ٹیگ کے محفوظات: خدائیاں

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی
تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا
جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی
بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا
پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے
اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ
سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا
فیض احمد فیض

عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 351
نشاں بناتی تھیں پشت پر جووہی پرانی چٹائیاں تھیں
عجیب تھا ان پہ سونے والاکہ پاؤں میں کل خدائیاں تھیں
شبِ برگزیدہ دراز گیسو،ہمہ آفتاب نگاہ اس کی
چراغ ایسے تھے ہاتھ اس کے ، بہار ایسی کلائیاں تھیں
رتوں نے قوسِ قزح پہن لی تھی رنگ خوشبوسے مل گئے تھے
زمین پھولوں سے بھر گئی تھی کچھ ایسی چہرہ نمائیاں تھیں
جو لفظ مچلے زبانِ کُن پر،جو بات نکلی لبِ کرم سے
لکھوک ہا اس میں فائدے تھے کروڑ وں اس میں بھلائیاں تھیں
غلام شاہِ جہاں ہوئے ہیں جو خاک تھے آسماں ہوئے ہیں
پہاڑ اس کے ہوئیں کرم سے وہی جو محکوم رائیاں تھیں
منصور آفاق