ٹیگ کے محفوظات: خریداروں

کچھ تمھیں پیار نہیں کرتے جفا ماروں کو

دیوان ششم غزل 1862
اگلے سب چاہتے تھے ہم سے وفاداروں کو
کچھ تمھیں پیار نہیں کرتے جفا ماروں کو
شہر تو عشق میں ہے اس کے شفاخانہ تمام
وہ نہیں آتا کبھو دیکھنے بیماروں کو
مستی میں خوب گذرتی ہے کہ غفلت ہے ہمیں
مشکل اس مصطبے میں کام ہے ہشیاروں کو
فکر سے اپنے گذرتا ہے زمیں کاوی میں دن
رات جاتی ہے ہمیں گنتے ہوئے تاروں کو
خوب کرتے ہیں جو خوباں نہیں رو دیتے ہیں
منھ لگاتا ہے کوئی خوں کے سزاواروں کو
حسن بازار جہاں میں ہے متاع دلکش
صاحب اس کا ٹھگے جاتا ہے خریداروں کو
وامق و کوہکن و قیس نہیں ہے کوئی
بھکھ گیا عشق کا اژدر مرے غمخواروں کو
زندگی کرتے ہیں مرنے کے لیے اہل جہاں
واقعہ میر ہے درپیش عجب یاروں کو
میر تقی میر

ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 91
یورشِ جلوہ ہے آنکھوں کے گنہگاروں پر
ہے ستم گرمئ بازار خریداروں پر
رُوپ کی دُھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں
شام کس طرح اُتر آتی ہے رُخساروں پر
تو ہی بول، اَے مرے بے جرم لہو کی تحریر
کوئی دھبّہ نہیں چلتی ہوئی تلواروں پر
تم تو خیر آگ کے دریا سے گزر آئے ہو
اور وہ لوگ جو چلتے رہے اَنگاروں پر
شام سنولائے تو پلکوں پہ سجے دَرد کا شہر
آج یہ دُھوپ تو جم سی گئی میناروں پر
کتنا بے رَحم ہے برسات کا موسم عرفانؔ
میں نے کچھ نام لکھے تھے اُنہیں دِیواروں پر
عرفان صدیقی