ٹیگ کے محفوظات: خرابی

برسوں ہوئے ہیں گھر سے نکلے عشق نے خانہ خرابی کی

دیوان ششم غزل 1896
مدت پاے چنار رہے ہیں مدت گلخن تابی کی
برسوں ہوئے ہیں گھر سے نکلے عشق نے خانہ خرابی کی
مشق نوشتن جن کی رسا ہے وے بھی چپ ہیں حیرت سے
نقل کروں میں خوبی خط کیا اس کے چہرے کتابی کی
وہ نہیں سنتا سچی بھی میری تین میں میں ہوں نہ تیرہ میں
گنتی میں کچھ ہوں تو میری قدر ہو حرف حسابی کی
دیر جوانی کچھ رہتی تو اس کی جفا کا اٹھتا مزہ
عمر نے میری گذر جانے میں ہائے دریغ شتابی کی
جام گلوں کے خزاں میں نگوں ہیں نکہت خوش بھی چمن سے گئی
مے شاید کہ تمام ہوئی ہے ہر غنچے کی گلابی کی
جیتے جاگتے اب تک تو ہیں لیکن جیسے مردہ ہیں
یعنی بے دم سست بہت ہیں حسرت سے بے خوابی کی
اچھی ہی ہے یہ جنس وفا یاں لیک نہ پائی ہم نے کہیں
داغ ہوئی ہے جان ہماری اس شے کی نایابی کی
جیب و دامن تر رہتے ہیں آٹھ پہر کے رونے سے
قدر نہیں ہے ہم کو ہرگز اپنے جامۂ آبی کی
ننگ خلق کیا ہے ہم کو آخر دست خالی نے
عالم میں اسباب کے ہے کیا شورش بے اسبابی کی
عشق میر کسو سے اتنا اب تک ظاہر ہم پہ نہ تھا
حرف یار جو منھ سے نکلا ان نے بلا بیتابی کی
میر تقی میر

سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے

دیوان چہارم غزل 1522
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے ضعف بھی ہے بیتابی ہے
سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے
آگے ایسا نکھرا نکھرا کاہے کو میں پھرتا تھا
جب سے آنکھ لگی اس مہ سے رنگ مرا مہتابی ہے
کس سے سبب میں پوچھوں یارب اپنی سوزش سینے کا
چھاتی جو جلتی رہتی ہے ات گت آگ مگر یاں دابی ہے
رنج و محن نے عشق کے مجھ کو راحت سے مایوس کیا
دل کے تئیں بیتابی ہے میری آنکھوں کو بے خوابی ہے
ابر کوئی رویا ہے شاید برسوں وادی لیلیٰ میں
سیر کیا وہ قطعہ زمیں کا اب تک بھی سیرابی ہے
شہر حسن عجب بستی ہے ڈھونڈے پیدا مہر نہیں
ہے تو متاع گراں قیمت پھر اس کی بلا نایابی ہے
در بدر و رسوا و عاشق شاعر شاغل کامل میر
گہ کعبے میں دیر میں گاہے کیا کافر ہر بابی ہے
میر تقی میر

اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی

دیوان سوم غزل 1285
خوش طرح مکاں دل کے ڈھانے میں شتابی کی
اس عشق و محبت نے کیا خانہ خرابی کی
سسکے ہے دل ایدھرکو بہتا ہے جگر اودھر
چھاتی ہوئی ہے میری دکان کبابی کی
وہ نرگس مستانہ باتیں کرے ہے درہم
تم دیکھو نہ کچھ بولو کیا بات شرابی کی
بے سدھ ہوئے ہم آئی اک بو جو گلستاں سے
پرزور تھی مے کتنی غنچوں کی گلابی کی
رونے سے دل شب کے تر میر کے کپڑے ہیں
پر قدر نہیں اس کو اس جامۂ آبی کی
میر تقی میر

نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے

دیوان دوم غزل 975
بہار آئی ہے غنچے گل کے نکلے ہیں گلابی سے
نہال سبز جھومے ہیں گلستاں میں شرابی سے
گروں ہوں ہر قدم پر میں ڈھہا جاتا ہے جی ہر دم
پہنچتا ہوں کبھو در پر ترے سو اس خرابی سے
نہ ٹھہری ایک چشمک بھی بسان برق آنکھوں میں
کلیجہ جل گیا اے عمر تیری تو شتابی سے
نکل آتے ہو گھر سے چاند سے یہ کیا طرح پکڑی
قیامت ہورہے گی ایک دن اس بے حجابی سے
یہ جھگڑا تنگ آ کر میں رکھا روزشمار اوپر
کروں کیا تم تو لڑنے لگتے ہو حرف حسابی سے
بہت رویا نوشتے پر میں اپنے دیکھ قاصد کو
کہ سر ڈالے غریب آتا تھا خط کی بے جوابی سے
مبادا کارواں جاتا رہے تو صبح سوتا ہو
بہت ڈرتا ہوں میں اے میر تیری دیر خوابی سے
میر تقی میر

دل پر خوں کی اک گلابی سے

دیوان اول غزل 617
عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پر خوں کی اک گلابی سے
جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آہ
رات گذرے گی کس خرابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
برقع اٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے
کام تھے عشق میں بہت پر میر
ہم ہیں فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

دیوان اول غزل 454
اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی
ان درس گہوں میں وہ آیا نہ نظر ہم کو
کیا نقل کروں خوبی اس چہرہ کتابی کی
بھنتے ہیں دل اک جانب سکتے ہیں جگر یک سو
ہے مجلس مشتاقاں دکان کبابی کی
تلخ اس لب مے گوں سے سب سنتے ہیں کس خاطر
تہ دار نہیں ہوتی گفتار شرابی کی
یک بو کشی بلبل ہے موجب صد مستی
پرزور ہے کیا دارو غنچے کی گلابی کی
اب سوز محبت سے سارے جو پھپھولے ہیں
ہے شکل مرے دل کی سب شیشہ حبابی کی
نشمردہ مرے منھ سے یاں حرف نہیں نکلا
جو بات کہ میں نے کی سو میر حسابی کی
میر تقی میر

لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 66
عکسِ رخسار سے جب آنکھ گلابی ہووے
لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے
ایک دُوری ہے جو کٹتی ہی نہیں قربت سے
بے حجابی بھی حقیقت میں حجابی ہووے
ہم کہ چلتی ہوئی راہوں کے مسافر ٹھہرے
دوستو! اگلی ملاقات شتابی ہووے
آنکھ بھر دیکھ تو لوں اُس کو مگر سوچتا ہوں
زندگی بھر کے لئے کون شرابی ہووے
بحر زادہ ہوں، کسی روز تو اے میرے خدا!
یہ ٹھکانا مرا صحرائی سے آبی ہووے
آفتاب اقبال شمیم

لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 46
عکسِ رخسار سے جب آنکھ گلابی ہووے
لطف تو آئے مگر سخت خرابی ہووے
ایک دُوری ہے جو کٹتی ہی نہیں قربت سے
بے حجابی بھی حقیقت میں حجابی ہووے
ہم کہ چلتی ہوئی راہوں کے مسافر ٹھہرے
دوستو! اگلی ملاقات شتابی ہووے
آنکھ بھر دیکھ تو لوں اُس کو مگر سوچتا ہوں
زندگی بھر کے لئے کون شرابی ہووے
بحر زادہ ہوں، کسی روز تو اے میرے خدا!
یہ ٹھکانا مرا صحرائی سے آبی ہووے
آفتاب اقبال شمیم

ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 336
فلک پہ جاتی ہوئی ماہتابی رہ گئی ہے
ہماری خاک میں کوئی خرابی رہ گئی ہے
بس اب کے اس کی نگاہِ دگر پہ فیصلہ ہے
میں گم تو ہوچکا ہوں بازیابی رہ گئی ہے
چمک گیا تھا کبھی بندِ پیرہن اس کا
بدن سے لپٹی ہوئی بے حجابی رہ گئی ہے
غبارِ شب کے ادھر کچھ نہ کچھ تو ہے روشن
میں جاگتا ہوں ذرا نیم خوابی رہ گئی ہے
سمیٹنا ہی تو ہے ساز و برگِ خانۂ دل
اس ایک کام میں اب کیا شتابی رہ گئی ہے
عرفان صدیقی

دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 581
اون بھیڑوں کی فقط ساتھ تھی گرمی بن کے
دھار گرتی تھی تو رہ جاتی تھی قلفی بن کے
شب زدوں کیلئے کرنوں بھری نظمیں لکھوں
ظالموں سے میں لڑوں دیس کا فوجی بن کے
کرچیاں شہر میں اڑتی ہوئی دیکھوں اس کی
جو مجھے دیکھتا پھرتا تھا بلندی بن کے
گفتگو اس کی ترو تازہ مجھے رکھتی ہے
ملنے آتی ہے ہمیشہ وہ تسلی بن کے
شہر میں پھرتا ہے دھیما سا وہی گرد و غبار
جو گزر آیا ہے صحراؤں سے آندھی بن کے
کوئی سمجھائے اسے چھوڑ دے پیچھا میرا
روز آجاتی ہے قسمت کی جو سختی بن کے
ڈوبتے جاتے ہیں پانی کے تلاطم مجھ میں
پھیلتا جاتا ہوں دریاؤں میں خشکی بن کے
طے شدہ وقت پہ ہر روز جگا دیتا ہے
مجھ میں موجود ہے گھڑیال خرابی بن کے
ڈھونڈے ماخد ہیں کئی قبروں کے کتبے پڑھ کر
یعنی تاریخ لکھی عہد کی طبری بن کے
میری بربادی کی سامان کئے جاتے ہیں
دیکھتا رہتا ہوں لوگوں کو میں بستی بن کے
ان میں کتنے ہیں جو آئندہ بھی ہونگے موجود
دفن مٹی میں ہوئے لوگ جو ماضی بن کے
جس کے رنگوں سے جلے قوسِ قزح بھی منصور
کرتی ہے میرا تعاقب وہی تتلی بن کے
منصور آفاق

تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 238
ہوتے ہیں کیسے گال ، گلابی سمجھتے ہو
تم لمسِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہو
تم مجھ سے پوچھتے ہو الف کی کہانیاں
کیا مجھ کو کوئی کرمِ کتابی سمجھتے ہو
کیاگفتگو ہو تم سے فقیہِعجم کہ تم
غالب سی شخصیت کو شرابی سمجھتے ہو
اے دوست یہ بھی آتی ہے فردِ علوم میں
کیوں دوستی کو غیر نصابی سمجھتے ہو
عبدالرسول ! چھاؤں کی نرمی تو کم نہیں
کیوں نیم کے شجر کو وہابی سمجھتے ہو
منصور یہ لہو ہے پروں پر لگا ہوا
تم فاختہ کا رنگ عنابی سمجھتے ہو
منصور آفاق