ٹیگ کے محفوظات: خالی

زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
دل و نظر کی جو بچھڑے ہوئے تھے مدت سے
ہوئی ہے آج ملاقات اک پرانی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
تصورات میں اپنے ہے ایک ایسی جگہ
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرِؔ
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر کاظمی

پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح

اتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
پوچھ مت اپنی زباں ہم نے سنبھالی کس طرح
حُسن و خوبی اک طرف اُس پر وفا بھی ختم ہے
ہم کو بہلاتا ہے محبوبِ خیالی کس طرح
ہو گیا دل کے مکاں میں اک حسیں آ کر مکیں
فکر یہ ہے اب کرائیں اِس کو خالی کس طرح
پاؤں رکھنا بھی جہاں کل تک نہ تھا زیبا اُنہیں
وقت نے لا کر بنایا ہے سوالی کس طرح
ہو گئے بے حال جو تیرے تغافل کے سبب
کس طرح ہو گی مگر ان کی بحالی کس طرح
کر گئے اپنا جگر چھلنی تِری یادوں کے تِیر
اب ہوائے غم کو روکے گی یہ جالی کس طرح
گلشنِ جاں میں ہوائے شعر پھر سے چل پڑی
جھومتی ہے پتی پتی ڈالی ڈالی کس طرح
جس کے من میں ہر گھڑی رہتا ہو تجھ سا جلوہ گَر
اُس کی باتوں میں نہ ہو روشن خیالی کس طرح
مدتیں درکار ہیں باصرِؔ حصولِ صبر کو
ایک دن میں تم نے یہ دولت کما لی کس طرح
باصر کاظمی

وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے بھی اب نسبت اُس سے ٹھہرا لی ہے
وہ لڑکی جو شرمیلے نینوں والی ہے
جو درد گریزاں دل سے تھا وہ جا بھی چکا
کچھ روز سے اب پنجرہ پنچھی سے خالی ہے
احوالِدَرُوں چہرے سے نہیں کُھلنے دیتے
لو ہم نے بھی ہنس کھیل کے بات بنا لی ہے
لَو دیکھ کے شاید کوئی مسافر آ پہنچے
ہم نے بھی دشت کنارے آگ جلا لی ہے
اُس شوخ کا چہر ہ شوخ گلابوں جیساہے
اور کان میں پہلی کے چندا سی بالی ہے
ماجد صدیقی

نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
شجر شجر نے زباں پیاس سے نکالی تھی
نمِ سکون سے جھولی ہوا کی خالی تھی
زمین خود بھی تمازت سے تھی توے جیسی
فلک پہ چاند نہیں تھا دہکتی تھالی تھی
جو ابر بانجھ ہے اُس سے کہو کہ ٹل جائے
تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی
جمالِ فکر نے بَکنے نہ کُچھ دیا ورنہ
ہماری دھج بھی بظاہر بڑی جلالی تھی
دھُلی نہ گریۂ پس ماندگاں سے بھی ماجدؔ
کنارِ دیدۂ قاتل عجیب لالی تھی
ماجد صدیقی

آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
ابرِ گریزاں سی بیگانہ، لیکن دیکھی بھالی سی
آنکھوں میں اُتری لگتی ہے صورت اِک متوالی سی
آنکھ نہ کُھل چکنے سے پہلے کیا کیا سُندر لگتی تھی
وُہ لڑکی انجانی سی، پھولوں کے رُوپ میں ڈھالی سی
کس کس بات میں کس کس پر ہم کھولیں اِس کی بیتابی
نقش ہو کس کس نامے پراپنی یہ آنکھ، سوالی سی
اوروں کو بھی مجُھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو
فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی
جانے کس کی سنگ دلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں مَیں
شام تلک کشکول بنی اِک بُڑھیا بھولی بھالی سی
ماجدؔ وہ نادر ہستی بھی اَب تو خواب خیال ہوئی
از خود جھُک جانے والی جنّت کے پیڑ کی ڈالی سی
ماجد صدیقی

ہم نے دل کی نہ بحالی دیکھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 109
جب سے وہ چشم غزالی دیکھی
ہم نے دل کی نہ بحالی دیکھی
وہ جو طوفان سے پہلے تھی کبھی
پھر فلک پر وُہی لالی دیکھی
ابر اُمڈا تو چمن میں کیا کیا
تشنہ شاخیں ہیں سوالی دیکھی
نام پر جدّتِ فن کے ہوتی
ہم نے کیا کیا نہ جگالی دیکھی
جس کو دیکھاہے اُسی کے منہ پر
حق میں اِس دور کے گالی دیکھی
اب کے پھر خواب میں ماجدؔ ہم نے
شاخ اثمار سے خالی دیکھی
ماجد صدیقی

پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑا لی یارو
پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو
شکر ہے تم نے یہ راہیں نہیں دیکھیں اَب تک
ہم تو در در پہ گئے بن کے سوالی یارو
آنکھ ہی دید سے محروم ہے ورنہ ہر سو
ہے وہی عارض و رخسار کی لالی یارو
جانے کس دور کا رہ رہ کے سُناتی ہے پیام
زرد پتّوں سے یہ بجتی ہوئی تالی یارو
عظمتِ رفتۂ فن لوٹ کے آتی دیکھو
طرز اب کے ہے وہ ماجدؔ نے نکالی یارو
ماجد صدیقی

یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 105
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے
رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے
مصحف رخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے
وہ مروت سے ملا ہے تو جھکادوں گردن
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے
بے نوا شہر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جائے
احمد فراز

رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا

دیوان ششم غزل 1803
پڑا تھا شور جیسا ہر طرف اس لاابالی کا
رہا ویسا ہی ہنگامہ مری بھی زار نالی کا
رہے بدحال صوفی حال کرتے دیر مجلس میں
مغنی سے سنا مصرع جو میرے شعر حالی کا
نظر بھر دیکھتا کوئی تو تم آنکھیں چھپا لیتے
سماں اب یاد ہو گا کب تمھیں وہ خورد سالی کا
چمک یاقوت کی چلتی ہے اتنی دور کاہے کو
اچنبھا ہے نظر بازوں کو ان ہونٹوں کی لالی کا
پھرے بستی میں رویت کچھ نہیں افلاس سے اپنی
الہٰی ہووے منھ کالا شتاب اس دست خالی کا
دماغ اپنا تو اپنی فکر ہی میں ہوچکا یکسر
خیال اب کس کو ہے اے ہمنشیں نازک خیالی کا
ذلیل و خوار ہیں ہم آگے خوباں کے ہمیشہ سے
پریکھا کچھ نہیں ہے ہم کو ان کی جھڑکی گالی کا
ڈرو چونکو جو چسپاں اختلاطی تم سے ہو مجھ کو
تشتّت کیا ہے میری دور کی اس دیکھا بھالی کا
نہ پہنچی جو دعاے میر واں تک تو عجب کیا ہے
علوے مرتبہ ہے بسکہ اس درگاہ عالی کا
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر

وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے

دیوان اول غزل 643
مہیا جس کنے اسباب ملکی اور مالی تھے
وہ اسکندر گیا یاں سے تو دونوں ہاتھ خالی تھے
کلاہ کج سے ہر غنچے کی پیدا ہے گلستاں میں
کہ کیا کیا اس چمن میں دلبروں کے لا ابالی تھے
میر تقی میر

کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے

دیوان اول غزل 584
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ
تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا
ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے
پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی
چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم
کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختررز آفت
کیا پیرمغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
خونریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں
کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی
جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
ان مغبچوں میں زاہد پھر سرزدہ مت آنا
مندیل تری اب کے ہم نے تو بچالی ہے
کیا میر تو روتا ہے پامالی دل ہی کو
ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
میر تقی میر

الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں

دیوان اول غزل 352
کہے ہے کوہکن کر فکر میری خستہ حالی میں
الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہوکر خاک سے سرزد
یکایک آگیا اس آسماں کی پائمالی میں
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے
سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ
تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگہ
پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خورد سالی میں
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا
نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا
ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے
بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس میناے خالی میں
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے
یہی تو میر اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
میر تقی میر

پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 352
جنگلوں میں شہر در آئے ہیں خوشحالی لیے
پیڑ گملوں میں سمٹ جائیں گے ہریالی لیے
میری دَھرتی جس پہ برسوں سے گھٹا برسی نہیں
آسماں کو تک رہی ہے کاسۂ خالی لیے
ذہن پر اندیشے اولوں کی طرح گرتے ہوئے
آرزوئیں کھیت کے سبزے کی پامالی لیے
بستیوں پر روشنی کے چند سکّے پھینک کر
ایک بادل جا رہا ہے چاند کی تھالی لیے
شاعروں کو روز البیلے خیالوں کی تلاش
جیسے بچے تتلیوں کی کھوج میں جالی لیے
عرفان صدیقی

اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے سارا منظر خالی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 302
دل کی زمیں تک روشنیاں ہیں، پانی ہے، ہریالی ہے
اس کے آگے کچھ بھی نہیں ہے سارا منظر خالی ہے
اگلے تو یہ بام و در و محراب بناکر چھوڑ گئے
میرا مقدر گرتی ہوئی دیواروں کی رکھوالی ہے
قیس گیا فرہاد گیا اب جو چاہو اعلان کرو
یارو کس نے جنگل دیکھا، کس نے نہر نکالی ہے
عرفان صدیقی

اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 199
مال کیا پاس ترے ہمت عالی بھی نہیں
اتنا خالی تو مرا کاسۂ خالی بھی نہیں
سرِ شوریدہ کو تہذیب سکھا بیٹھا ہوں
ورنہ دیوار مجھے روکنے والی بھی نہیں
خیمۂ شب میں عجب حشرِ عزا برپا ہے
اور ابھی رات چراغوں نے اجالی بھی نہیں
اور ہی شرط ہے پرواز کی، دیکھا تم نے
اب تو وہ مسئلۂ بے پر و بالی بھی نہیں
رات دن شعروں میں تمثال گری کرتا ہوں
طاقِ دل میں کوئی تصویر خیالی بھی نہیں
نقشِ پا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے
ہم نے ایسی تو کوئی راہ نکالی بھی نہیں
عرفان صدیقی

گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 356
یہی بس چار نعتیں تھیں جو سینے پر سجالی ہیں
گرہ میں اعترافِ جرم ہے اور ہاتھ خالی ہیں
وہی تیرا تمدن ہے بنو ہاشم کی گلیوں میں
امیہ کے نسب نے تازہ تہذیبیں بنا لی ہیں
ترؐے مذہب میں گنجائش نہیں تھی زرکی سو ہم نے
گھروں سے اشرفیاں ، شام سے پہلے نکالی ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے مدینہ آنے والا ہے
لبوں پر کپکپاہٹ ہے یہ آنکھیں رونے والی ہیں
نگاہیں دیکھتی تھیں کتنے سچے خواب یثرب کے
یہ پہچانے ہوئے گھر ہیں یہ گلیاں دیکھی بھالی ہیں
وہی لاہوتی کیفیت اترتی ہے رگ و پے میں
وہی نوری فضائیں ہیں وہی صبحیں نرالی ہیں
کوئی قوسِ قزح سی بھر گئی منصور آنکھوں میں
حریمِ رحمتِ عالم کے کیا رنگِ جمالی ہیں
منصور آفاق