ٹیگ کے محفوظات: خرام

ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 28
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں‌نے بھی جام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمد فراز

کیا کیا نہ رنگ بھر دئیے افسوس شام نے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 66
منظر تھا اک اجاڑ نگاہوں کے سامنے
کیا کیا نہ رنگ بھر دئیے افسوس شام نے
اس حادثے کی نخوتِ ساقی کو کیا خبر
بادہ پیا کہ زہر پیا تشنہ کام نے
چہرے سے اجنبی تھا وہ میرے لئے مگر
سب راز اس کے کہہ دیئے طرز خرام نے
نکلا نہیں ہوں آج بھی اپنے حصار سے
حدِّ نگاہ آج بھی ہے میرے سامنے
تھے حادثوں کے وار تو کاری مگر مجھے
مرنے نہیں دیا خلشِ انتقام نے
اک سانس کی طناب جو ٹوٹی تو اے شکیبؔ
دوڑے ہیں لوگ جسم کے خیمے کو تھامنے
شکیب جلالی

مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 127
جنوں کریں ہوسِ ننگ و نام کے نہ رہیں
مگر نہ یوں ہو کہ ہم اپنے کام کے نہ رہیں
زیاں ہے اس کی رفاقت کہ اس کے دوش بدوش
چلیں تو منظرِ حسنِ خرام کے نہ رہیں
کہاں ہے وصل سے بڑھ کر کوئی عطا لیکن
یہ خوب ہے کہ پیام و سلام کے نہ رہیں
نصیب ہو کوئی دم وہ معاش۔ حال کے ہم
حسابِ سلسلہ صبح و شام کے نہ رہیں
یہ بات بھی ہے کہ لمحوں کے لوگ جائیں کہاں
اگر فریبِ بقا سے دوام کے نہ رہیں
خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ
غضب خدا کا ہم اپنے امام کے نہ رہیں
جون ایلیا

ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا

دیوان چہارم غزل 1344
یاری کیے کسو کا کاہے کو کام نکلا
ناکام عشق تب تو عاشق کا نام نکلا
ہنگامے سے جہاں میں ہم نے جنوں کیا ہے
ہم جس طرف سے نکلے ساتھ ازدحام نکلا
پامالی کے خطر سے نکلا نہ کبک اودھر
جیدھر سے ناز کرتا وہ خوش خرام نکلا
جنگ زمانہ میں تو مبحث ہے عشق ہی کا
بے جا ہوا دل اپنا جب وہ مقام نکلا
جانا تھا تجھ کو ہم نے تو پختہ مغز ہو گا
دیکھا تو میر تیرا سودا بھی خام نکلا
میر تقی میر

کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا

دیوان سوم غزل 1060
ان دلبروں سے رابطہ کرنا ہے کام کیا
کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا
حیرت ہے کھولیں چشم تماشا کہاں کہاں
حسن و جمال ویسا ہے اس کا خرام کیا
کی اک نگاہ گرم جہاں ان سے مل گئے
عاشق کو دلبروں سے سلام و پیام کیا
شکر خدا کہ سر نہ فرو لائے ہم کہیں
کیا جانیں سجدہ کہتے ہیں کس کو سلام کیا
اس کنج لب پہ چپکے ہوئے منھ کو رکھ کے ہم
دلچسپ اس مقام میں حرف و کلام کیا
جس جاے اس کے چہرے سے کرتے ہیں گفتگو
مرآت و ماہ و گل کا ہے اس جا مقام کیا
کہتا ہے کون بدر میں نقصان کچھ رہا
پر منھ کھلے پہ اس کے ہے ماہ تمام کیا
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اس رو ومو سے لاگ
کیا جانوں پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
تسبیح تک تو میر نے رکھا کلال کے
وقت نماز اب بھی ہوئے تھے امام کیا
میر تقی میر

کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے

دیوان دوم غزل 980
برسوں ہوئے گئے ہوئے اس مہ کو بام سے
کاہش مجھے جو ہے وہی ہوتی ہے شام سے
تڑپے اسیر ہوتے جو ہم یک اٹھا غبار
سوجھا نہ ہم کو دیر تلک چشم دام سے
دنبال ہر نگاہ ہے صد کاروان اشک
برسے ہے چشم ابر بڑی دھوم دھام سے
محو اس دہان تنگ کے ہیں کوئی کچھ کہو
رہتا ہے ہم کو عشق میں کام اپنے کام سے
یوسفؑ کے پیچھے خوار زلیخا عبث ہوئی
کب صاحبی رہی ہے مل ایسے غلام سے
لڑکے ہزاروں جھولی میں پتھر لیے ہیں ساتھ
مجنوں پھرا ہے کاہے کو اس ازدحام سے
وہ ناز سے چلا کہیں تو حشر ہوچکے
پھر بحث آپڑے گی اسی کے خرام سے
جھک جھک سلام کرنے سے سرکش ہوا وہ اور
ہو بیٹھے ناامید جواب سلام سے
وے دن گئے کہ رات کو یک جا معاش تھی
آتا ہے اب تو ننگ اسے میرے نام سے
سرگرم جلوہ بدر ہو ہر چند شب کو لیک
کب جی لگیں ہیں اپنے کسو ناتمام سے
دل اور عرش دونوں پہ گویا ہے ان کی سیر
کرتے ہیں باتیں میر جی کس کس مقام سے
میر تقی میر

گئے گذرے خضر علیہ السلام

دیوان اول غزل 281
اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
گئے گذرے خضر علیہ السلام
دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئی
سخن یاں ہوا ختم حاصل کلام
مجھے دیکھ منھ پر پریشاں کی زلف
غرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام
سر شام سے رہتی ہیں کاہشیں
ہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام
قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہی
چلے بس تو واں جا کے کریے قیام
نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اور
نہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام
جہاں میر زیر و زبر ہو گیا
خراماں ہوا تھا وہ محشر خرام
میر تقی میر

غرض اس شوخ نے بھی کام کیا

دیوان اول غزل 132
کام پل میں مرا تمام کیا
غرض اس شوخ نے بھی کام کیا
سرو و شمشاد خاک میں مل گئے
تونے گلشن میں کیوں خرام کیا
سعی طوف حرم نہ کی ہرگز
آستاں پر ترے مقام کیا
تیرے کوچے کے رہنے والوں نے
یہیں سے کعبے کو سلام کیا
اس کے عیارپن نے میرے تئیں
خادم و بندہ و غلام کیا
حال بد میں مرے بتنگ آکر
آپ کو سب میں نیک نام کیا
دختر رز سے کیا تھا میرے تئیں
شیخ کی ضد پہ میں حرام کیا
ہو گیا دل مرا تبرک جب
ورد یہ قطعۂ پیامؔ کیا
’’دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتل عام کیا‘‘
عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا
میر تقی میر

کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 28
یوں بہار آئی ہے اس بار کہ جیسے قاصد
کوچہء یار سے بے نیلِ‌ مرام آتا ہے
ہر کوئی شہر میں پھرتا ہے سلامت دامن
رند میخانے سے شائستہ خرام آتا ہے
ہوسِ‌ مطرب و ساقی میں‌پریشاں اکثر
ابر آتا ہے کبھی ماہِ تمام آتا ہے
شوق والوں‌ کی حزیں‌ محفلِ شب میں اب بھی
آمدِ صبح کی صورت ترا نام آتا ہے
اب بھی اعلانِ سحر کرتا ہوا مست کوئی
داغِ دل کرکے فروزاں سرِ شام آتا ہے
ناتمام ۔ لاہور
فیض احمد فیض

وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام
وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام
دیکھیے تنکے کی ناؤ کب کنارے جا لگے
موج ہے دہشت خروش اور سیل ہے وحشت خرام
شمع کے دامن میں شعلہ، شمع کے قدموں میں راکھ
اور ہو جاتا ہے ہر منزل پہ پروانے کا نام
زیست کی صہبا کی رو تھمتی نہیں، تھمتی نہیں!
ٹوٹتے رہتے ہیں نشّے، پھوٹتے رہتے ہیں جام
مجید امجد

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق

پانیوں پر خرام کرلوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 332
آسماں ہم کلام کر لوں میں
پانیوں پر خرام کرلوں میں
تم گلی سے سنا ہے گزرو گے
گھر میں کچھ اہتمام کرلوں میں
چاہتا ہوں کہ سایۂ گل میں
دھوپ اپنی تمام کرلوں میں
پھر کریں گے بہار کی باتیں
پہلے تھوڑاسا کام کرلوں میں
تیرے رخسار سے چرا کے شفق
سرخ رو اپنی شام کرلوں میں
بخش اتنی اجازتیں منصور
تیرے دل میں قیام کرلوں میں
منصور آفاق

مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 87
اسے بھی ربطِ رہائش تمام کرنا تھا
مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا
نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے
مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کرنا تھا
اسے بھی عارض و لب کے دئیے جلانے تھے
مجھے بھی چاند سے کوئی کلام کرنا تھا
بس ایک لنچ ہی ممکن تھا اتنی جلدی میں
اسے بھی جانا تھا میں نے بھی کام کرنا تھا
مراقبہ کسی بگلے کا دیکھنا تھا مجھے
کنارِ آبِ رواں کچھ خرام کرنا تھا
گلی کے لڑکوں کو سچائیاں بتانی تھیں
کوئی چراغ اندھیروں میں عام کرنا تھا
یہ کیا کہ بہتا چلا جا رہا ہوں گلیوں میں
کہیں تو غم کا مجھے اختتام کرنا تھا
بلانے آیا تھا اقبال بزمِ رومی میں
سو حکم نامے کا کچھ احترام کرنا تھا
گزر سکی نہ وہاں ایک رات بھی منصور
جہاں جہاں مجھے برسوں قیام کرنا تھا
منصور آفاق