ٹیگ کے محفوظات: خسارا

میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے

یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پُکارا کم ہے
میرے نالوں کو ہواؤں کا سہارا کم ہے
اس قدر ہجر میں کی نجم شماری ہم نے
جان لیتے ہیں کہاں کوئی سِتارا کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی پر وہ
دوست دشمن کا زیادہ ہے ہمارا کم ہے
صاف اظہار ہو اور وہ بھی کم از کم دو بار
ہم وہ عاقل ہیں جنہیں ایک اشارا کم ہے
ایک رخسار پہ دیکھا ہے وہ تِل ہم نے بھی
ہو سمرقند مقابل کہ بخارا کم ہے
اِتنی جلدی نہ بنا رائے مِرے بارے میں
ہم نے ہمراہ ابھی وقت گُذارا کم ہے
باغ اک ہم کو مِلا تھا مگر اِس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے بِگاڑا ہے سنوارا کم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصرؔ
کونسا کام ہے وہ جس میں خسارا کم ہے
باصر کاظمی

کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 18
اُس حسن نے آنکھ کے امبر پر، جو نقش ابھارا ایسا تھا
کوئی نہ شفق کا پھول ایسا، کوئی نہ ستارا ایسا تھا
پھر تیز ہوا نے پاؤں میں ، ڈالی زنجیر بگولے کی
سو ہم نے گریباں چاک کیا، موسم کا اشارہ ایسا تھا
تھی تو افراط شرابوں کی، لیکن ہم پیاسے کیا کرتے
جو جام چکھا سو توڑ دیا، معیار ہمارا ایسا تھا
ناداری دائز ناداری مارث ہماری نسلوں کی
مر کے بھی نہ جو بے باق ہوا، جینے کا خسارا ایسا تھا
قاتل کو بھی کچھ دقّت نہ ہوئی، مرنا بھی ہمیں آسان لگا
سر فخر سے اونچا رکھنے کا انداز گوارا ایسا تھا
آفتاب اقبال شمیم