ٹیگ کے محفوظات: خانہ

گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 3
زندگی چھلکتا اک آرزو کا پیمانہ
گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ
پوچھتا نہیں ہرگز حالِ دل کسی صورت
آئینے میں رہتا ہے کوئی ہم سے بیگانہ
رات کی ہتھیلی پر رینگتے ہیں اندیشے
رقص لو پہ کرتا ہے جس طرح سے پروانہ
خال خال بھاتا ہے کوئی پوجنے والا
شاذ شاذ کھلتا ہے رشکِ دل یہ بت خانہ
پیاس جھیل جاتی ہے دور تک سرابوں کو
دشت اوڑھ لیتے ہیں خامشی سے ویرانہ
نینا عادل

اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 51
کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم
اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم
دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم
چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم
داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں
بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم
اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر
مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم
مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر
بھول جاتے ہیں قمر اپنا اگر افسانہ ہم
قمر جلالوی

نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 1
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ
یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ
ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ
مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم
مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ
سرِ راہ کیسے سوجھی تجھے ہجوِ مئے کی واعظ
نہ یہاں ہے تیری نہ مرا شراب خانہ
کسی سر نگوں سی ڈالی پہ رکھیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہو گی نہ جلے گا آشیانہ
نہ سنا سکے مسلسل غمِ دوریِ وطن کو
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ
مرے روٹھ جانے والے تجھے یوں منا رہا ہوں
کہ قضا کے واسطے بھی کوئی چاہئیے بہانہ
کہیں میکشوں سے ساقی نہ نگاہ پھیر لینا
کہ انھیں کے دم سے قائم ہے ترا شراب خانہ
قمر اپنے داغِ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی
کہ سنا کیے ستارے مرا رات بھر فسانہ
قمر جلالوی

اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 285
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
اگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سے
بھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 134
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورق گردانــئ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
باوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں
ہیں "چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ” ہم
ضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو
ہیں "وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ” ہم
دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ
جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 92
دود کو آج اس کے ماتم میں سیہ پوشی ہوئی
وہ دلِ سوزاں کہ کل تک شمع، ماتم خانہ تھا
شکوۂ یاراں غبارِ دل میں پنہاں کر دیا
غالب ایسے کنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے

دیوان ششم غزل 1895
ہم رو رو کے درد دل دیوانہ کہیں گے
جی میں ہے کہوں حال غریبانہ کہیں گے
سودائی و رسوا و شکستہ دل و خستہ
اب لوگ ہمیں عشق میں کیا کیا نہ کہیں گے
دیکھے سو کہے کوئی نہیں جرم کسو کا
کہتے ہیں بجا لوگ بھی بیجا نہ کہیں گے
ہوں دربدر و خاک بسر چاک گریباں
اس طور سے کیونکر مجھے رسوا نہ کہیں گے
ویرانے کو مدت کے کوئی کیا کرے تعمیر
اجڑی ہوئی آبادی کو ویرانہ کہیں گے
میں رویا کڑھا کرتا ہوں دن رات جو درویش
من بعد مرے تکیے کو غم خانہ کہیں گے
موقوف غم میر کہ شب ہوچکی ہمدم
کل رات کو پھر باقی یہ افسانہ کہیں گے
میر تقی میر

دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 275
ہاں اے دلِ دیوانہ حریفانہ اٹھا لے
دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے
خاک اڑتی ہے سینے میں بہت رقص نہ فرما
صحرا سے مری جان پری خانہ اٹھا لے
تم کیا شررِ عشق لیے پھرتے ہو صاحب
اس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اٹھا لے
یار اتنے سے گھر کے لیے یہ خانہ بدوشی
سر پر ہی اٹھانا ہے تو دُنیا نہ اٹھا لے
پھر بار فقیروں کا اٹھانا مرے داتا
پہلے تو یہ کشکولِ فقیرانہ اٹھا لے
جو رنج میں اس دل پہ اٹھایا ہوں اسے چھوڑ
تو صرف مرا نعرۂ مستانہ اٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اٹھانا
ہر شخص ترا عشوۂ ترکانہ اٹھا لے
لو صبح ہوئی موجِ سحر خیز ادھر آئے
اور آکے چراغِ شبِ افسانہ اٹھا لے
ہم لفظ سے مضمون اٹھا لاتے ہیں جیسے
مٹی سے کوئی گوہرِ یک دانہ اٹھا لے
عرفان صدیقی

تم سادہ لوح شخص ہو ، دنیا خراب ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 607
آنکھیں نہیں شرارِ تمناخراب ہے
تم سادہ لوح شخص ہو ، دنیا خراب ہے
پانی کھڑاہے دل میں گڑھے ہیں جگہ جگہ
میں آرہاہوں ، ٹھہرو، یہ رستہ خراب ہے
مسجد کے بیچ اس کی کہانی کچھ اور ہے
حجرے کے بیچ صاحبِ حجرہ خراب ہے
سیلاب آئے گا میری چشم پُرآب میں
کتنے دنوں سے نیتِ دریا خراب ہے
بازو کو مت پکڑ ، مرے پہلو ست دوررہ
اے لمسِ یار !میرا ارادہ خراب ہے
برسوں ہوئے ہیں یاد سے باہر نہیں گیا
جاتا کہاں کہ سارا زمانہ خراب ہے
منصور کچھ بچا نہیں اب جس کے واسطے
دروازے پر کھڑا وہی خانہ خراب ہے
منصور آفاق

مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 348
زمانہ… تجھ کو کیا حاصل ہوا قصہ بنانے میں
مری مجذوب خاموشی کو افسانہ بنانے میں
غزل کہنا پڑی ایسے سخن آباد میں مجھ کو
خدا مصلوب ہوتے ہیں جہاں مصرعہ بنانے میں
نجانے کون سے دکھ کی اداسی کا تعلق ہے
مری اس سائیکی کو اتنا رنجیدہ بنانے میں
تجھے دل نے کسی بہتر توقع پر بلایا تھا
لگے ہو تم مسائل اور پیچیدہ بنانے میں
اگر آ ہی گئے ہو تو چلو آؤ یہاں بیٹھو
ذرا سی دیر لگنی ہے مجھے قہوہ بنانے میں
کسے معلوم کیا کیا کر دیا قربان آنکھوں نے
یہ تنہائی کی آبادی، یہ ویرانہ بنانے میں
مری صبح منور کی جسے تمہید بننا تھا
کئی صدیاں لگا دی ہیں وہ اک لمحہ بنانے میں
کہاں سے آ گئی اتنی لطافت جسم میں میرے
شبیں ناکام پھرتی ہیں مرا سایہ بنانے میں
کھڑا ہے لاش پر میری وہ کیسی تمکنت کے ساتھ
جسے تکلیف ہوتی تھی مجھے زینہ بنانے میں
مرے منزل بکف جن پہ تُو طعنہ زن دکھائی دے
یہ پاؤں کام آئے ہیں ترا رستہ بنانے میں
مجھ ایسے آسماں کو گھر سے باہر پھینکنے والو
ضرورت چھت کی پڑتی ہے کوئی کمرہ بنانے میں
کہیں رہ جاتی تھیں آنکھیں کہیں لب بھول جاتا تھا
بڑی دشواریاں آئیں مجھے چہرہ بنانے میں
پلٹ کر دیکھتے کیا ہو۔ صفِ دشمن میں یاروں کو
بڑے ماہر ہیں اپنے دل کو یہ کوفہ بنانے میں
کسی کرچی کے اندر کھو گیا میرا بدن مجھ سے
جہانِ ذات کو اک آئینہ خانہ بنانے میں
مٹھاس ایسے نہیں آئی مرے الفاظِ تازہ میں
لگی ہے عمر مجھ کو دودھ کا چشمہ بنانے میں
بڑا دل پھینک ہے یہ دل بڑی آوارہ آنکھیں ہیں
کوئی عجلت ہوئی شاید دل و دیدہ بنانے میں
کسی ہجرِ مسلسل کا بڑا کردار ہے منصور
محبت کی کہانی اتنی سنجیدہ بنانے میں
انا الحق کی صداؤں میں کہیں گم ہو گیا میں بھی
اسے منصور اپنی ذات کا حصہ بنانے میں
مرے ہمزاد اپنا آپ نادیدہ بنانے میں
تجھے کیا مل گیا آنکھوں کو لرزیدہ بنانے میں
منصور آفاق

میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 248
گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ
بے شکل صورتوں کا ٹھکانا بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ
جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ، مانا بھی اپنے آپ
جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ
صرفِ نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ
کتنا ابھی ابھی تر و تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ
منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
منصور آفاق

یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 200
آنسوئوں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیئے بے فائدہ یہ آئینہ خانہ غلط
وہ پرندوں کے پروں سے نرم، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط
جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط
درد کے آتش فشاں تھم، کانپتی ہیں دھڑکنیں
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط
کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط
ان دنوں غم ہائے جاناں سے مجھے فرصت نہیں
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط
ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھر سے ٹکرانا غلط
ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط
وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط، یہ جام و پیمانہ غلط
کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط
کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط
زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدہام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط
جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کو بہلانا غلط
منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط
پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط
زندگی جس کے لیے میں نے لگا دی داؤ پر
وہ تعلق واہمہ تھا، وہ تھا یارانہ غلط
میں انا الحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط
منصور آفاق