ٹیگ کے محفوظات: خستے

ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو

دیوان پنجم غزل 1715
تم کو ہم سے لاگ لگی ہے روتے ہیں تو ہنستے ہو
ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو
درج گوہر مال نہیں کچھ دیں در بستہ مصر اگر
تو بھی ایسی قیمت پر تم آگے ہمارے سستے ہو
رستے راہ میں دیکھ لیا ہے بستی میں سے نکلے تمھیں
کیا جانیں ہم روز و شب تم کیدھر رستے بستے ہو
ابر کرم کی راہ تکو اب رحمت حق پہ نظر رکھو
گوکہ تم اے مستاں مجرم اس غم سے دل خستے ہو
پیری میں بھی جواں رکھا ہے دختر تاک کی صحبت نے
یعنی پی پی مئے انگوری میر ہوئے کٹ مستے ہو
میر تقی میر

اچھے ہوتے نہیں جگر خستے

دیوان سوم غزل 1266
ہم پہ رہتے ہو کیا کمر کستے
اچھے ہوتے نہیں جگر خستے
ہنستے کھینچا نہ کیجیے تلوار
ہم نہ مر جائیں ہنستے ہی ہنستے
شوق لکھنے قلم جو ہاتھ آئی
لکھے کاغذ کے دستے کے دستے
سیر قابل ہیں تنگ پوش اب کے
کہنیاں پھٹتے چولیاں چستے
رنگ لیتی ہے سب ہوا اس کا
اس سے باغ و بہار ہیں رستے
اک نگہ کر کے ان نے مول لیا
بک گئے آہ ہم بھی کیا سستے
میر جنگل پڑے ہیں آج جہاں
لوگ کیا کیا نہیں تھے کل بستے
میر تقی میر

آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 16
اے با انوار خویش سر مستے
آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے
سنگ پڑتے نہ خوش دماغوں پر
کاش تیری گلی میں جا بستے
تیرے ہی گلستاں سے لائے ہیں
دہر کے گل فروش، گلدستے
تیرے ہی در پہ ختم ہوتے ہیں
آزمائے ہیں ہم نے سب رستے
تیرے رحم و کرم پہ زندہ ہیں
جاں شکستے دل و جگر خستے
تیری رحمت بھری نظر ہوتی
ہم غریبوں پہ لوگ کیوں ہنستے
دشت کی ریت یاد آتی ہے
ہم بھی اپنی کبھی کمر کستے
تیرے عشاق کی تلاش میں ہیں
پھر مسلمان فوج کے دستے
میں نے منصور دار دیکھی ہے
عشق پراں بود بیک جستے
منصور آفاق