِس پر برافروختہ تھے،

پریشان تھے سب ہم!

جونہی اُس کو جعفر نے دیکھا نگاہیں بدل کر

وہ چِلّا کے بولا:

درندو

اسے چھوڑ دو،

اِس کے ہاتھوں میں

انگشتری کا نشان تک نہیں ہے!

حَسن مردِ میداں تو تھا ہی

مگر نارسائی کا احساس

مستی کے شباب لمحوں میں اُس سے

کراتا تھا اکثر

یہ عہدِ سلاطیں کے گزرے ہُوئے

شہسواروں کے عالم کی باتیں!

مگر جب سحر گاہ اُردو میں قرنا ہوئی

اور البرز کی چوٹیوں پر بکھرنے لگی پھر شعائیں

تو آنکھیں کھُلی رہ گئیں ساتھیوں کی،

حَسن کے رُخ و دست و بازو

خراشوں سے یوں نیلگوں ہو رہے تھے

کہ جیسے وہ جِنّوں کے نرغوں میں شب بھر رہا ہو

ہم سب کو جعفر پہ شک تھا

کہ شاید اُسی نے نکالا ہو یہ اپنے بدلے کا پہلُو!

مگر جب حسن اور جعفر نے

دونوں نے

کھائیں کئی بار قسمیں

تو ناچار لب دوختہ ہو گئے ہم

وہاں اب وہ جانِ عجم بھی نہ تھی

جس سے ہم پوچھ سکتے؛

ذرا اور کاوش سے پوچھا حَسن سے

تو بے ساختہ ہنس کر کہنے لگا : بس، مجھے کیا خبر ہو؟

اگر پوچھنا ہو تو زہرا سے پُوچھو

مری رات بھر کی بہن سے!

ن م راشد