ٹیگ کے محفوظات: خرابے

خرابے

اک تمنا تھی کہ میں

اک نیا گھر، نئی منزل کہیں آباد کروں،

کہ مرا پہلا مکاں

جس کی تعمیر میں گزرے تھے مرے سات برس

اک کھنڈر بنتا چلا جاتا تھا۔

یہ تمنا تھی کہ شوریدہ سری

خشت اور سنگ کے انبار لگاتی ہی رہے

روز و شب ذہن میں بنتے ہی رہیں

دَر و دیوار کے خوش رنگ نقوش!

مجھ کو تخیل کے صحرا میں لیے پھرتا تھا

ایک آفت زدہ دیوانے کا جوش،

لے گئے میرے قدم آخرِ کار

ایک دن اپنے نئے گھر میں مجھے

خیر مقدم کو تھیں موجود جہاں

میری گل چہرہ کنیزیں، مرے دل شاد غلام،

دیکھ کر اپنی تمناؤں کی شادابی کو

میرے اندیشے کی دہلیز سے معدوم ہوئے

میرے ماضی کے سیہ تاب، الم ناک نشاں!

یہ مگر کیا تھا؟ خیالات تھے، اوہام تھے دیوانے کے

نہ وہ گل چہرہ کنیزیں تھیں، نہ دل شاد غلام

در و دیوار کے وہ نقش، نہ دیواریں تھیں

سنگ اور خشت کے ڈھیروں پہ تھا کائی کا نزول

اور وہ ڈھیر بھی موجود نہ تھے!

کھل گئے تھے کسی آئندہ کی بیداری میں

میرے خود ساختہ خواب

میں اُسی پہلے خرابے کے کنارے تھا نگوں

جس سے شیون کی شب و روز صدا آتی ہے!

کس لیے ہے مری محرومی کی حاسد اب بھی

کسی منحوس ستارے کی غضب ناک نگاہ

اور اِدھر بندہ ءِ بدبخت کی تنہائی کا یہ رنگ___ کہ وہ

اور بھی تیرہ و غمناک ہوئی جاتی ہے!

ن م راشد