ٹیگ کے محفوظات: خدوخال

پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
پھر بنامِ فلک عرضِ احوال کے پھول کھِلنے لگے
اک ذرا سی فضائے چمن کے نکھرنے پہ بھی کیا سے کیا
جسمِ واماندگاں پر خدوخال کے پھول کھِلنے لگے
کھولنے کو، ضیا پاش کرنے کو پھر ظلمتوں کی گرہ
مٹھیوں میں دمکتے زر و مال کے پھول کھلنے لگے
پنگھٹوں کو رواں، آہوؤں کے گماں در گماں دشت میں
لڑکھڑاتی ہوئی بے اماں چال کے پھول کھِلنے لگے
دھند چھٹنے پہ مژدہ ہو، ترکش بہ آغوش صیّاد کو
ازسرِ نو فضا میں پر و بال کے پھول کھِلنے لگے
ہے اِدھر آرزوئے بقا اور اُدھر بہرِ زندہ دلاں
فصل در فصل تازہ بچھے جال کے پھول کھِلنے لگے
ہم نے سوچا تھا کچھ اور ماجد، مگر تارِ انفاس پر
اب کے تو اور بے ربط سُر تال کے پھول کھِلنے لگے
ماجد صدیقی

ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 23
تیز آندھیوں میں اڑتے پر وبال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح
کیوں کر کہوں کہ درپئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سر پہ مرے ڈھال کی طرح
یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خدوخال کی طرح
کیا کچھ کیا نہ خود کو چھپانے کے واسطے
عریانیوں کو اوڑھ لیا شال کی طرح
اب تک مرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہنِ ستم ہوں سبزۂِ پامال کی طرح
میں خود ہی جلوہ ریز ہوں، خود ہی نگاہِ شوق
شفاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح
ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہ زن شکیبؔ
چلیے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح
شکیب جلالی

ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 40
یہ وسعتیں تا آسماں ، گہرائیاں پاتال تک
ہُوں قید ان کے درمیاں میعادِ ماہ و سال تک
کیسے، کہاں ڈھونڈوں اُسے وہ جو ورائے چشم ہے
آئینہ دکھلاتا نہیں ، اپنے ہی خدوخال تک
میری کتاب ہست میں ، محفوظ ہے لکھا ہوا
ہر واقعہ، ہر حادثہ، روزِ ازل سے حال تک
اُس پیرِ دانشمند کی عمر طویل اُلٹے اگر
دیکھے، ہے کتنا فاصلہ اقوال سے افعال تک
شاید کہ تم ہو جانتے، چہرہ شناسی کا ہنر
آیا ہوں کتنی دیر سے، پوچھے نہیں احوال تک
آفتاب اقبال شمیم

پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 113
دائروں کی آنکھ دی، بھونچال کا تحفہ دیا
پانیوں کو چاند نے اشکال کا تحفہ دیا
رفتہ رفتہ اجنبی لڑکی لپٹتی ہی گئی
برف کی رت نے بدن کی شال کا تحفہ دیا
سوچتا ہوں وقت نے کیوں زندگی کے کھیل میں
پاؤں میرے چھین کر فٹ بال کا تحفہ دیا
’’آگ جلتی ہے بدن میں ‘‘بس کہا تھا کار میں
ہم سفر نے برف کے چترال کا تحفہ دیا
رات ساحل کے کلب میں مچھلیوں کو دیر تک
ساتھیوں نے اپنے اپنے جال کا تحفہ دیا
کچھ تو پتھر پر ابھر آیا ہے موسم کے طفیل
کچھ مجھے اشکوں نے خدوخال کا تحفہ دیا
پانیوں پر چل رہے تھے عکس میرے ساتھ دو
دھوپ کو اچھا لگا تمثال کا تحفہ دیا
وقت آگے تو نہیں پھر بڑھ گیا منصور سے
یہ کسی نے کیوں مجھے گھڑیال کا تحفہ دیا
منصور آفاق

اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 101
ہمہ تن عرض حال ہیں ہم لوگ
اک مجسم سوال ہیں ہم لوگ
اور کس پر یہ حادثے گزرے
آپ اپنی مثال ہیں ہم لوگ
وقت کا فیصلہ ہے چارہ گرو
زخم تم، اندمال ہیں ہم لوگ
موت اپنی نہ زندگی اپنی
کس گماں کا مآل ہیں ہم لوگ
آپ سمجھیں تو ایک حقیقت ہیں
ورنہ خواب و خیال ہیں ہم لوگ
لاکھ پردوں میں بھی نمایاں ہیں
وقت کے خدوخال ہیں ہم لوگ
چارہ سازوں کے سرد ماتھے پر
عرق انفعال ہیں ہم لوگ
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
کام لیتا ہے اک جہاں باقیؔ
ہر مصیبت کی ڈھال ہیں ہم لوگ
باقی صدیقی