ٹیگ کے محفوظات: خلا

سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ماتھے کی سلوٹوں سے ہے اتنا گلا مجھے
سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے
چھابہ بغل میں اور ہے خوانچہ، کنارِ دوش
عمرِ اخیر! اور یہ کیا دے دیا مجھے
اے خاک! آرزو میں نگلنے کی تن مرا
کیسا یہ بارِ خارکشی دے دیا مجھے
ایسا ہی تیرا سبزۂ نورس پہ ہے کرم
کیا بوجھ پتھروں سا دیا اے خدا ! مجھے
کج ہو چلی زبان بھی مجھ کُوز پشت کی
کیا کیا ابھی نہیں ہے لگانی صدا مجھے
اک اک مکاں اٹھا ہے مرے سر کے راستے
کیسا یہ کارِ سخت دیا مزد کا، مجھے
بچپن میں تھا جو ہمدمِ خلوت، ملا کِیا
مکڑا قدم قدم پہ وُہی گھورتا مجھے
میں تھک گیا ہوں شامِ مسافت ہوا سے پوچھ
منزل کا آ کے دے گی بھلا کب پتا مجھے
محتاج ابر و باد ہوں پودا ہوں دشت کا
لگتی نہیں کسی بھی رہٹ کی دعا مجھے
لاتی ہے فکرِ روزیِ یک روز، ہر سحر
آہن یہ کس طرح کا پڑا کوٹنا مجھے
بارِ گراں حیات کا قسطوں میں بٹ کے بھی
ہر روز ہر قدم پہ جھُکاتا رہا مجھے
اتنا سا تھا قصور کہ بے خانماں تھا میں
کسبِ معاش میں بھی ملی ہے خلا مجھے
حکمِ شکم ہے شہر میں پھیری لگے ضرور
سُوجھے نہ چاہے آنکھ سے کچھ راستا مجھے
میں بار کش ہوں مجھ پہ عیاں ہے مرا مقام
اِحساسِ افتخار دلاتا ہے کیا مجھے
میری بھی ایک فصل ہے اُٹھ کر جو شب بہ شب
دیتی ہے صبح گاہ نیا حوصلہ مجھے
کہتا ہے ہجرتوں پہ گئے شخص کو مکاں
آ اے حریصِ رزق ! کبھی مل ذرا مجھے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
گئی جو چھوڑ کبھی شاخ پر سجا کے مجھے
پڑے ہیں منہ پہ تھپیڑے اُسی ہوا کے مجھے
ہُوا ہے جو بھی خلافِ گماں ہُوا اُن کے
بہت خفیف ہوئے ہیں وہ آزما کے مجھے
ہے میرے ظرف سے منصف مرا مگر خائف
مزاج پوچھ رہا ہے سزا سُنا کے مجھے
ابھی ہیں باعثِ ردِّ تپّش یہی بادل
بہم جو سائے بزرگوں کی ہیں دُعا کے مجھے
سُنا یہ ہے رہِ اظہارِ حق میں دار بھی ہے
چلے ہیں آپ یہ کس راہ پر لگا کے مجھے
زمیں کے وار تو اک ایک سہہ لئے میں نے
فلک سے ہی کہیں اب پھینکئے اُٹھا کے مجھے
سرِ جہاں ہوں وہ بیگانۂ سکوں ماجدؔ
پڑے ہیں جھانکنے گوشے سبھی خلا کے مجھے
ماجد صدیقی

تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے
تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے
بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی
مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے
کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی
کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ، مِل گیا مجھے
وہ کہ مثالِ مہر ہے، وہ کہ ہے رشکِ ماہ بھی
اے مرے نطق و لب کی ضو! سامنے اُس کے لا مجھے
دست درازیِ خزاں! ہے تجھے مجھ پہ اختیار
کر تو دیا برہنہ تن، اور نہ اَب ستا مجھے
اے مری ماں! مری زمیں! تجھ سے کہوں تو کیا کہوں؟
چھین کے گود سے تری، لے گئی کیوں خلا مجھے
جب سے جلے ہیں باغ میں برق سے بال و پر مرے
کہنے لگی ہے خلق بھی ماجدِؔ بے نوا مجھے
ماجد صدیقی

کچھ خدا بول رہا ہے شاید

نینا عادل ۔ غزل نمبر 9
خامشی نغمہ سرا ہے شاید
کچھ خدا بول رہا ہے شاید
کتنی زرخیز تیری مٹی ہے
تجھ کو پیڑوں کی دعا ہے شاید
عکس لرزاں ہے میرا سرتا پا
آئینہ ٹوٹ رہا ہے شاید
کب تلک خود کومٹاؤں لکھ کر
اب ورق پھٹنے لگا ہے شاید
آگ ہے تو، میں ہرا جنگل ہوں
موڈ میں اور ہوا ہے شاید
لوَ بھڑکتی ہے دیے کی بے کل
اس نے پھر یاد کیا ہے شاید
کھول کر دیکھ تو لو دروازہ
کوئی باہر ہی کھڑا ہے شاید
فاصلہ طے نا ہوا کیا کیجیے
درمیاں کوئی خلا ہے شاید
نینا عادل

یقین مانو، کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 92
اُداس بس عادتاً ہوں، کچھ بھی ہُوا نہیں ہے
یقین مانو، کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے
ادھیڑ کر سی رہا ہوں برسوں سے اپنی پرتیں
نتیجتاً ڈھونڈنے کو اب کچھ بچا نہیں ہے
ذرا یہ دل کی امید دیکھو، یقین دیکھو
میں ایسے معصوم سے یہ کہہ دوں خدا نہیں ہے؟
میں اپنی مٹی سے اپنے لوگوں سے کٹ گیا ہوں
یقیناً اس سے بڑا کوئی سانحہ نہیں ہے
تو کیا کبھی مل سکیں گے یا بات ہو سکے گی؟
نہیں نہیں جاوٗ تم کوئی مسئلہ نہیں ہے
وہ راز سینے میں رکھ کے بھیجا گیا تھا مجھ کو
وہی جو اک راز مجھ پہ اب تک کھُلا نہیں ہے
میں بغض، نفرت، حسد، محبت کے ساتھ رکھوں؟
نہیں میاں میرے دل میں اتنی جگہ نہیں ہے
چہار جانب یہ بے یقینی کا گھپ اندھیرا
یہ میری وحشت کا انخلا ہے، خلا نہیں ہے
اسی کی خوشبو سے آج تک میں مہک رہا ہوں
وہ مجھ سے بچھڑا ہُوا ہے لیکن جدا نہیں ہے
لکھا ہوا ہے تمہارے چہرہ پہ غم تمہارا
ہماری حالت بھی ایسی بے ماجرا نہیں ہے
یہ تازہ کاری ہے طرزِ احساس کا کرشمہ
مرے لغت میں تو لفظ کوئی نیا نہیں ہے
نیا ہنر سیکھ، فی زمانہ ہو جس کی وقعت
سخن کی نسبت سے اب کوئی پوچھتا نہیں ہے
جسے ہو عرفانِ ذات وہ کیا تری سنے گا؟
او ناصحا، چھوڑدے، کوئی فائدہ نہیں ہے
عرفان ستار

یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 31
رفتگاں کی صدا نہیں، میں ہوں
یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں
تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں، میں ہوں
کیا ملا انتہا پسندی سے؟
کیا میں تیرے سوا نہیں، میں ہوں
ایک مدت میں جا کے مجھ پہ کھلا
چاند حسرت زدہ نہیں، میں ہوں
اس نے مجھ کو محال جان لیا
میں یہ کہتا رہا نہیں، میں ہوں
میں ہی عجلت میں آ گیا تھا ادھر
یہ زمانہ نیا نہیں، میں ہوں
میری وحشت سے ڈر گئے شاید
یار بادِ فنا نہیں، میں ہوں
میں ترے ساتھ رہ گیا ہوں کہیں
وقت ٹھہرا ہوا نہیں، میں ہوں
گاہے گاہے سخن ضروری ہے
سامنے آئنہ نہیں، میں ہوں
سرسری کیوں گزارتا ہے مجھے
یہ مرا ماجرا نہیں، میں ہوں
اس نے پوچھا کہاں گیا وہ شخص
کیا بتاتا کہ تھا نہیں، میں ہوں
یہ کسے دیکھتا ہے مجھ سے اُدھر
تیرے آگے خلا نہیں، میں ہوں
عرفان ستار

ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 26
وفا کے باب میں اپنا مثالیہ ہو جاؤں
ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں
میں اپنے آپ کو تیرے سبب سے جانتا ہوں
ترے یقین سے ہٹ کر تو واہمہ ہو جاؤں
تعلقات کے برزخ میں عین ممکن ہے
ذرا سا دُکھ وہ مجھے دے تو میں ترا ہو جاؤں
ابھی میں خوش ہوں تو غافل نہ جان اپنے سے
نہ جانے کون سی لغزش پہ میں خفا ہو جاؤں
ابھی تو راہ میں حائل ہے آرزو کی فصیل
ذرا یہ عشق سوا ہو تو جا بہ جا ہو جاؤں
ابھی تو وقت تنفس کے ساتھ چلتا ہے
ذرا ٹھہر کہ میں اس جسم سے رہا ہو جاؤں
ابھی تو میں بھی تری جستجو میں شامل ہوں
قریب ہے کہ تجسس سے ماورا ہو جاؤں
خموشیاں ہیں، اندھیرا ہے، بے یقینی ہے
رہے نہ یاد بھی تیری تو میں خلا ہو جاؤں
کسی سے مل کے بچھڑنا بڑی اذیت ہے
تو کیا میں عہدِ تمنا کا فاصلہ ہو جاؤں
ترے خیال کی صورت گری کا شوق لیے
میں خواب ہو تو گیا ہوں اب اور کیا ہو جاؤں
یہ حرف و صوت کا رشتہ ہے زندگی کی دلیل
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ بے صدا ہو جاؤں
وہ جس نے مجھ کو ترے ہجر میں بحال رکھا
تُو آ گیا ہے تو کیا اُس سے بے وفا ہو جاؤں
عرفان ستار

کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 11
زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا
کشش بچھانے لگا ہے ہر اگلا سیارہ
میں پانیوں کی مسافر ، وہ آسمانوں کا
کہاں سے ربط بڑھائیں کہ درمیاں ہے خلا
بچھڑتے وقت دلوں کو اگرچہ دُکھ تو ہُوا
کُھلی فضا میں مگر سانس لینا اچھا ہو گا
جو صرف رُوح تھا ، فرقت میں بھی ، وصال میں بھی
اُسے بدن کے اثر سے رہا تو ہونا تھا
گئے دنوں جو تھا ذہن و جسم کی لذّت
وہی وصال طبیعت کا جبر بننے لگا
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو
ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
برس سکے تو برس جائے اس گھڑی ، ورنہ
بکھیر ڈالے گی بادل کے سارے خواب ، ہوا
پروین شاکر

اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 73
استطاعت سے زیادہ دل بڑا کرنا تو ہے
اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے
مت کہو، اِن دوریوں کے بعد بھی ہیں دوریاں
پُر کسی شے سے یہ آنکھوں کا خلا کرنا تو ہے
اس لئے اِس سے سلوکِ ناروا بھی ہے روا
زندگی کو ایک دن ہم سے دغا کرنا تو ہے
قتل کا الزام بھی مقتول پر ہی آئے گا
قاتلوں نے خود کو ثابت بے خطا کرنا تو ہے
ہم کہ ٹھہرے اپنی عادت میں تغیّر نا پسند
جو میسّر ہے اُسی پر اکتفا کرنا تو ہے
ہم کہ تنہائی کے اک پُرہول سنّاٹے میں ہیں
کچھ نہ کچھ، ایسے میں ہنگامہ بپا کرنا تو ہے
آفتاب اقبال شمیم

مجھ کو خاکِ کربلا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 92
آسمانوں کو الہ کا درد تھا
مجھ کو خاکِ کربلا کا درد تھا
اس کو خالی صحن کی تکلیف تھی
مجھ کو اندر کے خلا کا درد تھا
اب تلک احساس میں موجود ہے
کتنا حرفِ برملا کا درد تھا
رات تھی روتی ہوئی کوئل کہیں
اس کے لہجے میں بلا کا درد تھا
رو رہا تھا آسماں تک ساتھ ساتھ
ایسا تیرے مبتلا کا درد تھا
اب بھی آنکھوں سے ابل پڑتا ہے دل
کیسا پہلی ابتلا کا درد تھا
منصور آفاق

ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 150
دل تیری اداؤں سے کھچا اور زیادہ
ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ
دل خون ہوا جاتا ہے دنیا کی ادا سے
یہ رنگ جما جتنا اڑا اور زیادہ
کیا داغ جلے دل کے بہ انداز چراغاں
احساس اندھیرے کا ہوا اور زیادہ
اس طرح مرے منہ پہ کوئی ہاتھ نہ رکھے
اس طرح تو گونجے گی صدا اور زیادہ
اب صورت آوارہ صدا، دل سے گزرنا
اب ٹھہرے تو چیخے گا خلا اور زیادہ
جب پڑتا ہے پھولوں پہ ترے حسن کا پرتو
گلشن میں مچلتی ہے صبا اور زیادہ
اس طرح وہ بت آیا مری راہ میں باقیؔ
یاد آنے لگا مجھ کو خدا اور زیادہ
باقی صدیقی