ٹیگ کے محفوظات: خزانے

ختم ہوں گے نہ جب آئیں گے، زمانے میرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
فن میں بیٹھے ہیں بہت ٹھیک نشانے میرے
ختم ہوں گے نہ جب آئیں گے، زمانے میرے
میں کہ خوشحال ہوں، خوشحال ہوں خاصا لیکن
غیر کے ہاتھ پِہ گروی ہیں خزانے میرے
اِس خطا پر کہ مجھے ناز ہے، پرواز پہ کیوں
آخرش کاٹ دئیے پر ہی، ہَوا نے میرے
ایک دن سچ کہ جو ہے زیر، زبر بھی ہو گا
ایک دن گائیں گے دشمن بھی ترانے میرے
ماجد صدیقی

تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 117
جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے
تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار
برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے
شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے
خلق کی بے خبری ہے کہ مری رُسوائی
لوگ مُجھ کو ہی سُناتے ہیں فسانے میرے
لُٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں‌ سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گریِ دِل یہ خزانے میرے
آج اک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر
جِس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
کاش تو بھی میری آواز کہیں سُنتا ہو
پھر پُکارا ہے تُجھے دِل کی صدا نے میرے
کاش تو بھی کبھی آئے مسیحائی کو
لوگ آ تے ہیں بُہت دِل کو دُکھانے میرے
تو ہے کِس حال میں اے زود فراموش میرے
مُجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے
چارہ گر یوں تو بُہت ہیں‌مگر اے جانِ فراز
جُز ترے اور کوئی غم نہ جانے میرے
احمد فراز

گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 151
کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آگئیں
گرمیاں لے کر اُداسی کے خزانے آگئیں
ٹھنڈے دالانوں میں پھر کُھلنے لگی دِل کی کتاب
جلتی دوپہریں سرا پردے گرانے آگئیں
ڈھک گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بور سے
لڑکیاں دَھانی دوپٹے سر پہ تانے آگئیں
پھر دَھنک کے رَنگ بازاروں میں لہرانے لگے
تتلیاں معصوم بچوں کو رِجھانے آگئیں
کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال
کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آگئیں
دُھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے
خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آگئیں
عرفان صدیقی

بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 107
سراب دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سواد شام یہ شہزادگان صبح کہاں
سیاہ شب میں یہ سورج اُگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرف لازوال کی چھاؤں
شجر یہ دشت زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے لہو کی اشرفیاں
اِدھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
اُبھرتے ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلام حق سر نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
تو اے بدن مرے رستے میں آنے والا کون
عرفان صدیقی

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 297
تیرے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں
ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں
سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ
چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں
یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لیے
آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں
خوبصورت بھی، اکیلی بھی، پڑوسن بھی ہے
لیکن اک غیر سے کیاملنے ملانے لگ جائیں
نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی
مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں
پل کی ریلنگ کو پکڑ رکھا ہے میں نے منصور
بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں
منصور آفاق

لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 231
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دئیے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے کا
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رُخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ
بستیوں سے شرار آنے لگے
باقی صدیقی