ٹیگ کے محفوظات: خس

بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 82
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں
ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں
اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
دُھول کے پیش و پس لکھے جاؤں
مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں
ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں
جون ایلیا

نہیں اس راہ میں فریادرس بس

دیوان سوم غزل 1141
گلا مت توڑ اپنا اے جرس بس
نہیں اس راہ میں فریادرس بس
کبھو دل کی نہ کہنے پائے اس سے
جہاں بولے لگا کہنے کہ بس بس
گل و گلزار سے کیا قیدیوں کو
ہمیں داغ دل و کنج قفس بس
نہ ترسائو یکایک مار ڈالو
کروگے کب تلک ہم پر ترس بس
بہت کم دیتے تھے بادل دکھائی
رہے ہم ہی تو روتے اس برس بس
کسو محبوب کی ہو گور پرگل
ہماری خاک کو ہے خار و خس بس
چمن کے غم میں سینہ داغ ہے میر
بہت نکلی ہماری بھی ہوس بس
میر تقی میر

اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس

دیوان اول غزل 236
اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس
اس ملک میں ہماری ہے یہ چشم تر ہی بس
حرماں تو دیکھ پھول بکھیرے تھی کل صبا
اک برگ گل گرا نہ جہاں تھا مرا قفس
مژگاں بھی بہ گئیں مرے رونے سے چشم کی
سیلاب موج مارے تو ٹھہرے ہے کوئی خس
مجنوں کا دل ہوں محمل لیلیٰ سے ہوں جدا
تنہا پھروں ہوں دشت میں جوں نالۂ جرس
اے گریہ اس کے دل میں اثر خوب ہی کیا
روتا ہوں جب میں سامنے اس کے تودے ہے ہنس
اس کی زباں کے عہدے سے کیونکر نکل سکوں
کہتا ہوں ایک میں تو سناتا ہے مجھ کو دس
حیراں ہوں میر نزع میں اب کیا کروں بھلا
احوال دل بہت ہے مجھے فرصت اک نفس
میر تقی میر

نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر

دیوان اول غزل 206
نہ ہو ہرزہ درا اتنا خموشی اے جرس بہتر
نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے
نظر اے ابر تر آپھی نہ آوے گا برس بہتر
سدا ہو خار خار باغباں گل کا جہاں مانع
سمجھ اے عندلیب اس باغ سے کنج قفس بہتر
برا ہے امتحاں لیکن نہ سمجھے تو تو کیا کریے
شہادت گاہ میں لے چل سب اپنے بوالہوس بہتر
سیہ کر دوں گا گلشن دود دل سے باغباں میں بھی
جلا آتش میں میرے آشیاں کے خار و خس بہتر
کیا داغوں سے رشک باغ اے صد آفریں الفت
یہ سینہ ہم کو بھی ایسا ہی تھا درکار بس بہتر
قدم تیرے چھوئے تھے جن نے اب وہ ہاتھ ہی سر ہے
مرے حق میں نہ ہونا ہی تھا یاں تک دسترس بہتر
عبث پوچھے ہے مجھ سے میر میں صحرا کو جاتا ہوں
خرابی ہی پہ دل رکھا ہے جو تونے تو بس بہتر
میر تقی میر

لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 67
نہیں کہ آگ تری انگلیوں کے مس میں نہیں
لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں
کروں زبانِ غزل میں اسے ادا کیوں کر؟
وہ راز جو کہ اشاروں کی دسترس میں نہیں
یہ فصلِ گل ہے، مگر اے ہوائے آوارہ
وہ خوشبوؤں کا ترنم ترے نفس میں نہیں
برائے سیر، خزاں کو کہاں پسند آئے
وہ راستہ کہ گزرگاہِ خار و خس میں نہیں
سمٹ گیا مرے اندر کا ریگ زار کہ اب
جو تھی کبھی وہ کسک نغمۂِ جرس میں نہیں
آفتاب اقبال شمیم

یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 319
سپردگی میں بھی انداز دسترس کا ہے
یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے
بھلی لگے گی نہ جانے کدھر لہو کی لکیر
کہ سارا کھیل ہی منظر میں پیش و پس کا ہے
یہاں کسی کا وفادار کیوں رہے کوئی
کہ جو وفا کا صلہ ہے وہی ہوس کا ہے
میں جانتا ہوں کہ تو ایک شعلہ ہے‘ لیکن
بدن میں ڈھیر بہت دن سے خار و خس کا ہے
عرفان صدیقی

کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 200
سوائے خاک مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں
یہ کون مجھ کو پسِ جشنِ شب پکارتا ہے
وہ ہوک ہے کہ صدائے جرس میں کچھ بھی نہیں
میں کارِ عشق سے ترکِ وفا سے باز آیا
سب اس کے ہاتھ میں ہے میرے بس میں کچھ بھی نہیں
ذرا سے لمسِ شرر سے عجب کمال کیا
میں سوچتا تھا مرے خار و خس میں کچھ بھی نہیں
نوائے درد پہ آتا ہے رنگ صدیوں میں
ابھی مرے سخن نیم رس میں کچھ بھی نہیں
عرفان صدیقی

دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 347
باہر کھڑا ہوں کون و مکاں کے قفس سے میں
دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں
دیکھو یہ پھڑپھڑاتے ہوئے زخم زخم پر
لڑتا رہا ہوں عمر بھر اپنے قفس سے میں
اے دوست جاگنے کی کوئی رات دے مجھے
تنگ آ گیا ہوں نیند کے کارِ عبث سے میں
بے وزن لگ رہا ہے مجھے کیوں مرا وجود
بالکل صحیح چاند پہ اترا ہوں بس سے میں
اک سوختہ دیار کے ملبے پہ بیٹھ کر
انگار ڈھانپ سکتا نہیں خار و خس سے میں
جذبوں کی عمر میں نے مجرد گزار دی
منصور روزہ دار ہوں چودہ برس سے میں
منصور آفاق

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 106
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام کرتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خار و خس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی، بس چشمۂ ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا، حرکتِ عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
منصور آفاق