ٹیگ کے محفوظات: خطا

یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جور و ستم کی اِنتہا کر دی
اگر سر زد ہوا حق مانگنے کا جرم تو اس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھکایا سر اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
یزیدِ وقت نے جوروستم کی انتہا کر دی
اگر سر زد ہُوا حق مانگنے کا جرم تو اُس پر سزا کیسی
مرے دستِ طلب نے کونسی ایسی خطا کر دی
کچھ افیونی حقائق ہی کھُلے ورنہ اِن ہونٹوں پر
سخن کیا تھا کہ خلقِ شہر تک جس نے خفا کر دی
زمیں یا آسماں کا جو خدا تھا سامنے اُس کے
جھُکایا سر، اٹھائے ہاتھ اور رو کر دعا کر دی
وطن کی بد دعا پر ریزہ ریزہ ہو گیا کوئی
کسی نے دیس پر جاں تک ہتھیلی پر سجا کر دی
حیا آنکھوں میں اور سچّائیاں جذبات میں ماجد
مجھے ماں باپ نے جو دی یہی پونجی کما کر دی
ماجد صدیقی

اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
مُو بہ مُو تھی جو ظلمت ضیا ہو گئی
اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی
لے کے نکلے غرض تو ہمارے لئے
خلق ساری ہی جیسے خدا ہو گئی
دیکھ ٹانگہ کچہری سے خالی مُڑا
ہے سجنوا کو شاید سزا ہو گئی
اَب نمِ برگ بھی ساتھ لاتی نہیں
اتنی قلّاش کیونکر ہوا ہو گئی
جس پہ تھا مرغ، صّیاد کے وار سے
شاخ تک وُہ شجر سے جدا ہو گئی
عدل ہاتھوں میں آیا تو اپنے لئے
جو بھی شے ناروا تھی روا ہو گئی
ہم نے کیونکر ریا کو ریا کہہ دیا
ہم سے ماجدؔ! یہ کیسی خطا ہو گئی
ماجد صدیقی

سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری

نینا عادل ۔ غزل نمبر 18
میں ترا درد، ترا مرض، دوا بھی تیری
سایہ بیماری مرا، اس میں شفا بھی تیری
اک اشارہ جو ترے حق میں کیا جائے تو
بوئے گل، رنگِ چمن، موجِ صبا بھی تیری
خواب میں تجھ کو محبت کی بشارت ہو گی
یہ صلہ بھی ہے بیک وقت سزا بھی تیری
عمر بھر تجھ سے ہوا چاہتی ہے جو سر زد!!
در گزر کر دی گئی ہے وہ خطا بھی تیری
اے دیے! بجھتے ہوئے دیکھا گیا تھا تجھ کو
تیرے انکار میں شامل تھی رضا بھی تیری
ہاتھ رکھتے ہوئے اک دل پہ کہا جاتا ہے
چھین لی جائے گی تجھ سے یہ جگہ بھی تیری
نینا عادل

ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 77
کیا کوئی باغ میں ہم مفت رہا کرتے ہیں
ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں
رخ اِدھر آنکھ ادھر آپ یہ کیا کرتے ہیں
پھر نہ کہنا مرے تیر خطا کرتے ہیں
اب تو پردے کو اٹھا دو مری لاش اٹھتی ہے
دیکھو اس وقت میں منہ دیکھ لیا کرتے ہیں
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
اب تو احباب بھی مرنے کی دعا کرتے ہیں
صبحِ فرقت بھی قمر آنکھ کے آنسو رکے
یہ وہ تارے ہیں جو دن میں بھی گرا کرتے ہیں
قمر جلالوی

اگر حضور نے کہہ دیا کل خدا ہوں میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 73
بجا ہے حکم کی تعمیل مانتا ہوں میں
اگر حضور نے کہہ دیا کل خدا ہوں میں
پڑے گا اور بھی کیا وقت میری کشتی پر
کہ ناخدا نہیں کہتا کہ ناخدا ہوں میں
تمھارے تیرِ نظر نے غریب کی نہ سنی
ہزار دل نے پکارا کہ بے خطا ہوں میں
سمجھ رہا ہوں قمر راہزن بجھا دے گا
چراغِ راہ ہوں رستے میں جل رہا ہوں میں
قمر جلالوی

تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 71
شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں
گلشن میں چل کے بندِ قبا تیرے وا کروں
جی چاہتا ہے جامۂ گل کو قبا کروں
آتا ہوں پیرِ دیر کی خدمت سے مست میں
ہاں زاہدو تمہارے لئے کیا دعا کروں
جوشِ فغاں وداع، کہ منظور ہے انہیں
دل نذرِ کاوشِ نگہِ سرما سا کروں
نفرین بے شمار ہے اس عمد و سہو پر
گر ایک میں صواب کروں سو خطا کروں
مطرب بدیع نغمہ و ساقی پری جمال
کیا شرحِ حالتِ دلِ درد آشنا کروں
تم دلربا ہو دل کو اگر لے گئے تو کیا
جب کاہ ہو کے میں اثرِ کہربا کروں
اے چارہ ساز لطف! کہ تو چارہ گر نہیں
بس اے طبیب رحم! کہ دل کی دوا کروں
پیتا ہوں میں مدام مئے نابِ معرفت
اصلِ شرور و امِ خبائث کو کیا کروں
یا اپنے جوشِ عشوۂ پیہم کو تھامئے
یا کہئے میں بھی نالۂ شورش فزا کروں
میں جل گیا وہ غیر کے گھر جو چلے گئے
شعلے سے استعارہء آوازِ پا کروں
ڈر ہے کہ ہو نہ شوقِ مزامیر شیفتہ
ورنہ کبھی سماعِ مجرد سنا کروں
مصطفٰی خان شیفتہ

تلون سے ہے تم کو مدعا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 33
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
کبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں
کبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا
کبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں
کبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا
کبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں
کبھی الطافِ جرات آزما کیا
کبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں
کبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا
کبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی
کبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا
کبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا
کہ کیا طاقت جو پوچھوں میں "خطا کیا”
کبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں
پئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا
یہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف
جواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا
ابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم
کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 37
ہائے دو دل جو کبھی مل کے جدا ہوتے ہیں
نہیں‌معلوم وہ کیا کرتے ہیں‌ کیا ہوتے ہیں
جی میں آئے تو کبھی فاتحہ دلوا دینا
آخری وقت ہے ہم تم سے جدا ہوتے ہیں
دیکھیں مسجد ہو کہ مے خانہ ہو پہلے آباد
دونوں دیوار بہ دیوار بنا ہوتے ہیں
دوست دشمن ہیں سبھی بزم میں‌ دیکھیں کیا ہو
کس سے خوش ہوتے ہیں وہ کس سے خفا ہوتے ہیں
پار ہوتی ہیں‌کلیجے سے نگاہیں اُن کی
قدر انداز کے کب تیر خطا ہوتے ہیں
داغ دہلوی

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 269
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 189
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو اگر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبٓ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
مرزا اسد اللہ خان غالب

اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 73
استطاعت سے زیادہ دل بڑا کرنا تو ہے
اُس کے کم ہونے کا کفّارہ ادا کرنا تو ہے
مت کہو، اِن دوریوں کے بعد بھی ہیں دوریاں
پُر کسی شے سے یہ آنکھوں کا خلا کرنا تو ہے
اس لئے اِس سے سلوکِ ناروا بھی ہے روا
زندگی کو ایک دن ہم سے دغا کرنا تو ہے
قتل کا الزام بھی مقتول پر ہی آئے گا
قاتلوں نے خود کو ثابت بے خطا کرنا تو ہے
ہم کہ ٹھہرے اپنی عادت میں تغیّر نا پسند
جو میسّر ہے اُسی پر اکتفا کرنا تو ہے
ہم کہ تنہائی کے اک پُرہول سنّاٹے میں ہیں
کچھ نہ کچھ، ایسے میں ہنگامہ بپا کرنا تو ہے
آفتاب اقبال شمیم

جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 253
نیاز عشق بھی حد سے سوا نہ ہونے پائے
جبیں اُٹھا، کہ یہ بندہ خدا نہ ہونے پائے
مرے عدو، ترے ترکش میں آخری ہے یہ تیر
تو دیکھ، اب کے نشانہ خطا نہ ہونے پائے
عجب یہ کہنہ سرا ہے، عجب چراغ ہیں ہم
کہ ساری رات جلیں اور ضیاء نہ ہونے پائے
ہمارا دل بھی اک آئینہ ہے مگر اس میں
وہ عکس ہے جو کبھی رونما نہ ہونے پائے
عرفان صدیقی

پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 189
ہم بندگاں تو نذرِ وفا ہونے والے ہیں
پھر آپ لوگ کس کے خدا ہونے والے ہیں
اس طرح مطمئن ہیں مرے شب گزیدگاں
جیسے یہ سائے ظلِّ ہما ہونے والے ہیں
بے چارے چارہ سازئ آزار کیا کریں
دو ہاتھ ہیں سو محوِ دُعا ہونے والے ہیں
اک روز آسماں کو بھی تھکنا ضرور ہے
کب تک زمیں پہ حشر بپا ہونے والے ہیں
ہم پہلے تشنگی کی حدوں سے گزر تو جائیں
سارے سراب آبِ بقا ہونے والے ہیں
لگتا نہیں ہے دل کو جفا کا کوئی جواز
نامہرباں، یہ تیر خطا ہونے والے ہیں
ہم دل میں لکھ رہے ہیں حسابِ ستم گراں
کچھ دن میں سب کے قرض ادا ہونے والے ہیں
ان راستوں میں دل کی رفاقت ہے اصل چیز
جو صرف ہم سفر ہیں جدا ہونے والے ہیں
اچھا نہیں غزل کا یہ لہجہ مرے عزیز
بس چپ رہو کہ لوگ خفا ہونے والے ہیں
عرفان صدیقی

بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 78
حشر برپا تھا کہ سبط مصطفی مارا گیا
بے وطن جنگل میں بے جرم و خطا مارا گیا
چشمۂ خوں سے بجھاکر لشکر اعدا کی پیاس
بادشاہ کشور صبر و رضا مارا گیا
برگ گل سے کون سا خطرہ کماں داروں کو تھا
پھول کی گردن میں کیوں تیر جفا مارا گیا
گونج کر گم ہو گئی صحرا میں اکبر کی اذاں
اُڑتے اُڑتے طائر صوت و صدا مارا گیا
کیسے کیسے سرفروش اُس مہرباں کے ساتھ تھے
ایک ایک آخر سر راہ وفا مارا گیا
تم نکل کر کس کا استقبال کرنے آئے ہو
شہر والو، دشت میں وہ قافلہ مارا گیا
چھٹ گیا آشفتگاں کے ہاتھ سے دامان صبر
سینۂ صد چاک پر دست دعا مارا گیا
پردۂ خیمہ تک آنے ہی کو تھی موج فرات
ناگہاں سقائے بیت مرتضیٰ مارا گیا
زندہ ہم سب نوحہ گر بس یہ خبر سننے کو ہیں
لٹ گئے رہزن، گروہ اشقیا مارا گیا
عرفان صدیقی

گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 28
نفس دعویٰ بے گناہی کا سدا کرتا رہا
گرچہ اُترے جی سے دل اکثر ابا کرتا رہا
حق نے احساں نہ کی اور میں نے کفراں میں کمی
وہ عطا کرتا رہا اور میں خطا کرتا رہا
چوریوں سے دیدہ و دل کی نہ شرمایا کبھی
چپکے چپکے نفس خائن کا کہا کرتا رہا
طاعنوں کی زد سے بچ بچ کر چلا راہ خطا
وار ان کا اس لئے اکثر خطا کرتا رہا
نفس میں جو ناروا خواہش ہوئی پیدا کبھی
اس کو حیلے دل سے گھڑ گھڑ کر روا کرتا رہا
منہ نہ دیکھیں دوست پھر میرا اگر جائیں کہ میں
اُس سے کیا کہتا رہا اور آپ کیا کرتا رہا
تھا نہ استحقاق تحسیں پر سنی تحسیں سدا
حق ہے جود و ہمتی کا وہ ادا کرتا رہا
شہرت اپنی جس قدر بڑھتی گئی آفاق میں
کبر نفس اتنا ہی یا نشوونما کرتا رہا
ایک عالم سے وفا کی تو نے اے حالیؔ مگر
نفس سے اپنے سدا ظالم جفا کرتا رہا
الطاف حسین حالی

کیمیا کو طلا سے کیا مطلب

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 6
درد دل کو دوا سے کیا مطلب
کیمیا کو طلا سے کیا مطلب
جو کرینگے بھرینگے خود واعظ
تم کو میری خطا سے کیا مطلب
جن کے معبود حورو غلماں ہیں
ان کو زاہد خدا سے کیا مطلب
کام ہے مردمی سے انساں کی
زبد یا اتقا سے کیا مطلب
صوفی شہرِ با صفا ہے اگر
ہو ہماری بلا سے، کیا مطلب
نگہت مے پہ عشق میں جو حالیؔ
ان کو درد و صفا سے کیا مطلب
الطاف حسین حالی

ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 29
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزاروں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھِس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھُلا مجھ پہ کیا ہوں میں
رسوا ہوئے جو آپ تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ دل نے کیا، بے خطا ہوں میں
مقتل ہے میری جاں کو وہ جلوہ گاہِ ناز
دل سے ادا یہ کہتی ہے تیری قضا ہوں میں
مانندِ سبزہ اُس چمنِ دہر میں امیر
بیگانہ وار ایک کنارے پڑا ہوں میں
امیر مینائی

ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 187
موج ساحل سے جب جدا ہو جائے
ایک طوفاں کی ابتدا ہو جائے
لاکھ مجبوریاں سہی لیکن
آپ چاہیں تو کیا سے کیا ہو جائے
ہم کہیں جو روا نہیں لیکن
تم کہو جو وہی روا ہو جائے
تیری رحمت پہ اس قدر ہے یقین
جب خیال آئے اک خطا ہو جائے
دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
جب بجھے روشنی سوا ہو جائے
باقی صدیقی