ٹیگ کے محفوظات: خزانا

کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 312
کچھ تو فغاں کا خیر بہانا بھی ہوتا ہے
کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے
دیکھو ہمارے چاک گریباں پہ خوش نہ ہو
یہ ہے جنوں اور اس کا نشانا بھی ہوتا ہے
آزادگاں کو خانہ خرابی کا کیا ملال
کیا موج گل کا کوئی ٹھکانا بھی ہوتا ہے
ہم اس جگہ میں خوش ہیں کہ ایسے خرابوں میں
سانپوں کے ساتھ ساتھ خزانا بھی ہوتا ہے
میں کیوں ڈروں کہ جان سے جاتا ہوں ایک بار
دشمن کو میرے لوٹ کے آنا بھی ہوتا ہے
اب آپ لوگ سود و زیاں سوچتے رہیں
بندہ تو چوتھی سمت روانہ بھی ہوتا ہے
عرفان صدیقی