ٹیگ کے محفوظات: خداداد

ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 348
شکوہ کوئی بھی نہ دستِ ستم اِیجاد سے ہے
ہم کو جو رنج ہے وہ جرأتِ فریاد سے ہے
داستانوں میں تو ہم نے بھی پڑھا ہے، لیکن
آدمی کا بھی کوئی رِشتہ پری زاد سے ہے
زندہ ہے ذہن میں گزرے ہوئے لمحوں کی مہک
دشت آباد بہت، نکہتِ برباد سے ہے
سچ تو یہ ہے کہ تری نوک پلک کا رِشتہ
آخرِ کار ترے حسنِ خداداد سے ہے
اُس بلندی سے تجھے چاہے میں دِکھلائی نہ دوں
پھر بھی کچھ ربط تو دیوار کا بنیاد سے ہے
زہر کا جام ہو یا منبرِ دانش، عرفانؔ
ابنِ آدم کا جو ورثہ ہے وہ اَجداد سے ہے
عرفان صدیقی

جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 51
میں دیو کا قیدی ہوں پری زاد سے کہنا
جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا
ممکن ہے ابابیلوں کے مالک سے ملاقات
اُس ہاتھیوں کے لشکرِ برباد سے کہنا
آنا ذرا خسروسے مگرآنکھ بچا کر
شیریں نے کیا یاد ہے فرہاد سے کہنا
کوہ قاف سے آیا ہے بلاوہ کسی رُت کا
تیار رہے اشہبِ شمشاد سے کہنا
میں بادِ زمانہ کا ازل سے ہوں مخالف
اے بادِ جہاں گیر ،شہِ باد سے کہنا
معلوم ہیں اسرار ہمیں تیرے کرم کے
طیاروں پہ آتی ہوئی امداد سے کہنا
حاکم تری گلیوں میں ہیں ابلیس کے بیٹے
یہ بات مرے ملکِ خداداد سے کہنا
منصور نہیں بھولا میانوالی کی گلیاں
اے باد صبا اُس دلِ ناشاد سے کہنا
منصور آفاق