ٹیگ کے محفوظات: خفا

یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا

نہ اب ہے شعلہ مرے اختیار میں نہ ہوا
یہ آگ تیری لگائی ہوئی ہے تو ہی بجھا
ہیں ذہن و دل مرے تیار کچھ بھی سننے کو
اگر مرض ہے مرا لاعلاج مجھ کو بتا
نہ تھا بلندی و پستی کے درمیاں کچھ بھی
پہاڑ سے جو میں لُڑھکا ڈھلان پر نہ ٹِکا
منا لیا تھا کسی طور کل جسے ہم نے
سنا ہے اب ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ خفا
ابھی بھی وقت ہے باصرِؔ ہماری بات سنو
تمہارے ساتھ نہ ہو جو ہمارے ساتھ ہوا
باصر کاظمی

ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا

موسمِ ابر کا مزا بھی تھا
ساتھ وہ یارِ خوش فضا بھی تھا
ایک تو چارہ گَر مِلے ناقِص
کچھ مرا درد لادوا بھی تھا
اک تو ویسے ہی بدمزاج ہے وہ
اور اُس روز کچھ خفا بھی تھا
اب تو جینے کی بھی نہیں ہمت
کبھی مرنے کا حوصلہ بھی تھا
تو کچھ اپنا خیال کر باصرؔ
اُس نے جاتے ہوئے کہا بھی تھا
باصر کاظمی

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

کیا کیا وہ ہمیں سُنا گیا ہے
رہ رہ کے خیال آ رہا ہے
اک بات نہ کہہ کے آج کوئی
باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے
تم خوش نہیں ہو گے ہم سے مِل کے
آ جائیں گے ہم ہمارا کیا ہے
ہم لاکھ جواز ڈھونڈتے ہوں
جو کام بُرا ہے وہ بُرا ہے
کیا فائدہ فائدے کا یارو
نقصان میں کیا مضائقہ ہے
تم ٹھیک ہی کہہ رہے تھے اُس دن
کچھ ہم نے بھی اِن دنوں سُنا ہے
جتنی ہے تری نگاہ قاتل
اُتنی ترے ہاتھ میں شِفا ہے
دوشاخہ ہے میرے ذہن میں کیوں
جب سامنے ایک راستا ہے
کہنے کو ہَرا بھرا ہے لیکن
اندر سے درخت کھوکھلا ہے
خوش کرنے کو جو کہی تھی تُو نے
باصرِؔ اُسی بات پر خفا ہے
باصر کاظمی

اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا

وہ اپنے شہر سے جانے کی رہ دکھا تو گیا
اُسے پتا نہیں شاید کہ میں گیا تو گیا
مَنا بھی لیتے ہیں رُوٹھے ہوؤں کو ہم لیکن
بِلا سبب کوئی ہم سے ہُوا خفا تو گیا
یہ سوچتا ہوں کہ اب اُٹھ کے کس طرح جاؤں
میں آج بھُولے سے محفل میں تیری آ تو گیا
کبھی سزا بھی ملے گی اُسے مگر فی الحال
یہی بہت ہے بُرے کو بُرا کہا تو گیا
باصر کاظمی

ایک ناسور بن چکا ہوتا

غم اگر دل میں رہ گیا ہوتا
ایک ناسور بن چکا ہوتا
مجھ کو جلنا ہی تھا تو پھر اے دوست
میں تری رات کا دیا ہوتا
خاک میں کچھ کشش تو تھی ورنہ
پھول کیوں شاخ سے جدا ہوتا
تیرے محنت کشوں کی دنیا میں
غم نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا
یاد بھی دل سے مٹ گئی اُس کی
نقشِ پا کچھ تو دیرپا ہوتا
آپ ہی کچھ خفا سے رہتے ہیں
کوئی کیوں آپ سے خفا ہوتا
خواہشیں ہر گھڑی یہ کہتی ہیں
کام کچھ کام کا کیا ہوتا
باصر کاظمی

یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی
اگر سر زد ہوا حق مانگنے کا جرم تو اس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھکایا سر اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی
اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
در کاہے کو کُھلا ہے اِتنی دیر گئے
آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے
کس نے کس کی پھر دیوار پھلانگی ہے؟
کس سے کون خفا ہے اِتنی دیر گئے
کس کی آنکھ کی آس کا تارا ٹُوٹا ہے
کس کا چین لُٹا ہے اِتنی دیر گئے
دل کے پیڑ پہ پنکھ سمیٹے سپنوں میں
ہلچل سی یہ کیا ہے اِتنی دیر گئے
کن آنکھوں کی نم میں، گُھلنے آیا ہے
بادل کیوں برسا ہے اِتنی دیر گئے
سو گئے سارے بچّے بھی اور جگنو بھی
پھر کیوں شور بپا ہے اِتنی دیر گئے
کس کو بے کل دیکھ کے ماجدؔ چندا نے
آنگن میں جھانکا ہے اِتنی دیر گئے
ماجد صدیقی

مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
خاک سے ربط رکھے ہوا کس لئے
مُجھ کو ٹھہرائے وُہ، آشنا کس لئے
اِک ہی مسلک کے باوصف اُلجھے ہیں جو
درمیاں اُن کے آئے خُدا کس لئے
لو ہمِیں آپ سے حق نہیں مانگے
آپ کرتے ہیں محشر بپا کس لئے
جب چھُپائے نہ چھپتی ہوں عریانیاں
کوئی تن پر سجائے قبا کس لئے
جاں چھڑکتے تھے جن پر کبھی، کچھ کہو
اُن سے ٹھہرے ہو ماجدؔ خفا کس لئے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
نظر میں ہے نظر سے ہے جُدا بھی
وہ بیگانہ ہے میرا آشنا بھی
ہَوا جن پر بظاہر مہرباں ہے
اُنہی پتّوں سے رہتی ہے خفا بھی
گریزاں ہیں نجانے کیوں ہمِیں سے
زمانہ بھی، مقدر بھی،خدا بھی
ستم باقی رہا اب کون سا ہے
بہت کچھ ہو چکا اب لوٹ آ بھی
ترستی ہے جسے خوں کی روانی
سخن ایسا کوئی ہونٹوں پہ لا بھی
بہت نزدیک سے دیکھا ہے ماجدؔ!
نظر نے عرصۂ کرب و بلا بھی
ماجد صدیقی

اور کبھی بندِ قبا دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
غنچہ پس شاخ کھِلا دیکھنا
اور کبھی بندِ قبا دیکھنا
دیکھنا اُس کو ذرا محوِ کلام
اوج پہ ہے رقصِ صبا دیکھنا
پھر یہ کہاں لطفِ ہجومِ نگاہ
ہو کے ذرا اور خفا دیکھنا
چھیننا مجھ سے نہ یہ آب بقا
دیکھنا ہاں نامِ خدا دیکھنا
دل کہ ترے لطف سے آباد تھا
شہرِ تمّنا یہ لُٹا دیکھنا
خار ہیں اب جس پہ اُسی راہ پر
فرش گلوں کا بھی بچھا دیکھنا
چاہئے ماجدؔ سرِ شاخِ نظر
روز نیا پھول کھِلا دیکھنا
ماجد صدیقی

تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 102
سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی
دل نے ذرا سے غم کو قیامت بنا دیا
ورنہ وہ آنکھ اتنی زیادہ خفا نہ تھی
یوں دل لرز اٹھا ہے کسی کو پکار کر
میری صدا بھی جیسے کہ میری صدا نہ تھی
برگ خزاں جو شاخ سے ٹوٹا وہ خاک تھا
اس جاں سپردگی کے تو قابل ہوا نہ تھی
جگنو کی روشنی سے بھی کیا کیا بھڑک اٹھی
اس شہر کی فضا کہ چراغ آشنا نہ تھی
احمد فراز

چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 44
ترے جمال سے ہم رُونما نہیں ہوئے ہیں
چمک رہے ہیں، مگر آئینہ نہیں ہوئے ہیں
دھڑک رہا ہے تو اک اِسم کی ہے یہ برَ کت
وگرنہ واقعے اِس دل میں کیا نہیں ہوئے ہیں
بتا نہ پائیں، تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم
بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں
ترا کمال، کہ آنکھوں میں کچھ، زبان پہ کچھ
ہمیں تو معجزے ایسے عطا نہیں ہوئے ہیں
یہ مت سمجھ، کہ کوئی تجھ سے منحرف ہی نہیں
ابھی ہم اہلِ جُنوں لب کُشا نہیں ہوئے ہیں
بنامِ ذوقِ سخن خود نمائی آپ کریں
ہم اِس مرض میں ابھی مبتلا نہیں ہوئے ہیں
ہمی وہ، جن کا سفر ماورائے وقت و وجود
ہمی وہ، خود سے کبھی جو رہا نہیں ہوئے ہیں
خود آگہی بھی کھڑی مانگتی ہے اپنا حساب
جُنوں کے قرض بھی اب تک ادا نہیں ہوئے ہیں
کسی نے دل جو دکھایا کبھی، تو ہم عرفان
اُداس ہو گئے، لیکن خفا نہیں ہوئے ہیں
عرفان ستار

ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 41
کیا بتاوٗں کہ جو ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو کہیں اطراف میں پھیلی ہوئی ہے
صبح سے رقص کناں بادِ صبا ہے مجھ میں
تیری صورت میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی
غالباً تُو بھی مجھے ڈھونڈ رہا ہے مجھ میں
ایک ہی سمت ہر اک خواب چلا جاتا ہے
یاد ہے، یا کوئی نقشِ کفِ پا ہے مجھ میں؟
میری بے راہ روی اس لیے سرشار سی ہے
میرے حق میں کوئی مصروفِ دعا ہے مجھ میں
اپنی سانسوں کی کثافت سے گماں ہوتا ہے
کوئی امکان ابھی خاک ہُوا ہے مجھ میں
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
یا تو میں خود ہی رہائی کے لیے ہوں بے تاب
یا گرفتار کوئی میرے سِوا ہے مجھ میں
آئینہ اِس کی گواہی نہیں دیتا، تو نہ دے
وہ یہ کہتا ہے کوئی خاص ادا ہے مجھ میں
ہو گئی دل سے تری یاد بھی رخصت شاید
آہ و زاری کا ابھی شور اٹھا ہے مجھ میں
مجھ میں آباد ہیں اک ساتھ عدم اور وجود
ہست سے برسرِ پیکار فنا ہے مجھ میں
مجلسِ شامِ غریباں ہے بپا چار پہر
مستقل بس یہی ماحولِعزا ہے مجھ میں
ہو گئی شق تو بالآخر یہ انا کی دیوار
اپنی جانب کوئی دروازہ کھلا ہے مجھ میں
خوں بہاتا ہُوا، زنجیر زنی کرتا ہُوا
کوئی پاگل ہے جو بے حال ہُوا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو سے معطر ہے مرا سارا وجود
تیرے چھونے سے جو اک پھول کِھلا ہے مجھ میں
تیرے جانے سے یہاں کچھ نہیں بدلا، مثلاً
تیرا بخشا ہوا ہر زخم ہرا ہے مجھ میں
کیسے مل جاتی ہے آوازِ اذاں سے ہر صبح
رات بھر گونجنے والی جو صدا ہے مجھ میں
کتنی صدیوں سے اُسے ڈھونڈ رہے ہو بے سُود
آوٗ اب میری طرف آوٗ، خدا ہے مجھ میں
مجھ میں جنّت بھی مِری، اور جہنّم بھی مِرا
جاری و ساری جزا اور سزا ہے مجھ میں
روشنی ایسے دھڑکتے تو نہ دیکھی تھی کبھی
یہ جو رہ رہ کے چمکتا ہے، یہ کیا ہے مجھ میں؟
عرفان ستار

مجھ کو کہاں خبر تھی کہ اتنا برا ہوں میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 38
احباب کا کرم ہے کہ خود پر کھلا ہوں میں
مجھ کو کہاں خبر تھی کہ اتنا برا ہوں میں
خود سے مجھے جو ہے وہ گلہ کس سے میں کروں
مجھ کو منائے کون کہ خود سے خفا ہوں میں
اٹھے جو اس طرف وہ نظر ہی کہیں نہیں
اک شہرِ کم نگاہ میں کھویا ہُوا ہوں میں
تجھ سے نہیں کہوں گا تو کس سے کہوں گا یار؟
پہلے سمجھ تو جاوٗں کہ کیا چاہتا ہوں میں؟
کیا اور چاہتے ہیں یہ دیدہ ورانِ عصر؟
عادی منافقت کا تو ہو ہی گیا ہوں میں
مل جائیں گے بہت سے تجھے مصلحت پسند
مجھ سے نہ سر کھپا کہ بہت سر پھرا ہوں میں
اب آئینہ بھی پوچھ رہا ہے، تو کیا کہوں
حسرت بھری نگاہ سے کیا دیکھتا ہوں میں
باہر ہے زندگی کی ضرورت میں زندگی
اندر سے ایک عمر ہوئی مر چکا ہوں میں
رہتا ہے اک ہجوم یہاں گوش بر غزل
سنتا ہے کون درد سے جب چیختا ہوں میں
ہیں حل طلب تو مسئلے کچھ اور بھی مگر
اپنے لیے تو سب سے بڑا مسئلہ ہوں میں
میں نے ہی تجھ جمال کو تجھ پر عیاں کیا
اے حسنِ خود پرست، ترا ائینہ ہوں میں
جب تک میں اپنے ساتھ رہا تھا، ترا نہ تھا
اب تیرے ساتھ یوں ہوں کہ خود سے جدا ہوں میں
پہلے میں بولتا تھا بہت، سوچتا تھا کم
اب سوچتا زیادہ ہوں، کم بولتا ہوں میں
عرفان کیا تجھے یہ خبر ہے کہ ان دنوں
ہر دم فنا کے باب میں کیوں سوچتا ہوں میں؟
عرفان ستار

ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 26
وفا کے باب میں اپنا مثالیہ ہو جاؤں
ترے فراق سے پہلے ہی میں جدا ہو جاؤں
میں اپنے آپ کو تیرے سبب سے جانتا ہوں
ترے یقین سے ہٹ کر تو واہمہ ہو جاؤں
تعلقات کے برزخ میں عین ممکن ہے
ذرا سا دُکھ وہ مجھے دے تو میں ترا ہو جاؤں
ابھی میں خوش ہوں تو غافل نہ جان اپنے سے
نہ جانے کون سی لغزش پہ میں خفا ہو جاؤں
ابھی تو راہ میں حائل ہے آرزو کی فصیل
ذرا یہ عشق سوا ہو تو جا بہ جا ہو جاؤں
ابھی تو وقت تنفس کے ساتھ چلتا ہے
ذرا ٹھہر کہ میں اس جسم سے رہا ہو جاؤں
ابھی تو میں بھی تری جستجو میں شامل ہوں
قریب ہے کہ تجسس سے ماورا ہو جاؤں
خموشیاں ہیں، اندھیرا ہے، بے یقینی ہے
رہے نہ یاد بھی تیری تو میں خلا ہو جاؤں
کسی سے مل کے بچھڑنا بڑی اذیت ہے
تو کیا میں عہدِ تمنا کا فاصلہ ہو جاؤں
ترے خیال کی صورت گری کا شوق لیے
میں خواب ہو تو گیا ہوں اب اور کیا ہو جاؤں
یہ حرف و صوت کا رشتہ ہے زندگی کی دلیل
خدا وہ دن نہ دکھائے کہ بے صدا ہو جاؤں
وہ جس نے مجھ کو ترے ہجر میں بحال رکھا
تُو آ گیا ہے تو کیا اُس سے بے وفا ہو جاؤں
عرفان ستار

اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 102
چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دَوا ہو جیسے
مُجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے بھی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے
میرے ماتھے پہ ترے پیار کا ہاتھ
رُوح پر دست صبا ہو جیسے
یوں بہت ہنس کے ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے
سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی رِدا ہو جیسے
پروین شاکر

دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 5
اس جنبشِ ابرو کا گلہ ہو نہیں سکتا
دل گوشت ہے ناخن سے جدا ہو نہیں سکتا
کچھ تو ہی اثر کر، ترے قربان خموشی!
نالوں سے تو کچھ کام مرا ہو نہیں سکتا
گر غیر بھی ہو وقفِ ستم تو ہے مسلم
کچھ تم سے بجز جور و جفا ہو نہیں سکتا
کھولے گرہِ دل کو ترا ناخنِ شمشیر
یہ کام اجل سے بھی روا ہو نہیں سکتا
سبقت ہو تجھے راہ میں اس کوچے کی مجھ پر
زنہار یہ اے راہ نما! ہو نہیں سکتا
میں نے جو کہا ہمدمِ اغیار نہ ہو جے
تو چیں بہ جبیں ہو کے کہا، ہو نہیں سکتا
یہ رازِ محبت ہے نہ افسانۂ بلبل
محرم ہو مری بادِ صبا، ہو نہیں سکتا
کب طالعِ خفتہ نے دیا خواب میں آنے
وعدہ بھی کیا وہ کہ وفا ہو نہیں سکتا
وہ مجھ سے خفا ہے تو اسے یہ بھی ہے زیبا
پر شیفتہ میں اس سے خفا ہو نہیں سکتا
مصطفٰی خان شیفتہ

نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 37
ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں
جی میں آئے تو کبھی فاتحہ دلوا دینا
آخری وقت ہے ہم تم سے جدا ہوتے ہیں
دیکھیں مسجد ہو کہ مے خانہ ہو پہلے آباد
دونوں دیوار بہ دیوار بنا ہوتے ہیں
دوست دشمن ہیں سبھی بزم میں‌ دیکھیں کیا ہو
کس سے خوش ہوتے ہیں وہ کس سے خفا ہوتے ہیں
پار ہوتی ہیں‌کلیجے سے نگاہیں اُن کی
قدر انداز کے کب تیر خطا ہوتے ہیں
داغ دہلوی

آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 176
کس سے اظہارِ مدعا کیجے
آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے
ہو نا پایا یہ فیصلہ اب تک
آپ کیا کیجیے تو کیا کیجے
آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں
سخت بیمار ہے دعا کیجے
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جن سے ملیے اسے خفا کیجے
ہے تقاضا مری طبیعت کا
ہر کسی کو چراغ پا کیجے
ہے تو بارے یہ عالمِ اسباب
بے سبب چیخنے لگا کیجے
آج ہم کیا گلا کریں اس سے؟
گلہ تنگیِ قبا کیجے
فطق حیوان پر گراں ہے ابھی
گفتگو کم سے کم کیا کیجے
حضرتِ زلفِ غالیہ افشاں
نام اپنا صبا صبا کیجے
زندگی کا عجب معاملہ ہے
ایک لمحے میں فیصلہ کیجے
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے
ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ
بیوفائی کی انتہا کیجے
کوہکن کو ہے خودکشی خواہش
شاہ بانو سے التجا کیجے
مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیں
آپ وہ زہر مت پیا کیجے
رنگ ہر رنگ میں ہے دوا غالب
خون تھوکوں تو واہ وا کیجے
جون ایلیا

بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 117
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد
بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد
منصبِ شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا
ہوئی معزولئ انداز و ادا میرے بعد
شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے
شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
خوں ہے دل خاک میں احوالِ بتاں پر، یعنی
ان کے ناخن ہوئے محتاجِ حنا میرے بعد
درخورِ عرض نہیں جوہرِ بیداد کو جا
نگہِ ناز ہے سرمے سے خفا میرے بعد
ہے جنوں اہلِ جنوں کے لئے آغوشِ وداع
چاک ہوتا ہے گریباں سے جدا میرے بعد
کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق
ہے مکّرر لبِ ساقی میں صلا@ میرے بعد
غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
کہ کرے تعزیتِ مہر و وفا میرے بعد
آئے ہے بے کسئ عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد
@نسخۂ حمیدیہ میں ہے ’لبِ ساقی پہ‘۔ اکثر نسخوں میں بعد میں یہی املا ہے۔ @ نسخۂ مہر، آسی اور باقی نسخوں میں لفظ ‘پہ’ ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں

دیوان ششم غزل 1848
اب دیکھیں آہ کیا ہو ہم وے جدا ہوئے ہیں
بے یار و بے دیار و بے آشنا ہوئے ہیں
غیرت سے نام اس کا آیا نہیں زباں پر
آگے خدا کے جب ہم محو دعا ہوئے ہیں
اہل چمن سے کیونکر اپنی ہو روشناسی
برسوں اسیر رہ کر اب ہم رہا ہوئے ہیں
بے عشق خوب رویاں اپنی نہیں گذرتی
اے وائے کس بلا میں ہم مبتلا ہوئے ہیں
جانا کہ تن میں ہر جا نازک ہے اور دلکش
ہم رفتۂ سراپا اس کے بجا ہوئے ہیں
تھے غنچے جتنے زیر دیوار باغ طائر
شب باشی چمن سے شاید خفا ہوئے ہیں
صرفہ قمیص کا ہے کیا وقر اس گلی میں
ترک لباس کر واں شاہاں گدا ہوئے ہیں
خاموش اس کے در پر ہوکر فقیر بیٹھے
یعنی کہ عاشقی میں ہم بے نوا ہوئے ہیں
عہد شباب گذرا شرب مدام ہی میں
ہم کہنہ سال ہوکر اب پارسا ہوئے ہیں
اظہار کم فراغی ہردم کی بے دماغی
ان روزوں میر صاحب کچھ میرزا ہوئے ہیں
میر تقی میر

نہ جانا ان نے تو یوں بھی کہ کیا تھا

دیوان ششم غزل 1787
موئے ہم جس کی خاطر بے وفا تھا
نہ جانا ان نے تو یوں بھی کہ کیا تھا
معالج کی نہیں تقصیر ہرگز
مرض ہی عاشقی کا لا دوا تھا
نہ خود سر کیونکے ہوں ہم یار اپنا
خودآرا خودپسند و خودستا تھا
رکھا تھا منھ کبھو اس کنج لب پر
ہمارے ذوق میں اب تک مزہ تھا
نہ ملیو چاہنے والوں سے اپنے
نہ جانا تجھ سے یہ کن نے کہا تھا
پریشاں کر گئی فریاد بلبل
کسو سے دل ہمارا پھر لگا تھا
ملے برسوں وہی بیگانگی تھی
ہمارے زعم میں وہ آشنا تھا
نہ دیوانے تھے ہم سے قیس و فرہاد
ہمارا طور عشق ان سے جدا تھا
بدن میں صبح سے تھی سنسناہٹ
انھیں سنّاہٹوں میں جی جلا تھا
صنم خانے سے اٹھ کعبے گئے ہم
کوئی آخر ہمارا بھی خدا تھا
بدن میں اس کے ہے ہرجاے دلکش
جہاں اٹکا کسو کا دل بجا تھا
کوئی عنقا سے پوچھے نام تیرا
کہاں تھا جب کہ میں رسوا ہوا تھا
چڑھی تیوری چمن میں میر آیا
کلک خسپ آج شاید کچھ خفا تھا
میر تقی میر

عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں

دیوان پنجم غزل 1698
حسن کیا جنس ہے جی اس پہ لگا بیٹھے ہیں
عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں
ہم وے ہر چند کہ ہم خانہ ہیں دونوں لیکن
روش عاشق و معشوق جدا بیٹھے ہیں
ان ستم کشتوں کو ہے عشق کہ اٹھ کر یک بار
تیغ خوں خوار تلے یار کی جا بیٹھے ہیں
کیونکے یاں اس کا خیال آوے کہ آگے ہی ہم
دل سا گھر آتشیں آہوں سے جلا بیٹھے ہیں
پیش رو دست دعا ہے وہی شے خواہش ہے
اور سب چیز سے ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے ہیں
ساری رات آنکھوں کے آگے ہی مری رہتا ہے
گوکہ وے چاند سے مکھڑے کو چھپا بیٹھے ہیں
باغ میں آئے ہیں پر اس گل تر بن یک سو
غنچہ پیشانی و دل تنگ و خفا بیٹھے ہیں
کیا کہوں آئے کھڑے گھر سے تو اک شوخی سے
پائوں کے نیچے مرے ہاتھ دبا بیٹھے ہیں
قافلہ قافلہ جاتے ہیں چلے کیا کیا لوگ
میر غفلت زدہ حیران سے کیا بیٹھے ہیں
میر تقی میر

گل پھول دیکھنے کو بھی ٹک اٹھ چلا کرو

دیوان دوم غزل 928
جوں غنچہ میر اتنے نہ بیٹھے رہا کرو
گل پھول دیکھنے کو بھی ٹک اٹھ چلا کرو
جوں نے نہ زارنالی سے ہم ایک دم رہیں
تم بند بند کیوں نہ ہمارا جدا کرو
سوتے کے سوتے یوں ہی نہ رہ جائیں ہم کبھو
آنکھیں ادھر سے موند نہ اپنی لیا کرو
سودے میں اس کے بک گئے ایسے کئی ہزار
یوسفؑ کا شور دور ہی سے تم سنا کرو
ہوتے ہو بے دماغ تو دیکھو ہو ٹک ادھر
غصے ہی ہم پہ کاش کے اکثر رہا کرو
یہ اضطراب دیکھ کہ اب دشمنوں سے بھی
کہتا ہوں اس کے ملنے کی کچھ تم دعا کرو
دم رکتے ہیں سیاہی مژگاں ہی دیکھ کر
سرمہ لگا کے اور ہمیں مت خفا کرو
پورا کریں ہیں وعدے کو اپنے ہم آج کل
وعدے کے تیں وصال کے تم بھی وفا کرو
دشمن ہیں اپنے جی کے تمھارے لیے ہوئے
تم بھی حقوق دوستی کے کچھ ادا کرو
اپنا چلے تو آپھی ستم سب اٹھایئے
تم کون چاہتا ہے کسو پر جفا کرو
ہر چند ساتھ جان کے ہے عشق میر لیک
اس درد لاعلاج کی کچھ تو دوا کرو
میر تقی میر

بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو

دیوان دوم غزل 922
ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو
بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو
کرتی ہے عشق بازی کو بے مائگی وبال
کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو
ہجر بتاں میں طبع پراگندہ ہی رہی
کافر بھی اپنے یار سے یارب جدا نہ ہو
آزار کھینچنے کے مزے عاشقوں سے پوچھ
کیا جانے وہ کہ جس کا کہیں دل لگا نہ ہو
کھینچا ہے آدمی نے بہت دور آپ کو
اس پردے میں خیال تو کر ٹک خدا نہ ہو
رک جائے دم گر آہ نہ کریے جہاں کے بیچ
اس تنگناے میں کریں کیا جو ہوا نہ ہو
طرزسخن تو دیکھ ٹک اس بدمعاش کی
دل داغ کس طرح سے ہمارا بھلا نہ ہو
شکوہ سیاہ چشمی کا سن ہم سے یہ کہا
سرمہ نہیں لگانے کا میں تم خفا نہ ہو
جی میں تو ہے کہ دیکھیے آوارہ میر کو
لیکن خدا ہی جانے وہ گھر میں ہو یا نہ ہو
میر تقی میر

پیغمبر کنعاں نے دیکھا نہ کہ کیا دیکھا

دیوان دوم غزل 707
دل عشق میں خوں دیکھا آنکھوں کو گیا دیکھا
پیغمبر کنعاں نے دیکھا نہ کہ کیا دیکھا
مجروح ہے سب سینہ تس پر ہے نمک پاشی
آنکھوں کے لڑانے کا ہم خوب مزہ دیکھا
یک بار بھی آنکھ اپنی اس پر نہ پڑی مرتے
سو مرتبہ بالیں سے ہم سر کو اٹھا دیکھا
کاہش کا مری اب یہ کیا تجھ کو تعجب ہے
بیماری دل والا کوئی بھی بھلا دیکھا
آنکھیں گئیں پھر تجھ بن کیا کیا نہ عزیزوں کی
پر تونے مروت سے ٹک ان کو نہ جا دیکھا
جی دیتے ہیں مرنے پر سب شہر محبت میں
کچھ ساری خدائی سے یہ طور نیا دیکھا
کہہ دل کو گنوایا ہے یا رنج اٹھایا ہے
اے میر تجھے ہم نے کچھ آج خفا دیکھا
میر تقی میر

یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے

دیوان اول غزل 476
گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے
یہی بات ہم چاہتے تھے خدا سے
وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں
مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے
کوئی ہم سے کھلتے ہیں بند اس قبا کے
یہ عقدے کھلیں گے کسو کی دعا سے
پشیمان توبہ سے ہو گا عدم میں
کہ غافل چلا شیخ لطف ہوا سے
نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں
کدورت مجھے ہے نہایت صبا سے
جگر سوے مژگاں کھنچا جائے ہے کچھ
مگر دیدئہ تر ہیں لوہو کے پیاسے
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے
تعصب تجھے ہے عجب ماسوا سے
طبیب سبک عقل ہرگز نہ سمجھا
ہوا درد عشق آہ دونا دوا سے
ٹک اے مدعی چشم انصاف وا کر
کہ بیٹھے ہیں یہ قافیے کس ادا سے
نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت
کہو میر جی آج کیوں ہو خفا سے
میر تقی میر

ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں

دیوان اول غزل 293
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں
ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشق
رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں
اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں
ہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں
ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک
از بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں
آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہو گی
آزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گر
ہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں
دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں
میں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں
گو طاقت و آرام و خورو خواب گئے سب
بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں
اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیز
معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں
بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراں
مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں
تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر
جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں
سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاک
ہے وقت دعا میر کہ اب دل کو لگا ہوں
میر تقی میر

لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم

دیوان اول غزل 282
گرچہ آوارہ جوں صبا ہیں ہم
لیک لگ چلنے میں بلا ہیں ہم
کام کیا آتے ہیں گے معلومات
یہ تو سمجھے ہی نہ کہ کیا ہیں ہم
تم ہی بیگانگی کرو نہ کرو
دلبرو وے ہی آشنا ہیں ہم
اے بتاں اس قدر جفا ہم پر
عاقبت بندئہ خدا ہیں ہم
سرمہ آلودہ مت رکھا کر چشم
دیکھ اس وضع سے خفا ہیں ہم
ہے نمک سود سب تن مجروح
تیرے کشتوں میں میرزا ہیں ہم
تیرے کوچے میں تا بہ مرگ رکھا
کشتۂ منت وفا ہیں ہم
خوف ہم کو نہیں جنوں سے کچھ
یوں تو مجنوں کے بھی چچا ہیں ہم
آستاں پر ترے ہی گذری عمر
اسی دروازے کے گدا ہیں ہم
ڈرتے ہیں تیری بے دماغی سے
کیونکہ پھر یار جی بلا ہیں ہم
کوئی خواہاں نہیں ہمارا میر
گوئیا جنس ناروا ہیں ہم
میر تقی میر

فرد فرد

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 2
آ یہیں ، عمر پسِ عمر گزاری جائے
جان سو بار اسی خاک پہ واری جائے
یہ جاہِ دنیا کروں گا کیا میں
تمہی سنبھالو اسے، چلا میں
انا کے اندر بھی اک انا ہے
وگرنہ کیوں خود سے ہوں خفا میں
تنہائی میں اک لمحے کو ٹھہرا کے امر کر لیتا ہوں
اور اپنے لہو کے رستے پر صدیوں کا سفر کر لیتا ہوں
احساس کی دو دنیاؤں میں جو دوری ہے، مجبوری ہے
تو جس پہ تبسم کرتا ہے میں آنکھیں تر کر لیتا ہوں
تو کیا ضرور ہے دل پر اثر لیا جائے
یہی طریقۂ دنیا ہے، کیا کیا جائے
پھر کیوں نہ دوسروں سے ہمیں اجتناب ہو
جب اپنے آپ سے ہی تعلق خراب ہو
ضبط کے گونگے سناٹے میں کوئی رہائی کب دے گا
وہ آنسو جو روک رکھا ہے اُس کو دہائی کب دے گا
کون تھا جو دور بھی رہ کر تمہارے اس تھا
وصل زار خواب میں شب بھر تمہارے پاس تھا
تم سے اے دنیا! یہ رشتہ تو ہمیشہ یہی رہا
سر ہمارے پاس تھا پتھر تمہارے پاس تھا
خدا تھا، کیا تھا مجھے بے شعور کر دیتا
تھکاوٹیں مرے جینے کی دور کر دیتا
کوئی مفاہمت بھی اُصولی نہ کر سکا
میں اپنے دل کی حکم عدولی نہ کر سکا
اک فاصلہ رہا مرا غم ناشناس سے
میں دادِ ناروا کی وصولی نہ کر سکا
آفتاب اقبال شمیم

سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 41
قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم
سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم
کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم
کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم
اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی
قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم
دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی
کوئے ستم میں سب کو خفا کر چکے ہیں ہم
اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کر چکے ہیں ہم
ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ
جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم
کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے
سو بار اُن کی خُو کا گِلا کر چکے ہیں ہم
فیض احمد فیض

پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 189
ہم بندگاں تو نذرِ وفا ہونے والے ہیں
پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں
اس طرح مطمئن ہیں مرے شب گزیدگاں
جیسے یہ سائے ظلِّ ہما ہونے والے ہیں
بے چارے چارہ سازئ آزار کیا کریں
دو ہاتھ ہیں سو محوِ دُعا ہونے والے ہیں
اک روز آسماں کو بھی تھکنا ضرور ہے
کب تک زمیں پہ حشر بپا ہونے والے ہیں
ہم پہلے تشنگی کی حدوں سے گزر تو جائیں
سارے سراب آبِ بقا ہونے والے ہیں
لگتا نہیں ہے دل کو جفا کا کوئی جواز
نامہرباں، یہ تیر خطا ہونے والے ہیں
ہم دل میں لکھ رہے ہیں حسابِ ستم گراں
کچھ دن میں سب کے قرض ادا ہونے والے ہیں
ان راستوں میں دل کی رفاقت ہے اصل چیز
جو صرف ہم سفر ہیں جدا ہونے والے ہیں
اچھا نہیں غزل کا یہ لہجہ مرے عزیز
بس چپ رہو کہ لوگ خفا ہونے والے ہیں
عرفان صدیقی

لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 102
ایک اور دِن شہید ہوا، ہو گئی ہے شام
لشکر سے شب کے شور اُٹھا ہو گئی ہے شام
مدّت ہوئی کہ سر پہ سرابوں کی دُھوپ ہے
دشتِ طلب میں ہم سے خفا ہو گئی ہے شام
لو دے اُٹھا ہے دستِ دُعا پر شفق کا رنگ
تیری ہتھیلیوں پہ حنا ہو گئی ہے شام
میرے لبوں سے مل کے الگ کیا ہوئی وہ زُلف
جلتی دوپہریوں سے جدا ہو گئی ہے شام
عارض کی دُھوپ، زُلف کے سائے، بدن کی آنچ
ہنگامہ بن کے دِل میں بپا ہو گئی ہے شام
غربت کی دھول، کیسے کسی کو دِکھائی دے
میرے برہنہ سر کی رِدا ہو گئی ہے شام
سورج کا خوُن بہنے لگا پھر ترائی میں
پھر دستِ شب میں تیغِ جفا ہو گئی ہے شام
عرفان صدیقی

میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 22
کچھ اپنی حقیقت کی گر تجھ کو خبر ہوتی
میری ہی طرح تو بھی غیروں سے خفا ہوتا
جو دل پہ گزرتی ہے کیا تجھ کو خبر ناصح
گر آج نہ تم آتے کیا جانئے کیا ہوتا
کل حالیؔ دیوانہ کہتا تھا کچھ افسانہ
سننے ہی کے قابل تھا تم نے بھی سنا ہوتا
الطاف حسین حالی

کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 175
دل قتیل ادا تھا پہلے بھی
کوئی ہم سے خفا تھا پہلے بھی
ہم تو ہر دور کے مسافر ہیں
ظلم ہم پر روا تھا پہلے بھی
دل کے صحراؤں کو بسائے کوئی
شہر تو اک بسا تھا پہلے بھی
وقت کا کوئی اعتبار نہیں
ہم نے تم سے کہا تھا پہلے بھی
ہر سہارا پہاڑ کی صورت
اپنے سر پر گرا تھا پہلے بھی
دل کو باتوں سے ناپتے ہیں لوگ
ذکر اپنا چلا تھا پہلے بھی
باقی صدیقی

ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 150
دل تیری اداؤں سے کھچا اور زیادہ
ہم ہو گئے دنیا سے خفا اور زیادہ
دل خون ہوا جاتا ہے دنیا کی ادا سے
یہ رنگ جما جتنا اڑا اور زیادہ
کیا داغ جلے دل کے بہ انداز چراغاں
احساس اندھیرے کا ہوا اور زیادہ
اس طرح مرے منہ پہ کوئی ہاتھ نہ رکھے
اس طرح تو گونجے گی صدا اور زیادہ
اب صورت آوارہ صدا، دل سے گزرنا
اب ٹھہرے تو چیخے گا خلا اور زیادہ
جب پڑتا ہے پھولوں پہ ترے حسن کا پرتو
گلشن میں مچلتی ہے صبا اور زیادہ
اس طرح وہ بت آیا مری راہ میں باقیؔ
یاد آنے لگا مجھ کو خدا اور زیادہ
باقی صدیقی

چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم ے خفا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 103
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
چھوڑو نہ کرو بات کہ میں تم سے خفا ہوں
رہنے دو کہ اب تم بھی مجھے پڑھ نہ سکو گے
برسات میں کاغذ کی طرح بھیگ گیا ہوں
سو بار گرہ دے کے کسی آس نے جوڑا
سو بار میں دھاگے کی طرح ٹوٹ چکا ہوں
جائے گا جہاں تو مری آواز سنے گا
میں چور کی مانند ترے دل میں چھپا ہوں
ایک نقطے پہ آ کر بھی ہم آہنگ نہیں ہیں
تو اپنا فسانہ ہے تو میں اپنی صدا ہوں
چھیڑو نہ ابھی شاخ شکستہ کا فسانہ
ٹھہرو میں ابھی رقص صبا دیکھ رہا ہوں
منزل کا پتا جس نے دیا تھا مجھے باقیؔ
اس شخص سے رستے میں کئی بار ملا ہوں
باقی صدیقی